سندھ اور پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار، سیکڑوں مکانات تباہ، ہزاروں ایکڑ فصلیں بہہ گئیں

لاہور/کراچی (نمائندہ خصوصی) سندھ اور پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث سیکڑوں کچے مکانات دریا برد ہوگئے ، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

بہاولنگر میں دریائے ستلج کے مقام گنڈاسنگھ پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ ریسکیو ٹیموں نے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 28 سالہ کاشف اور 7 سالہ نوید کی لاشیں نکال لیں۔

ادھر سیالکوٹ کے نالہ ڈیک میں بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، جہاں پانی قریبی دیہات میں داخل ہو کر سیکڑوں ایکڑ پر کاشت شدہ فصلوں کو تباہ کر گیا۔

رحیم یار خان میں دریائے سندھ اور دریائے چناب میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 400 سے زائد کچے مکانات منہدم ہوگئے جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوئی۔ وہاڑی اور لیہ کی تحصیل کہروڑ لعل عیسن میں بھی بستیاں زیر آب آگئیں اور دریا میں کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

گھوٹکی میں دریا کی سطح بلند ہونے سے کچے کے دیہات اور کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں، جب کہ عارضی حفاظتی بند ٹوٹنے سے مزید علاقے ڈوب گئے۔ دریائے سندھ پر گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافے کے بعد کشمور میں اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

دریں اثنا، پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے جہلم، چناب، راوی، ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 26 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تونسہ، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ اسی طرح نارووال کے نالہ بسنتر میں بھی نچلے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار ہے۔

حکومتِ پنجاب نے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں متاثرین کو رہائش، ادویات اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں