سیلاب، کالا باغ ڈیم اور سیاستدان۔۔

پاکستان کو غیر معمولی بارشوں اور گلیشیرز کے پگھلنے سے سیلابوں کا سامنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی سیاستدان جن کا ”ویژن اپنی ناک“ سے آگے نہیں ہوتا سوائے سیاسی بیانات کے اور کچھ نہیں کرتے۔ ہر سال ہونے والے اس نقصان سے بچنے کے لئے کوئی پلاننگ نہیں کرتے۔ البتہ اپنے ووٹرز اور فالورز کو خوش کرنے والے بیان دیتے رہتے ہیں۔یہی صورتحال موجودہ سیلاب کے بعد ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے حیران کن طور پر سیاسی اشرافیہ، ہاؤسنگ مافیا،اعلیٰ افسروں کو سیلاب سے ہونے والی تباہی کا تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور تجاوزات کرنے والوں کے خلاف انکوائری کا اعلان کیا ہے،لیکن اچانک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو کوئی ”پریشانی لاحق ہو گئی“۔ شاید انہوں نے سوچا خواجہ آصف کے پی کے میں دریاؤں کے کنارے قبضے کرنے والوں،ہوٹل بنانے والوں، بستیاں بسانے والوں کے خلاف بھی انکوائریاں شروع کروا دیں گے۔لہٰذا انہوں نے فوری طور پر ایک ایسا بیان داغا جس کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اسے غلط وقت پر ”اعلانِ حق“ کہا جا سکتا ہے۔ علی امین نے کالا باغ ڈیم بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ کے پی کے کے وزیراعلیٰ کی طرف سے ایسا بیان سن کر حیرانی ہوئی کہ وہ صوبہ جہاں سے ہمیشہ کالا باغ ڈیم کے خلاف آواز بلند ہوئی وہاں کوئی ایسی آواز موجود ہے جو اس ملک اور قوم کے مفاد میں بات کر سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم یقینا پاکستان اور اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے ایک ”سپر ڈیم“ہے،جس کی تعمیر سے یقینا چاروں صوبوں کو فائدہ ہو گا، لیکن بدقسمتی سے اس کی تعمیر پر پیپلز پارٹی، اندرون سندھ کے قوم پرستوں اور عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ بیان بازی کی اور اسے متنازعہ بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج 50 سال میں بھی یہ ڈیم نہیں بن سکا۔ وہ ڈیم جسے تربیلا اور منگلا ڈیم سے پہلے بنایا جانا تھا۔ آزادی کے 78 سال گزرنے کے باوجود کسی حکومت کو اس ڈیم کی تعمیر کی ”آزادی یا اجازت“ نہیں ملی۔ یہ درست ہے کہ سیلاب پنجاب کے تین دریاؤں ستلج، راوی اور چناب میں آیا، جس نے پہلے پنجاب میں بستیوں کی بستیاں ڈبو دیں اور اب سندھ کی باری ہے۔ پنجاب میں ان تینوں دریاؤں پر کوئی ایسا ڈیم نہیں بنایا جا سکتا جہاں پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے کیونکہ یہ دریا بھارت سے پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوتے ہیں اور پورا پنجاب اور سندھ پار کر کے سمندر میں جا گرتے ہیں۔ البتہ ان دریاؤں کا پانی بیراج بنا کر نہروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ دریاؤں کی گزرگاہوں کے ساتھ بڑی بڑی جھیلیں بنا کر پانی کو وہاں جمع کیا اور سمندر میں گرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن ڈیم نہیں بنائے جا سکتے کہ ڈیم بنانے کی ”سائٹ پہاڑی علاقوں“ میں ہوتی ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ایک متنازعہ ڈیم کا مسئلہ اس وقت چھیڑنے کا مقصد کیا ہے۔

علی امین گنڈا پور نے کوئی غلط بات نہیں کی انہوں نے تو صرف یہی کہا ہے کہ پاکستان اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے کالا باغ ڈیم ضروری ہے، یہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کالا باغ ڈیم پر صوبوں کے تحفظات دور کیے جا سکتے ہیں، صوبائیت کے چکر میں پاکستان کو نقصان مت پہنچائیں، سب کو مطمئن کر کے کالا باغ ڈیم بنانا چاہیے، کالا باغ ڈیم کا مقام تبدیل ہو چکا نوشہرہ کو اب کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ولی خان اور اسفند یار ولی خان کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کالا باغ ڈیم کی مخالف ہے جو کہتے ہیں کہ یہ ڈیم ان کی لاشوں پر بنے گا۔ وہ ڈیم پر سیاست کر رہے ہیں۔اس بیان میں کوئی غلط بات نہیں تھی البتہ وقت غلط بنا گیا۔ سیلاب پنجاب میں آیا تھا دریائے سندھ میں نہیں آیا۔ علی امین گنڈا پور کو آخر یہ بات ایسے موقع پر کیوں یاد آئی وہ ”کون ہے جس نے یہ بیان دلوایا“۔ کیونکہ سیلاب سے بچاؤ کے لئے کوئی پالیسی بنے نہ بنے کالا باغ ڈیم ایک بار پھر متنازعہ ہو گیا ہے۔ ایک بار پھر اس کے خلاف آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ صوبہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کے پی کے کے وزیراعلیٰ کا بیان خوش آئند ہے۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے کسی وزیراعلیٰ کی پہلی مرتبہ مثبت بات سننے کو ملی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کھل کر بولے اور کہا کہ سیلاب راوی، ستلج اور چناب میں آیا ہے۔ سیلاب کا یہ پانی کالا باغ میں نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔ قدرتی آفت کے وقت یہ کہنا کہ کالا باغ ہوتا تو نقصان نہ ہوتا ایک فضول بات ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کسی ”معجزے کے تحت“بن بھی گیا تو سیلاب تو پھر بھی آئیں گے۔ خیبرپختونخوا نے تو ہمیشہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی اس ڈیم کو بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، سینٹ کی کمیٹی میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کے حوالے سے بات کی جائے گی۔ چترال،مالاکنڈ، سوات کبھی سرسبز ہوا کرتے تھے آج ”خالی“ ہیں۔ شیری رحمن نے واضح کہہ دیا کوئی معجزہ ہی کالا باغ ڈیم بنا سکتا ہے اب یہ معجزہ کون کر کے دکھائے گا اس کا انتظار کئے لیتے ہیں۔ سندھ کے طاقتور وزیر ناصر شاہ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کو ایک نہیں تین صوبے مسترد کر چکے ہیں بھاشا ڈیم، داسو ڈیم بنائیں ہم حاضر ہیں۔ ہم تو سندھ میں سو سے زیادہ چھوٹے ڈیم بنا چکے ہیں۔ رہی صحیح کسر علی امین گنڈا پور کے اپنے مشیر بیرسٹر سیف نے پوری کر دی انہوں نے اپنے ہی وزیراعلیٰ کے بیان کو جھٹلا دیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے کالا باغ ڈیم بنانے کا مطالبہ ہی نہیں کیا، ان کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا ہے، سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے، یہ صحافیوں سے ایک غیر رسمی گفتگو تھی اور وزیراعلیٰ نے جو کہا وہ ان کی ذاتی رائے تھی، جب کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے ہو گا تو پھر بات ہوگی۔ یہ ساری بیان بازی کر کے بیرسٹر صاحب نے ایک جملہ اور فرمایا ”ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیموں کی سخت ضرورت ہے“۔ سیلاب اور بارشوں پہ کوئی ”حکومتی شخصیت یہ کہنے کو تیار نہیں کہ ہم بھارت سے آنے والے دریاؤں میں سیلابی پانی کے نقصان کو کم از کم کرنے کے لئے کوئی پالیسی بنائیں گے۔ اربوں کھربوں کا یہ میٹھا پانی جو سمندر میں گر کر ضائع ہوتا ہے اس کو محفوظ کرنے کا کوئی راستہ نکالا جائے گا۔ لیکن ایسے وقت پر جب تباہی بربادی ہو رہی ہے، مزید پانی آرہا ہے، بارشیں بھی ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں کالا باغ ڈیم کا معاملہ چھیڑنا اور قوم کو ایک نئی بحث میں اُلجھانا کیا مناسب ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر اس حوالے سے گفتگو جاری ہے،”متعلقہ اور غیر متعلقہ“ افراد کو بٹھا کر ہر اینکر اپنے 50 منٹ پورے کر رہا ہے۔ 78سال گزر گئے ہم نے بس وقت ہی گزارا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں