پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں جو بھی اقتدار میں آتا ہے، اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے اُسے دونوں ہاتھوں سے لوٹا جائے، ،، اس کے لیے جتنی دولت سمیٹ سکتے ہیں سمیٹ لیں،،، اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہےں،،،جبکہ عوام ایک بار نہیں سو بار دھوکہ کھانے کے بعد بھی انہیں مسیحا سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال اس طرح لے لیں کہ جب پیپلزپارٹی کی حکومت آتی ہے تو وہ اپنی حکومت میں بسا اوقات کسی ایک مخصوص شے پر درآمدی ڈیوٹی ختم کر دیتی ہے،،، پھر جب پورٹس پر جہاز کے جہاز سامان اُتار کر واپس چلے جاتے ہیں تو پھر دوبارہ ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے، ایسا کرنے سے ملکی خزانے کو اربوں کا نقصان اور مخصوص طبقے کو اربوں کافائدہ ہو جاتا ہے،،، اسی طرح ن لیگ کو دیکھ لیں اُس نے بڑے بڑے ٹھیکے اُٹھانے ہوتے ہیں،،، جس میں انہیں کمیشن ملتا ہے،،، ان میں موٹرویز سے لے کر گلی محلوں کی سڑکوں تک سبھی میں کرپشن کی نئی نئی داستانیں ملتی ہیں۔ الغرض یہ دونوں جماعتیں ایسے ایسے پراجیکٹس کا آغاز کرتی ہیںکہ جن کا عوام کی فلاح سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اور نہ ہی اُنہیں کسی طرح سے ہنر مند بنانے کا کوئی عمل دخل ہوتا ہے،،، لیکن اُس کی تشہیر ایسے کی جاتی ہے کہ جیسے عوام کے حالات اب درستگی کی طرف چلے جائیں گے،،، جبکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں غربت میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے۔۔۔
خیر یہ تو الگ بحث ہے مگر اب آپ کود دیکھیں کہ اسی قسم کا ایک اور پراجیکٹ ”سولر انرجی“ کے نام سے شروع کیا گیا جس میں حکومت نے شمسی توانائی کو فروغ دینے کا نعرہ لگایا تو لوگوں نے اسے بھی ایک امید کی کرن سمجھ لیا۔ سرکاری اشتہارات، تقاریر اور پالیسی بیانات میں بار بار کہا گیا کہ سولر سسٹم لگائیں، قومی گرڈ پر بوجھ کم کریں، ماحول دوست توانائی اپنائیں اور اپنے بجلی کے بل کم کریں۔ یوں محسوس ہوا جیسے ریاست خود عوام کو توانائی میں خود کفالت کی طرف لے جا رہی ہے۔پھر اس میں ایک اور لالچ بھی دیا گیا کہ ”نیٹ میٹرنگ“ پالیسی بھی متعارف کروا دی گئے،،، جسے ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا۔ شہریوں کو یقین دلایا گیا کہ اگر وہ اپنے گھروں یا دفاتر کی چھتوں پر سولر پینل لگائیں گے تو اضافی بجلی قومی گرڈ کو بیچ سکیں گے۔ اس یقین دہانی نے متوسط طبقے کو بڑی تعداد میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی نکالی، زیور بیچے، بینکوں سے قرض لیے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے سولر سسٹم لگوا لیے۔ ان کا خیال تھا کہ چند سال میں لاگت پوری ہو جائے گی اور پھر بجلی تقریباً مفت ملے گی۔یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب حکومت مسلسل بجلی کے نرخ بڑھا رہی تھی۔ ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بلوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایسے ماحول میں سولر سسٹم نہ صرف معاشی طور پر فائدہ مند نظر آیا بلکہ ایک طرح کی مزاحمت بھی بن گیا،عوام نے سوچا کہ جب ریاست سستی بجلی دینے میں ناکام ہے تو ہم خود اپنی بجلی پیدا کریں گے۔
