سویڈن میں پاکستانی اوبر ڈرائیوروں کا فراڈ نیٹ ورک بے نقاب

سویڈن میں پاکستانی اوبر ڈرائیوروں کا فراڈ نیٹ ورک بے نقاب، مقامی میڈیا کے مطابق 29 سالہ پاکستانی اوبر ڈرائیور فائنینشل فراڈ نیٹ ورک کا سرغنہ قراردیاجارہاہے۔

سویڈن میں ایک بڑے پیمانے پر مالیاتی فراڈ کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں پاکستانی نژاد اوبر ڈرائیور مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک 29 سالہ پاکستانی اوبر ڈرائیور کو اس نیٹ ورک کا سرغنہ قرار دیا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق، یہ گروہ مختلف کاروباری فراڈ منصوبوں میں ملوث تھا جس میں بلیک میں تنخواہیں دینا اور بڑی رقمیں پاکستان منتقل کرنا شامل تھا۔ اس پورے معاملے میں تقریباً 1.8 ملین ڈالر کی رقم شامل ہے۔

ایک 29 سالہ پاکستانی اوبر ڈرائیور کو اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔ اس نے کئی پاکستانی شہریوں کے بینک آئی ڈی کا استعمال کیا اور خود بھی لاکھوں کرونر کی رقم لی۔ایک 54 سالہ پاکستانی شخص نے بھی اس نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے اوبر کی ڈچ کمپنی سے لاکھوں کرونر حاصل کیے اور اس رقم کو دوسری پاکستانیوں اور مختلف کمپنیوں کو منتقل کیا۔

سویڈن میں اوبر اور بولٹ کے ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بہت سے ڈرائیوروں کو ہفتے میں سات دن، 12 سے 13 گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔اس نیٹ ورک کے ذریعے کمائی گئی رقم کو پاکستان میں منتقل کیا جاتا تھا۔ملزمان نے ٹیکس چوری بھی کی اور کاروباری آمدنی کی کوئی ٹیکس گوشوارہ جمع نہیں کرایا۔پولیس نے اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی ہیں اور ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان پر سنگین مالیاتی جرائم اور سنگین فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کی سماعت 20 جنوری کو سولنا عدالت میں شروع ہوگی.

اپنا تبصرہ لکھیں