ستائیسویں ترمیم اور تارکین وطن؟

ایک ٹیلی ویژن کے پروگرام میں مجیب الرحمن شامی صاحب کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ ”پارلیمنٹ کو دستور میں ترمیم لانے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور اس اختیار پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں“قارئین اس سلسلے میں میرے بھی وہی خیالات ہیں جو شامی صاحب کے ہیں، پارلیمنٹ کے کسی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی اگر کسی کو اس ترمیم پر اعتراض ہو گا تو وہ کل کلاں کو پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے نئی ترمیم سے اسے ختم یا اس میں اضافہ کر سکتا ہے،میں کینیڈا میں ہوں اور27ویں ترمیم کے متعلق تارکین وطن کی باتیں سن رہا ہوں،ان کے جوابات کے ساتھ ساتھ اپنی رائے بھی دے رہا ہوں، میرے خیال میں پاکستان میں آئینی ترامیم کا سلسلہ کبھی رُکتا نہیں اور ضرورت کے وقت یہ رُکنا بھی نہیں چاہئے، البتہ ہر ترمیم کا اپنا ایک تناظر ہوتاہے، ستائیسویں ترمیم بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے،کچھ ہی عرصے میں اس ترمیم کے فوائد اور نقصانات سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔

یہ ترمیم اب آئین پاکستان کا اسی طرح حصہ ہے،جیسے اس ترمیم سے قبل ہونے والی ترامیم آئین کا حصہ بنی تھیں، مگر ابھی تک اس پر ہونے والی بحث بہت وسیع ہے، کوئی اسے ملکی سمت درست کرنے کا اقدام قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے جمہوری ڈھانچے میں ایک اور معنی خیزتبدیلی کہہ رہا ہے، کوئی یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ یہ ترمیم آخر کس کے لئے ہے؟ عوام کے لئے یا طاقت کے نئے مراکز کے لئے؟

کینیڈا اور دوسرے ملکوں میں بسنے والے پاکستانیوں میں تو اس ترمیم سے پہلے ہی بڑی سراسیمگی چھائی ہوئی تھی کہ شائد تارکین وطن کی اکثریت سے دوہری شہریت رکھنے کا حق ہی نہ چھین لیا جائے،اس ترمیم سے پہلے ایسی باتیں سنی جا رہی تھیں،مگراس ترمیم کے بعد انہوں نے اس حد تک تو سکون کا سانس لیا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے دوہری شہریت رکھنے کے معاملہ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا۔

ستائیسویں ترمیم کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ آئینی اصلاحات کا تسلسل ہے، حکومت کے مختلف شعبوں میں توازن، احتساب کے عمل میں تیزی اور ریاستی سوچ میں ہم آہنگی کے لئے ضروری قدم تھا وہ اسے ”وقت کی ضرورت“ کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ آئین میں کچھ ابہام اور خلا ایسے تھے جو قومی فیصلوں میں رکاوٹ بنتے تھے، لیکن ترمیم کے مخالفین کا خیال اس کے برعکس ہے ان کے مطابق اس ترمیم سے ایک ایسا دروازہ کھول دیا گیا ہے جس سے اقتدار کے اندر اقتدار مزید مضبوط ہو گیا ہے،وہ اسے جمہوری اداروں کی کمزوری بھی کہ رہے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی آئینی ترمیم کا مقصد ہمیشہ دو قسم کا ہوتا ہے یا تو اس سے طاقت کا بہاؤ بدلا جاتا ہے یا اختیار کی نئی سمت متعین کی جاتی ہیں،ستائیسویں ترمیم بھی اسی کشمکش کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔

اس ترمیم پر سب سے زیادہ سوال پارلیمان کی بالادستی کے حوالے سے اُٹھ رہے ہیں،کیا واقعی اس سے پارلیمان مضبوط ہوگی؟ یا پھر صرف دستاویزی طور پر کچھ شقوں کا رنگ و روپ بدلے گا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمان اس وقت بھی آزاد اور خودمختار نہیں، آئین میں الفاظ کی تبدیلی سے کیا بدلے گا؟ جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہو گی،جب تک فیصلے اجلاسوں میں نہیں بلکہ چند لوگوں کے درمیان ہوں گے تب تک ترامیم صرف آئین کی شان ہی بڑھائیں گی۔ترمیم کے مخالفین کا یہ بھی موقف ہے کہ اصل چیلنج آئینی ابہام نہیں بلکہ عملی نظام ہے، آئین میں پہلے بھی اداروں کا کردار واضح ہے مگر عملی سیاست میں یہ حدود کبھی کم ہوتی ہیں کبھی پھیلتی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر ترمیم ”اصلاح“ کے نام پر آتی ہے مگر دیرپا حل کبھی سامنے نہیں آتا،کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ ستائیسویں ترمیم اس تاثر کو مزید مضبوط کرے گی کہ طاقت ایک دائرے سے نکل کر دوسرے دائرے میں منتقل ہو رہی ہے۔

آئینی ترامیم کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش اوورسیز پاکستانیوں کے حلقوں میں پائی جاتی ہے، گزشتہ چند برسوں میں ان کے ووٹ کے حق، ان کی شہریت اور ان کی سیاسی شراکت داری پر کئی فیصلے ہوئے، کبھی حق دیا گیا، کبھی واپس لیا گیا، ستائیسویں ترمیم کے تناظر میں بھی اوورسیز کمیونٹی کا سوال بہت اہم ہے کہ ”ہم ملک کو سالانہ اربوں ڈالر بھیجتے ہیں، معیشت کا آکسیجن ہم ہیں، مگر فیصلہ سازی کے وقت ہمیں ہمیشہ باہر کھڑا رکھا جاتا ہے۔“وہ سمجھتے ہیں کہ ترمیم سے پارلیمان یا آئینی اداروں میں ان کی نمائندگی مزید غیر یقینی ہو گئی ہے،وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر حکومت واقعی آئینی اصلاحات چاہتی ہے تو سب سے پہلے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کی شمولیت کو آئینی حصار میں لانا چاہئے،لیکن افسوس،ہر ترمیم طاقت کے اندر طاقت کے تصور کے گرد گھومتی ہے جبکہ اوورسیز پاکستانی ہمیشہ ”بعد میں دیکھیں گے“ کی فہرست میں ڈال دیئے جاتے ہیں،یہ رویہ ان کے اندر مایوسی پیدا کر رہا ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ ”ہم پاکستا ن کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں،لیکن ہمارے ووٹ اور آواز کو ہمیشہ سیاسی موسموں کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے“۔اس ترمیم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم ہمیشہ سیاسی فضاء کے مطابق لکھی جاتی ہیں، قومی مفاد کے مطابق نہیں،مہنگائی، بیروزگاری، ریاستی ڈھانچے کی کمزوری، عدالتی عمل کا سست ہونا، بیوروکریسی میں خوف اور بے یقینی، اور سب سے بڑھ کر اداروں کے درمیان طاقت کی مسلسل کھینچا تانی کیا اس ترمیم سے کم ہو جائے گی؟

میرے خیال میں پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم آئین پر بات تو بہت کرتے ہیں مگر آئینی مکالمہ نہیں کرتے، پارلیمان میں اس پرحقیقی بحث ہوتی ہے نہ سیاسی جماعتوں میں،ہرترمیم کی طرح ستائیسویں ترمیم بھی ایک ایسے پردے میں لپٹی ہوئی ہے جہاں دعوے بہت زیادہ ہیں،دوسری طرف دیکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ اس ترمیم سے عوام کے لئے کچھ بدلنا چاہئے، پاکستان کے شہری اب یہ بھی کہ رہے ہیں کہ ترمیم کے بعد عام آدمی کی زندگی میں بہتری آنی چاہئے؟بجلی کے بل کم ہونا چاہئیں،اب عدالتیں تیز فیصلے دیں،پولیس کا رویہ بھی بدلانظر آئے، پارلیمان واقعی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو،اگر ان سوالوں کے جواب ”نہیں“ میں ملیں تو پھر یہ ترمیم بھی انہی درجنوں ترامیم کی طرح ثابت ہو گی،جو پہلے عوامی مسائل کا حل نہیں نکال سکیں۔

میرے خیال میں اس ترمیم کے بعد بھی سیاسی اور جمہوری قوتوں کے درمیان بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہئے،پاکستان میں ایک مکمل ریاستی فریم ورک کی ازسرنو ترتیب کی بھی ضرورت ہے، اگر ستائیسویں ترمیم سے یہ فریم ورک بہتر ہوتا ہے تو یہ ترمیم خوش آئند ہے ورنہ اسے آئینی پیوندکاری سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکے گا،اس وقت ملک کو ایک واضح سمت، مضبوط سیاسی اتفاقِ رائے کی سخت ضرورت ہے، ورنہ سچ یہ ہے کہ عدالتی تاریخوں پر تاریخ کی طرح ترمیم پر ترمیم تو آتی رہے گی، مگرنظام نہیں بدلے گا۔