نیویارک(نمائندہ خصوصی)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور ریاستی دہشتگردی قرار دیا۔
ایرانی مندوب نے کہا”اسرائیل نے امریکی پشت پناہی سے ایران کے متعدد مقامات پر حملے کیے جن میں خواتین و بچوں سمیت78 شہری شہید ہوئے۔ رہائشی علاقوں کے ساتھ ساتھ نطنز کی ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے جو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔حملوں کے تابکاری اثرات کو روکنا ممکن نہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ”یہ حملے نہ صرف یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی کا ثبوت بھی ہیں۔”
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اجلاس میں کہا”اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کیلئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔”انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر پُرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ “علاقے کو جنگ کی طرف نہیں بلکہ سفارتی حل کی طرف لے جانا چاہیے۔”
چین، روس، الجزائر نے بھی ایران کے دفاع میں مؤقف اپناتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کو غیر قانونی اور خطرناک قرار دیا۔
امریکہ کی مستقبل مندوب ڈوروتھی شیا نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے حملے سے قبل امریکا کو مطلع کیا تھا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات یا تنصیبات پر حملہ کیا تو “نتائج بھیانک ہوں گے”۔
روسی مندوب کا کہنا تھا”اسرائیل خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے بروقت مداخلت نہ کی تو مشرق وسطیٰ شدید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔”
اقوام متحدہ کے اجلاس میں کئی اراکین نے مطالبہ کیا کہ فریقین فوری جنگ بندی پر آمادہ ہوں۔اقوام متحدہ کی قیادت میں تحقیقات کی جائیں۔اسرائیلی حملوں پر عالمی احتساب عمل میں لایا جائے۔

