سیاستدان کمزور ہیں، تبھی ملک کمزور ہے!

میرا بچپن دیہات میں گزرا، گاﺅں میں تقریباََ ہر گھر میں مرغیاں پالی جاتی ہیں، ہمارے گھر میں بھی یہ شوق پالا جاتا تھا، ان مرغیوں کو گھروں میں خاص اہمیت دی جاتی ہے، انہیں شاذ و نادر ہی ذبح کیا جاتا ہے۔ گاﺅں کے گھر اتنے کھلے ہوتے ہیں کہ وہاں صحن میں ہی یہ چہل پہل کر تی اور دانا چگتی رہتی ہیں،،، لیکن میں انہیں کبھی کبھار گھر سے باہر لے جایا کرتا، لیکن جب واپس آتا تو ایک آدھ مرغی یا مرغا غائب ہوتا، چوری شدہ مرغی کی تلاش کے دوران جب اس کے بال و پر مل جاتے تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری مرغی کو گھر کے آس پاس ہی ذبح کر دیا گیا ہے اور ہم مرغی چور کو کوس کر خاموش ہو جاتے۔ کئی سال کے بعدگاﺅں کے ایک دوست نے ہی ہنستے مسکراتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ اکثر ہماری مرغیاں چوری کر لیتا تھا اور جب ہم اپنی مرغی کے تلاش کیلئے بھاگ دوڑ شروع کرتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر مرغی تلاش کرتا اور مرغی چور کو خوب برا بھلا کہتا۔ مجھے اُس دوست کی بات پر بہت غصہ آیا ،،، لیکن یہ غصہ میں پی گیا،،، لیکن ایک اور بات پر بھی مجھے غصہ آیا کہ وہ ”مرغی چور “ صاحب بعد میں بیوروکریٹ بھی بنے اور 1997ءکے الیکشن میں ایک ضلع میں ایک بڑے سیاستدان کو دھاندلی سے الیکشن بھی جتوایا،،، اور ریٹائرمنٹ کے بعد ہم دوستوں کو پورا قصہ بھی سنایا کہ کس طرح تمام رات بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگا لگا کر ان کا سٹاف تھک گیا لیکن صبح ہونے سے پہلے پہلے وہ مینڈیٹ چوری کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مرغی چوری سے مینڈیٹ کی چوری کا سفر مکمل کرنے کے بعد یہ صاحب آئین و قانون کی بالادستی کے بہت بڑے علمبردار بنے ۔ اور سچی بات یہ ہے کہ اُن کا ایک بیٹا اس وقت سیاست میں بھی ہے،،، اور ایم پی اے کی سیٹ پر بھی رہا ہے۔ ویسے تو ہم دوستوں میں بات چیت کے دوران وعظ و نصیحت نہیں ہوتی، لیکن ”مرغی چور“ دوست اکثر قرآن و حدیث کے حوالے دیا کرتا تھا،،، تو میں یہی سمجھتا تھا کہ بیوروکریسی میں کسی کو الیکشن جتوانا یا ہرانا شاید مجبوری بھی ہو سکتا ہے،،، اس لیے اس میں میرے دوست کا قصور زیادہ نہیں ہوگا۔۔۔ لیکن جب سے اُس نے مجھے مرغی چوری کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ یقین مانیں وہ میرے دل سے اُتر گیا ہے،،، وہ دوست جب بھی مجھے کوئی اسلامی میسیج کرتا ہے، کوئی اخلاقی پوسٹ لگاتا ہے، یا کبھی کہیں وہ کوئی اچھی باتیں کرتا نظر آتا ہے تو یقین مانیں مجھے اپنی چوری شدہ مرغیاں یاد آجاتی ہیں،،، اور دل بے چین ہوجاتا ہے۔کہ یہ شخص باعث مجبوری کرپٹ نہیں بلکہ عادتاََ کرپٹ ہے۔۔۔ اور جسے کرپشن کی عادت ہو وہ اُس کی موت تک اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔
بس! یہی ہمارے سیاستدانوں کا بھی مسئلہ ہے،،، کہ اگر وہ کرپٹ ہیں، خواہ وہ عادتاََ ہیں،،، یا باعث مجبوری …. اُن کا نہ تو کوئی نظریہ ہو سکتا ہے، نہ کبھی وہ سیدھی راہ پر چل سکتے ہیں،نہ کبھی اُن سے ملک وقوم کی خدمت کی توقع کی جاسکتی ہے اور نہ کبھی وہ بہتر آئین سازی میں حصہ دار بن سکتے ہیں۔ اسی لیے آج ہمارے سیاستدان کمزور ہیں اور اُن پر وہ لوگ حاوی ہیں جن کا سیاست سے تو کوئی تعلق نہیں مگر انہوں نے سیاستدانوں کو اپنے گھر کے نوکر بنا رکھا ہے۔ تبھی ہم کبھی ملکی مسائل کے حل کے لیے ایک میز پر نہیں جمع ہوئے، جب بھی جمع ہوئے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہوئے،،، ابھی گزشتہ دنوں خبریں آئیں کہ مذاکرات ختم ہوگئے،،، پھرکل وزیر اعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کو کہہ دیا کہ آئیں دوبارہ مذاکرات کریں،،، اور اگر کمیشن بنانا ہے، تو 8فروری کے الیکشن کے ساتھ ساتھ 25جولائی2018ءکے الیکشن پر بھی کمیشن بنائیں، مطلب! یہ مان رہے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی انہوں نے اس لیے کی کہ 2018ءمیں ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی تھی۔ اور پھر جب ان کی یہ ہٹ دھرمیاں اور لڑائیاں فیصلہ کرنے دیکھتے ہیںتو پھر ہم خود ان کو موقع دیتے ہیں کہ آئیں! اور ہمارے فیصلے کریں۔ کبھی ہم اس کے لیے عدالتوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، ،، کبھی مقتدرہ کو تو کبھی دوست ممالک سے مدد مانگ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر مجال ہے کہ یہ ایک دوسرے سے مدد مانگیں۔
اور ان کی یہ آپسی لڑائی آج کی نہیں بلکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح جب وفات پا گئے تو اُس کے بعد سے ہی ہمارے سیاستدانوں نے آپس میں لڑنا شروع کردیا۔ پاکستان قائم ہونے کے بعد پہلے دس سال میں سات وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ پاکستان بنانیوالی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور سیاستدانوں کی اس رسہ کشی کافائدہ اٹھا کر 1958ءمیں جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ پہلے مارشل لانے پاکستان کو اتنا کمزور کر دیا کہ دوسرے مارشل لا کے دور میں قائد اعظم کا پاکستان ٹوٹ گیا۔ 1947ءسے 1971ءکے دوران 24سال میں دو آئین لائے گئے۔ 1956ءکا آئین وفاقی پارلیمانی نظام کا نمائندہ تھا۔ 1962ءکا آئین پاکستان میں صدارتی نظام لایا۔ دونوں آئین فوجی ڈکٹیٹروں نے توڑ دیئے۔ 1973ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک تیسرا آئین منظور کیا گیا ۔ چند سال کے بعد ایک اور مارشل لا آگیا۔ پاکستان کے متفقہ آئین اور ایٹمی پروگرام کے بانی کو سپریم کورٹ کے ججوں کی ملی بھگت سے پھانسی دیدی گئی۔ اسکے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے سیاستدانوں کو جیلوں میںبند کرنے اور نااہل قرار دینے کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔
آج پاکستان دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے لیکن اس ایٹمی طاقت کی خود مختاری کا یہ عالم ہے کہ آج پاکستان کا وفاقی بجٹ وزارت خزانہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف بناتی ہے۔ آئی ایم ایف کو اپنے قرضوں کی واپسی سے غرض ہے اور حکمران اشرافیہ کو عوام کی نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کی فکر ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان تو پہلے ہی پاکستان سے بھاگ رہے تھے اب کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ تنخواہ دار طبقے پر اتنے زیادہ ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں کہ وہ گروپوں کی صورت میں پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔ اور وزیر اعظم کو سمجھ نہیں آرہا کہ اس کو کس طرح کنٹرول کیا جائے، اسی لیے انہوں نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہی اُڑا دیا ہے، ،،
