سینٹ: نیشنل فوڈ سیکیورٹی ترمیمی بل پر” ن لیگ” اور”پیپلزپارٹی” آمنے سامنے

شیری رحمن کابل میں” چالیس ترامیم” پر سخت اعتراض، چیئرمین نے بل موخر کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ‌خصوصی) سینیٹ کے اجلاس میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی ترمیمی بل پر حکومتی اتحادی ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہو گئے، جس سے ایوان میں شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا کہ کمیٹی میں پیش کیا گیا بل اور ایوان میں لایا گیا بل مختلف ہے لہٰذا اس کی منظوری مؤخر کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “کمیٹی سے منظوری کے بعد 40 ترامیم نہیں آتیں”۔

وفاقی وزیر رانا تنویر: “بل میں صرف کامہ اور فل اسٹاپ بدلے گئے”
وفاقی وزیر قومی خوراک و تحقیق رانا تنویر حسین نے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی، صرف کامہ اور فل اسٹاپ کی سطح کی اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا
“اگر اس طرح بات کریں گے تو میں سب کو بتا دونگا کہ کمیٹی میں کیا کہا جاتا رہا”۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بھی بل کو دوبارہ غور کیلئےموخر کرنے کی تجویز دی، جس پر چیئرمین سینیٹ نے بل کو باضابطہ طور پر موخر کر دیا۔

شیری رحمن: ‘فود سیفٹی بل کی ترامیم کمیٹی نے منظور ہی نہیں کی تھیں”سینیٹر شیری رحمن نے مزید کہا کہ ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی بل میں شامل ترامیم کمیٹی نے منظور نہیں کی تھیں بلکہ سیکرٹریٹ نے بھی ارکان کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے چیئرمین کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی بل کو کمیٹی میں بھیجنے سے قبل اتحادیوں کو بیٹھ کر معاملہ طے کرنا چاہیے۔

“ایوان میں آڈٹ رپورٹس پیش، مختلف امور پر توجہ دلاؤ نوٹس”
اجلاس کے دوران مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں۔توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر حکومت سے ہونا چاہیے، نجی شعبے سے تقرری خلافِ قانون ہے۔ چیئرمین نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

“اسلام آباد ڈی سی کی “ڈیٹا ایپ” پر تحفظات”
سینیٹر پلوشہ خان نے بتایا کہ ڈی سی اسلام آباد نے زبردستی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا لینے کیلئے ایک ایپ متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق”ڈی سی نے کہا کہ جو معلومات نہیں دے گا اس کے گھروں میں گھسیں گے”جس پر انہوں نے معاملہ کمیٹی میں بھیجنے کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا۔

“سپریم کورٹ ججز کے استعفوں پر بحث”
مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر انوشہ رحمان نے سپریم کورٹ کے دو ججز کے تازہ استعفوں کو ’’سیاسی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل ججز خود کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا”2016 سے سپریم کورٹ میں جو تباہی چل رہی تھی اسے پارلیمان نے روکا”۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ مستعفی ججز کو مکمل پروٹوکول و پنشن دی جائیگی یا نہیں۔

“مدارس، مساجد، 27ویں آئینی ترمیم اور بلوچستان کا مسئلہ”
سینیٹر عطاء الرحمن نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے مدارس و مساجد سے متعلق بیان پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ صرف مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا درست نہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تنخواہوں اور پنشن سے متعلق اعتراضات کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ”ایک گھنٹہ ضائع کرنے کے بعد پتہ چلا کہ بل غلط آیا اسی طرح چند گھنٹے بعد پتہ چلے گا کہ 27ویں آئینی ترمیم بھی غلط آئی”۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ تو بحال ہو گیا ہے مگر راستے تاحال بند ہیں۔

“چترال کے حالات: ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیم اور خودکشیوں کا بحران”
سینیٹر فلک ناز چترالی نے چترال کی پسماندگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم تین ہیلی کاپٹرز کے قافلے کے ساتھ چترال اپنے ملازم کی شادی میں گئے، مگر علاقے کی ترقی نظرانداز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہاں صرف 2G سروس دستیاب ہے، طلبہ مشکلات کا شکار ہیں اور ہر ماہ دس خودکشیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر کونسلنگ سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

“اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی”
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کو غیر معینہ مدت کیلئےملتوی کر دیا۔