لیکن اُن کے ساتھ ایک بار پھر دھوکہ ہوگیا۔ جب ہزاروں گھرانوں اور کاروباری اداروں نے سولر سسٹم نصب کر لیے اور نیٹ میٹرنگ کے تحت گرڈ کو بجلی دینا شروع کی تو اچانک پالیسی پر نظرِ ثانی کی باتیں ہونے لگیں۔” نیٹ بلنگ“ کا شوشہ چھوڑا گیا، جس کے تحت صارف کو دی جانے والی قیمت کم اور گرڈ سے لی جانے والی بجلی مہنگی رکھی جائے گی۔ یوں وہی شہری جو کل تک ”قومی خدمت“ کر رہے تھے، آج بوجھ بن گئے۔سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کو شروع سے اندازہ تھا کہ نیٹ میٹرنگ مالی طور پر پائیدار نہیں تو پھر عوام کو اس قدر پرجوش کیوں کیا گیا؟ کیا پالیسی سازی محض وقتی سیاسی فائدے کے لیے کی جاتی ہے؟ توانائی جیسے حساس شعبے میں تسلسل اور اعتماد سب سے اہم عناصر ہوتے ہیں۔ جب ریاست خود اپنی پالیسیوں پر یوٹرن لے تو سرمایہ کار اور عام شہری دونوں عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ قوم کس کے پاس جائے؟ پوری عدلیہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ ایکشن لے سکیں، بلکہ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے تو ویسے ہی سوموٹو ختم کر دیا گیا ہے۔ کیوں کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری ۔ مطلب! کورٹس تو بس کینگرو کورٹ ہی رہ گئی ہیں، ججز محض تنخواہیں اور مراعات لینے کے لیے رہ گئے ہیں،،، پھر پوری کی پوری اپوزیشن اس وقت عمران خان کی بیماری کے حوالے سے اپنی تمام تر توانائیاں ضائع کر رہی ہے،،، اور سرکا ر ہے کہ اُس سے ملاقاتوں پر پابندیاں لگا کر اور خان کے ہیلتھ ایشوز بنا کر سب کا دھیان بٹائے ہوئے ہے،،، اور رہی بات عوام کی تو وہ ویسے ہی ڈرے سہمے بیٹھے ہیں،،، ہارڈ اسٹیٹ بننے کی وجہ سے کوئی باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے، سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں،،، کیا یہ بلنڈرنہیں ہے؟ بلکہ اگر کوئی سمجھے یا محسوس کرے تو یہ بہت بڑا جرم ہے،،،اگر کوئی اس سے انکاری ہے تو اُس سے پوچھا جائے کہ کس نے خود ترکی سے اسٹاک منگوائے،،، اور مہنگے داموں عوام کو بیچے ہیں؟ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو پھر آپ تردید کریں،،، اور اگر کسی نے اس کی مہم چلائی ہے تو سرکار اُس کی نشاندہی کرے ،،، اور اُسے کٹہرے میں لائے،،، اور پھر وہ سب سے معافی مانگے۔ کیوں کہ اس وقت پاکستان کے آدھے سے زیادہ عوام سولر پینل خرید کر انسٹال کروا چکے ہیں،،، اور کم و بیش ایک ایک گھر میں 20،20لاکھ روپے ،،، 30،30لاکھ روپے کے سولر سسٹم لگا ئے گئے ہیں،،، اور کئیوں نے تو کروڑوں روپے اس پر لگا دیے ہیں،،، یوں کہ سرکار نے انہیں لالی پاپ دیا تھا کہ سب کچھ یہی ہے،،، مستقبل اسی کا ہی ہے،،، پھر ایسی باتیں کر کے سولر بیچنے والوں نے اربوں ، کھربوں روپے کمائے۔ لیکن بعد میں حکومت نے اس سے withdraw کر لیا، لہٰذابتایا جائے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ پھر فکس چارجز بھی لگا دیے ہیں،،، جس سے ماہانہ اربوں روپے اکٹھے ہوں گے،،،

