چند روز پہلے پیارے دوست خرم افتخار اور جاوید بھٹی کی دعوت پر فیصل آباد جانا ہوا،شادی اور عقیقے کی تقریبات تھیں مگر ان میں موضوع سخن فیصل آباد کے وہ نواحی علاقے تھے جو جرائم پیشہ اور خطرناک ڈاکووں کی وجہ سے رات کو علاقہ غیر بن جاتے تھے ،مگر اب وہاں امن و امان کی صورتحال اس قدر اچھی ہے کہ رات کے کسی بھی پہر ایک اکیلی عورت بھی سفر کر سکتی ہے ،آئس اور دیگر منشیات کا گڑھ کہلانے والے علاقے اب ناجائز فروشوں سے ایسے پاک ہو چکے ہیں جیسے یہاں کبھی کوئی نشہ بکتا ہی نہیں تھا ، اس کا کریڈٹ یقینی طور پر سی سی ڈی اور اس کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کو جاتا ہے ،اکثر پولیس افسروں کو لوگ جائز کاموں کے لئے رشوت دیتے تھک جاتے ہیں مگر سہیل چٹھہ کو لوگ دعائیں دیتے نہیں تھکتے ،ان کے ہم رینک ایک پولیس افسر نے مجھے کہا کہ،،سہیل چٹھہ کریز سے نکل کر کھیل رہا ہے ، کل کو اور حکومتیں بھی آنی ہیں پھر اس کا کیا بنے گا ؟ میں نے جواب دیا کہ جتنا اچھا کام وہ کر رہا ہے اسے اگلی حکومتیں یاد رکھیں نہ رکھیں ،اگلی نسلیں ضرور یاد رکھیں گی ۔
میں حیران ہو ں کہ پچھلے کئی سالوں سے پولیس اور امن و امان پر اربوں روپے لگانے سے بھی امن کی فاختہ ہاتھ نہیں آ رہی تھی مگر سی سی ڈی نے یہی کام مہینوں میں کر دکھایا ،لوگ پولیس سے نالاں مگر سی سی ڈی سے خوش کیوں ہیں؟ گزشتہ دو دہائیوں میں پولیس پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، اسکی نت نئی فورسز بنیں، خصوصی پیکیجز آئے، تھانے اپ گریڈ ہوئے، اسلحہ خریدا گیا، مگر اس سب کے باوجود عام شہری کے دل میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہا کہ کیا جرم کم ہوا ہے ؟ کیا منشیات، اغوا، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ اور منظم جرائم پر حقیقی قابو پایا جا سکا؟ اگر سچ کہا جائے تو جواب اکثر نفی میں ہی ملا،تاہم حالیہ مہینوں میں سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے دعووں اور بجٹ کے باوجود ممکن نہ ہو سکا، سی سی ڈی محض ایک اور پولیس یونٹ نہیں بلکہ یہ سوچ، حکمتِ عملی اور عملدرآمد کے اس نئے ماڈل کا نام ہے جس نے پنجاب میں جرائم کے خلاف جنگ کا رخ بدل دیا ہے، اس ادارے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ردعمل کے بجائے پیشگی کارروائی کو اپنی بنیاد بنایا اور یہی فرق اسے ماضی کی تمام کوششوں سے ممتاز کرتا ہے۔ پنجاب میں جرائم کا سب سے خطرناک پہلو منظم گینگز تھے ،وہ نیٹ ورکس جو صرف ایک واردات نہیں بلکہ پورے علاقے کو یرغمال بنائے رکھتے تھے ،پولیس ان پر ہاتھ ڈالتے ڈرتی تھی یا ان سے ملی ہوتی تھی ، سی سی ڈی نے ان گینگز کو انفرادی کارروائیوں کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے نشانہ بنایا، نتیجہ یہ نکلا کہ کئی بدنام زمانہ گینگز یا تو ختم ہو گئے یا ان کی کمر ٹوٹ گئی، ایسے جرائم پیشہ عناصر جو برسوں سے قانون کو چیلنج سمجھتے تھے، پہلی بار دباؤ میں آئے،سی سی ڈی کی کارروائیاں محض گرفتاریوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مالی نیٹ ورکس، سہولت کاروں، اور پناہ گاہوں تک پہنچیں، یہ وہ پہلو تھا جسے ماضی میں اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا، اور یہی وجہ تھی کہ جرائم بار بار سر اٹھاتے رہے۔ پنجاب میں منشیات کا مسئلہ محض ایک سماجی خرابی نہیں بلکہ ایک خاموش تباہی ہے جو نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے، اربوں روپے کے اینٹی نارکوٹکس دعووں کے باوجود منشیات کی سپلائی لائن کبھی مکمل طور پر نہیں ٹوٹی، سی سی ڈی نے اس مسئلے کو محض چھاپوں کے بجائے سپلائی چین کی سطح پر دیکھا، بڑے ڈیلرز، بین الصوبائی نیٹ ورکس اور اسمگلنگ کے راستے ، سی سی ڈی کی توجہ کا مرکز بنے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف منشیات کی بڑی بڑی کھیپ پکڑی گئیں بلکہ وہ لوگ بھی بے نقاب ہوئے جو پردے کے پیچھے رہ کر اس گھناؤنے کاروبار کو چلا رہے تھے، اکثر علاقوں میں منشیات کی دستیابی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی، جو کسی بھی فورس کی کامیابی کا سب سے بڑا عملی ثبوت ہے، خوف کی وہ فضا ختم ہوئی جو برسوں سے قائم تھی، وہ بستیاں جہاں لوگ تھانے جانے سے گھبراتے تھے، جہاں مجرموں کے نام سرگوشیوں میں لیے جاتے تھے، وہاں آج ریاست کی رِٹ محسوس کی جا سکتی ہے، یہ تبدیلی محض اسلحے یا نفری کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ غیر جانبدار، پیشہ ور اور بے خوف فیصلوں کا نتیجہ ہے، سی سی ڈی نے یہ پیغام واضح طور پر دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے،خواہ مجرم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔
ماضی میں پولیس کی سب سے بڑی کمزوری ناقص تفتیش سمجھی جاتی تھی، سی سی ڈی نے اس خلا کو جدید تفتیشی طریقوں، ڈیٹا اینالیسز اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے پُر کیا، جرم پر قابو پانے کا اصل امتحان صرف گرفتاری نہیں بلکہ قانونی انجام تک پہنچانا ہوتا ہےاور سی سی ڈی نے اس میدان میں بھی خود کو منوایا،یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ اگر سی سی ڈی نسبتاً کم وسائل میں بہتر نتائج دے سکتی ہے تو ماضی میں اربوں روپے کیوں ضائع ہوتے رہے؟ اس کا جواب شاید بجٹ میں نہیں بلکہ ترجیحات، نیت اور نظم میں پوشیدہ ہے، سی سی ڈی نے ثابت کیا کہ اگر سمت درست ہو، قیادت واضح ، احتساب موجود ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں، سی سی ڈی کی کامیابیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ پنجاب میں امن و امان کوئی ناقابلِ حل مسئلہ نہیں،ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس ماڈل کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے، ادارہ جاتی طور پر مضبوط کیا جائے اور اس کی پیشہ ورانہ آزادی برقرار رہے، اگر سی سی ڈی کو تسلسل کے ساتھ کام کرنے دیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب میں جرم عنقا ہو جائے گا، یہ ادارہ اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ درست حکمتِ عملی، مضبوط ارادہ اور بے لاگ عمل وہ نتائج دے سکتا ہے جو برسوں کے نعروں اور اربوں کے خرچ سے بھی حاصل نہ ہو سکے، پنجاب میں ایک طویل عرصہ سے جرائم پیشہ گینگ اور طاقتور ا فراد جو گل کھلاتے آ رہے تھے ، ان کے ساتھ ان ہی کے انداز میں نمٹنا بھی ضروری ہو چکا تھا، کیونکہ یہ گینگ اور مافیا اتنے طاقتور ہو چکے تھے کہ اپنی طاقت ،پیسوں اور تعلقات کے سبب سسٹم کو روند کر ایسے بچ نکلتے تھے ،جیسے ان سے بڑا حاجی ہی کوئی نہیں ؟ ریاست کو پولیس اور عدلیہ دونوں پر یکساں اعتماد بحال کرنا ہوگا، پولیس کو اپنی طاقت قانون کے تابع رکھنی ہے اور عدلیہ کو اپنی رفتار عوام کے قریب لانی ہے، تب ہی وہ وقت آئے گا جب شہریوں کو پولیس سے خوف ہوگا نہ مجرم سے بلکہ یقین ہوگا کہ انصاف زندہ ہے، قانون جاگ رہا ہے، ورنہ عام آدمی خوش ہے اور اس کے لئے سی سی ڈی کی کاروائیاں اطمینان کا باعث ہیں وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے علاقے میں سکون ہو،عزت ،مال اور جان سلامت رہے، بچے بلا خوف سکول اور بڑے اپنے کاروبار کے لئے جا سکیں۔