بہرحال یہ درست ہے کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ناصرف سیاست بلکہ عدلیہ کے معاملات بھی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں،،، اور جن پر ہم تکیہ کیے بیٹھے ہیں وہ سبھی کسی نہ کسی طرح اپنے اپنے دور کے مرغی چور ہیں،،، نہ وہ کبھی کسی کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، نہ کبھی کسی کے سامنے ڈھنگ کی بات کرتے ہیں، اور نہ ہی انہیں یہ کام آتا ہے۔ اور جب آپ کو کوئی کام نہ آتا ہو تو پھرآپ خود ”مداخلت“ کو دعوت دیتے ہیں،،، نہیںیقین؟ تو آپ خود دیکھ لیکن کہ اصغر خان کیس میں پیپلزپارٹی کو 1990ءکے انتخابات میں شکست دینے کیلئے نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کو رقم دینے کے شواہد سامنے آئے۔ فیض آباد دھرنا کیس کی ”کارروائی“ سب کے سامنے ہے، لیکن بعد میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے مقتدرہ کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ 2019ءمیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینے میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر اہم جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔ آج پاکستان کو جن پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے ان میں سے اکثر جنرل باجوہ کے خبط عظمت کا نتیجہ ہیں لیکن ان مسائل کی اصل ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں کے کمزور قائدین پر ہوتی ہے،،، جنہیں خود تو کوئی فیصلے کرنے نہیں آتے بلکہ یہ اپنے فیصلے کروانے میں زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں۔
بہرکیف سیاسی جماعتوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے سیاست میں مقتدرہ کی مداخلت کا راستہ خود ہموار کیا۔ 1954ءمیں ایک سیاسی حکومت اپنے حاضرسروس آرمی چیف ایوب خان کو وزیر دفاع بنا کر کابینہ میں شامل نہ کرتی تو شاید جنرل ایوب خان کو سیاست کا چسکا نہ لگتا اور وہ 1958ءمیں اسکندر مرز ا کے ساتھ مل کر اقتدار پر قبضہ نہ کرتے۔ سیاسی قائدین کے کمزور ہونے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں،،، سیاسی جماعتوں کے کمزور ہونے سے پاکستان کمزور ہوا۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مضبوط نہیں کیا۔ تمام بڑی جماعتوں کے عہدیداران بلامقابلہ انتخاب کے ذریعہ قرار پاتے ہیں۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر 8فروری 2024ءکے انتخابات سے قبل تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کیا گیا حالانکہ باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب کی روایت موجود ہے۔ ہمارے سیاستدان عوام کی طاقت سے اقتدار حاصل کرنے کے بجائے خفیہ راستوں سے اقتدار حاصل کرنے کے عادی بنتے گئے لہٰذا یہ سیاستدان آپس میں بات کرنے کی بجائے ”اُن“ سے مشاورت کو سانس لینے کی حد تک ضروری سمجھتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی کمزوری کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کی قیادت عوامی حقوق کیلئے جدوجہد کی بجائے پاور پالیٹکس کی اسیر بن چکی ہے۔ ان جماعتوں کی طاقت ان کا منشور نہیں بلکہ کچھ شخصیات ہیں جو اگلے پانچ سے دس سال میں زائد المیعاد ہو جائیں گے۔ نوجوان قیادت بھی پاور پالیٹکس کے راستے پر چل رہی ہے اور اسی لئے پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے جو انتخابی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کو سوچنا چاہیے کہ چند ہزار افراد کا جلسہ کرنے کیلئے انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں لیکن منظور پشتین اور ماہ رنگ بلوچ معمولی خرچے سے بڑے بڑے جلسے کیسے کر لیتے ہیں حالانکہ انہیں قومی میڈیا پر کوریج بھی نہیں ملتی۔ پاکستان ایک سیاسی جماعت نے بنایا تھا۔ پاکستان کو صرف سیاسی جماعتیں بچا سکتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی بقا کیلئے پاور پالیٹکس چھوڑنی ہوگی۔ورنہ ہم ”اُن“ کی سیاست اور ذاتی مفادات کی حکمت عملیوں سے کبھی باہر نہیں آسکیں گے!

اپنا تبصرہ لکھیں