لکھنے والوں کے لئے موضوعات کی کمی نہیں اور بولنے والوں کے پاس شائد وقت کی قلت نہیں، ہر روز ایک ہی قسم اور نوعیت کی گفتگو کئے چلے جاتے ہیں، الیکٹرونک میڈیا والوں کے پاس جدید آلات کی سہولت موجود ہے اور وہ اس کی بدولت دو سے بھی زیادہ خطاب بیک وقت دکھا دیتے ہیں ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ آواز کے حوالے سے اس پر قادر نہیں ہیں کہ سب کی آواز سنا سکیں اور اگر وہ سب کے ساتھ ایسا سلوک کریں تو پھر ایوان ہائے عوامی نمائندگان جیسے مچھلی بازار میں جائیں،اس لئے وہ تصویر تو دکھا دیتے گفتگو ایک ہی سناتے ہیں، ہم جیسے دیرینہ حضرات کو آج کے دور میں کئی مسائل کا سامنا ہے اور بہت کچھ سننا بھی پڑتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہاں اب نہ کوئی چھوٹا اور بڑا ہے جسے دیکھیں وہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہے۔ بات یہ ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گزشتہ چارپانچ سال سے سکرین پر نمودار ہونے اور دو تین دہائیوں سے زیادہ تجربہ کے حامل بھی بیک وقت ایک ہی سکرین پر سینئر تجزیہ کار ہوتے ہیں، بہرحال یہ زمانے کے رنگ ہیں اور ہمیں ان سے سمجھوتہ کرکے ہی چلنا پڑتا ہے۔ قارئین! ایک اور عرض کرتا چلوں کہ آج کل پریس کانفرنس کا رواج عام ہے جسے دیکھو وہ مائیکوں کے سامنے پریس کانفرنس کے نام پر تقریر کررہا ہوتا ہے حالانکہ ہمارے ابتدائی اور اس سے پہلے والے دور میں بھی پریس کانفرنس اہم تر موضوع پر ہوتی تھی، ہم نے تو ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں کے لئے گھنٹوں انتظار کیا کہ کب اجلاس ختم ہو اور معزز راہنمایان کرام پریس کانفرنس کے نام پر جماعتی یا اتحادی فیصلوں سے آگاہ کریں، ایک دور ایسا بھی گزرا جب اجلاس نامکمل رہا اور ہم اہم خبر سے کھلے بندوں محروم رہے لیکن سوال و جواب اور اندرونی باتوں سے خبر بناتے رہے، ہمارے ایک ایسے ہی دور میں افتخار مرزا (مرحوم) بڑی چابکدستی سے بات شروع کرا لیتے تھے اور بڑھ کر خود ہی زبردستی سوال کرکے بات شروع کرانے پر قادر تھے، تاہم پریس کانفرنس کی اہمیت بہرحال اپنی جگہ تھی معزز راہنما ابتداء میں مختصر بات کرتے یا اجلاس کا فیصلہ بتا دیتے اور پھر سوالات کے جواب دیتے تھے۔ اب تو نام پریس کانفرنس مگر انداز تقریر کا ہوتا ہے یوں بھی ہر سیاسی جماعت نے الیکٹرونک میڈیا کے لئے اپنے اپنے نمائندے مقرر کئے ہوتے ہیں اور ناطرین اپنے اپنے پسندیدہ چینل پر یہی حضرات دیکھ لیتے ہیں کہ چینلوں پر نمائندہ حضرات ہی ہوتے ہیں۔
تمہید طولانی ہو گئی، بات کچھ تھی کدھر چلی گئی اور اسی حوالے سے ”یاد ماضی“ کا دورہ پڑ گیا ہے۔ 1977ء کا قصہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے مقررہ وقت سے ایک سال قبل عام انتخابات کا ارادہ کرلیا گیا تھا اور دوسری طرف ان کے مخالفین اور مخالف سیاسی جماعتیں اتحاد کے لئے کوشاں تھیں، خیال تھا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں اکیلی اکیلی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا تو ان کے ووٹ بٹ جائیں گے اور پیپلزپارٹی جیت جائے گی، چنانچہ ہر روز یہ تگ و دو جاری تھی اور ہم بھی خبر کے پیچھے پیچھے تھے۔ باخبر ذرائع سے اتفاق اور اختلاف کی خبریں بنتی رہتی تھیں۔ باباء اتحاد نوابزادہ نصراللہ خاں اپنی کوشش میں مصروف تھے ان دنوں ہمارے محترم پیر علی مردان شاہ پیرآف پگاروپی ڈی ایف کے نام سے خود اپنے اتحاد کے بھی سربراہ تھے، چنانچہ جماعتوں کے ساتھ ساتھ اس اتحاد سے بھی بات چل رہی تھی۔ پیر صاحب کافی مشکل شخصیت تھے، یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا اور ادھر انتخابات کا بھی اعلان کر دیا گیا، اسی دوران رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ نے اپنی رہائش گاہ شاد باغ میں سربراہوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا، میری رہائش وہاں تھی، چنانچہ اکثر دوستوں نے جانے سے گریز کیا اور میری ذمہ داری لگا دی کہ سب کو خبر بتا دوں، تب موبائل تو تھے نہیں، لینڈ لائن ہی پر تکیہ تھا چنانچہ میں،اشرف ممتاز (مرحوم) اور سید فاروق شاہ (مرحوم) حاضر تھے۔ راہنمایان کرام نے کھانا کھایا اور اس کے بعد اچانک نوابزادہ نصراللہ نے اتحاد کا اعلان کر دیا کہ نو سیاسی جماعتوں اتحاد کرلیا ہے۔ مل کر الیکشن لڑیں گے۔ جھنڈا طے ہو گیا جو نوستاروں والا ہوگا اور مفتی محمود سربراہ اور رفیق احمد باجوہ جنرل سیکرٹری ہوں گے۔اتحاد کا نام پاکستان قومی اتحاد (PNA)ہوگا۔ یہ بہت بڑا دھماکہ تھا، حضرات سب کچھ طے کئے ہوئے تھے۔ عشائیہ رسمی تھا اور اعلان کے لئے رکھا گیا۔ اس کے بعد ہمارا جو حال ہوا وہ بیان سے باہر ہے جو دوست تشریف نہیں لائے ان کو بتانا تھا اور اپنے دفتر کو بھی خبر دینا تھی، چنانچہ سب میرے گھر آ گئے اور میرے لینڈ لائن نمبر سے استفادہ کرتے رہے ایک مختصر سی پریس کانفرنس اور اتنی بڑی خبر سنبھالے نہ سنبھل رہی تھی۔
یہ تو ناسٹلجیا تھا کہ دل کی بات کہہ دی زمانہ حال کی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین لاہور آئے۔ سندھی ثقافتی یوم کی مناسبت سے تقریب میں شرکت اور گورنر ہاؤس کے علاوہ تاجروں اور صنعتکاروں سی خطاب کیا اور پھر ان کے لئے ”سینئر“ صحافیوں سے بات چیت کا اہتمام کیا گیا۔ مجھے اس سارے حوالے سے دو باتیں کہنا ہیں، ایک تو یہ کہ بلاول بھٹو نے عشائیہ کے دوران پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو دلاسہ دیا کہ وہ دوبارہ لاہور آئیں گے اور تفصیل سے بات ہو گی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی کارکنوں سے ملیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک طرف تو یہ کہا تو دوسری طرف یہ بھی کہہ دیا کہ ”میرے لاہور آنے سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے“ یہ اشارہ تو ظاہر ہے کس طرف ہے، جبکہ انہوں نے اسی مرحلے پر کہا شہبازشریف بہت اچھا کام کررہے ہیں، اب معلوم نہیں کہ ان کا مقصد کیا تھا بہرحال جوان سال قائد ہیں کچھ تو ہوگا کہ انہوں نے اشارہ کیا۔ ان کے لاہور تنظیم والے جیالے کی تو شکائت ہے کہ پارٹی کے اشتہار اتار لئے جاتے ہیں اور تقریبات منعقد نہیں کرنے دی جاتیں، میں فیصل میر کی اس بات سے اتفاق کروں یا اختلاف ایک حقیقت ظاہر ہے کہ فاصلے مٹ گئے اتحاد ہو گیا لیکن دل کے کسی حصے میں کچھ ضرور ہے جس کی پردہ داری ہے۔ شاید دونوں اتحادی جماعتوں کا خیال اور تصور یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ مدِ مقابل ہوں گے اگرچہ یہ کوئی برائی نہیں، بشرطیکہ یہ سب مہذب پن سے ہو جس کی اس ملک کو ضرورت ہے اور تحریک انصاف سے یہی شکایت تو کی جا رہی ہے، اب چیئرمین بلاول بھٹو نے بہت معنی خیز بات بھی کہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کو غور کرنا ہوگا، جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو تجربہ کار محمد نوازشریف کی قیادت میں ان کی صاحبزادی مریم نواز سرگرم عمل ہیں۔
بات کو ختم کرنے سے قبل صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے خواہش ہے کہ وہ کسی کے برا منانے والی بات کو چھوڑیں اپنے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کی بات سن کر تنظیم بحال کریں، اس وقت مرکزی پنجاب اور لاہور کی تنظیم اچھے سربراہوں کی منتظر ہے۔ مرکزی پنجاب اور لاہور کی سربراہی سلیم حیدر (گورنر) جیسے کسی متحرک رہنما کے سپرد کریں ایسے ہی مواقع پر برادر ڈاکٹر جہانگیر بدر (بادشاہ) یاد آتا ہے جس نے نامساعد حالات کا مقابلہ کرکے بھی جماعت کو متحرک رکھا۔ میاں مصباح الرحمن آج کل کچھ جسمانی تھکاوٹ کا شکار نظر آتے ہیں، ورنہ لاہور کی صدارت کا مشکل ترین وقت انہوں نے اچھا گذارا۔

