برن، تہران(ایجنسیاں)سوئٹزرلینڈ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔ سوئس وزارت خارجہ کے مطابق وزارت خارجہ کے محکمہ بین الاقوامی سلامتی کے سربراہ گیبریل لچنگر نے ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے رکن علی لاریجانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں کمی کے لیے مدد کی پیشکش کی گئی۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد کرمی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔ تہران سے جاری بیان میں بریگیڈیئر جنرل محمد کرمی نے کہا کہ ایران کو ایک جامع اور ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے اور مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ادھر برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن کے ساتھ ہنگامی مذاکرات کیے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ فوجی کارروائی موخر کرنے پر آمادہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے مؤقف اختیار کیا کہ تہران کو اپنے ’’اچھے عمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ ایرانی مظاہرین سے یہ کہہ چکے تھے کہ ’’مدد راستے میں ہے‘‘، تاہم بدھ کی رات انہوں نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ممکنہ حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا کہ ایران میں ہلاکتوں میں کمی آ رہی ہے۔

