سینیٹ الیکشن: کیاایوان بالا کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا؟

کے پی کے اسمبلی میں ایک سال سے زیر التوا سینیٹ الیکشن جنہیں مخصوص نشستوں کے ”من پسند“ فیصلے تک غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا،،، بالآخر آج یعنی 21جولائی کو قرار پائے،،، ویسے تو سینیٹ کی آدھی سیٹوں پر الیکشن ہر تین سال بعد ہوتا ہے،،، جو گزشتہ سال 2024ءمیں ہوا، لیکن کے پی کے میں سینیٹ کی 11(آدھی) نشستوں کا الیکشن مذکورہ سال اس لیے روک دیا گیا کیوں کہ وہاں پر موجود تحریک انصاف کی حکومت اور الیکشن کمیشن چاہتی تھی کہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد ہی وہاں پر الیکشن کروائے جائیں تاکہ اکثریتی پارٹی کی مرکز میں نمائندگی واضح ہو سکے۔ لہٰذااب جبکہ گزشتہ ماہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آگیا ہے، جس کے بعد کے پی کے کی اپوزیشن کو فائدہ ہوا ،،، اور 25مخصوص نشستیں مل گئیں،،،تو الیکشن کمیشن نے بھی صوبے میں سینیٹ الیکشن کی تاریخ بھی دے دی۔ اب یہ بات چونکہ کے پی کے گورنمنٹ کو ناگوار گزری ،،، تو انہوں نے ان اراکین سے حلف ہی نہ لیااور اس حوالے سے اسپیکر کے پی کے لیت و لعل سے کام لے رہے تھے،،،جس کے بعد اُمیدوارگزشتہ روز اتوار کے دن پشاور ہائیکورٹ چلے گئے ،،، جہاں سے اُسی وقت فیصلہ ہوا کہ گورنر کے پی کے ان اُمیدواروں سے حلف لیں گے،،، اور پھر اتوار ہی کے دن حلف لے کر ان اُمیدواروں کو ووٹنگ کے لیے اہل بنایا گیا،،، تاکہ یہ اگلے روز الیکشن میں حصہ لے کر حکومت کو ٹف ٹائم دیں۔ ویسے ہماری عدالتوں کا بھی اپنا ہی لیول ہے کہ سیاسی مقدمات کے لیے اتوار کو بھی کھلی رہتی ہیں،،،ا ور عوام مقدمات کے لیے مہینوں کہیں شنوائی ہی نہیں ہوتی۔
خیر اب تک ووٹنگ کا سلسلہ کے پی کے اسمبلی میں جاری تھا ،،، جبکہ اس سے پہلے سینیٹ الیکشن کیلئے حکومت اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان چھ اور پانچ نشستوں کی تقسیم پر اتفاق ہو چکا تھا، تاہم اس فیصلے کو پی ٹی آئی کی جماعتی توثیق نہیں مل سکی تھی اور وہ امیدوار جن کا نام جماعت نے بلامقابلہ کامیاب سینیٹروں کی فہرست میں نہیں ڈالا، انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے سے انکار کر دیا۔ یہ امیدوار پچیس سے تیس اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ رکھتے ہیں،،، جو سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کیلئے سرپرائز بن سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ناراض امیدواروں کا اصرار اس سیاسی جماعت کے داخلی نظم وضبط پر سوال اٹھاتا ہے کہ جس میں منتخب رکن تو دور کی بات انتخابی امیدوار بھی پارٹی قیادت کے کہے میں نہیں۔ یہ چیز ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں میں شاید اس طرح نہیں پائی جاتی۔ پارٹی میں اختلافات ہوتے ہیں مگر جماعت سے وابستہ لوگ جماعتی پالیسی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ جہاں امیدواروں کی ضد کا یہ عالم ہے تو کوئی بعید نہیں کہ پچیس‘ تیس اراکین کی حمایت کے دعوے میں بھی وزن ہو،،، مگر یہ وزن خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی امیدوں پر بھاری پڑے گا۔
خیر حالات جو بھی ہوں،،، یہ 11نشستیں جس کے پلڑے میں بھی جائیں،،، پلڑا تو حکومت کا ہی بھاری رہے گا ،،، مگر سینیٹ کے الیکشن جب بھی ہوں ایک بات تو طے ہوتی ہے کہ اس میں بڑے بڑے کھلاڑی میدان میں آجاتے ہیں،،، روپیہ پیسہ پھینکتے ہیں،،، ایک ایک ارب روپے کی ایک سیٹ بکتی دیکھی گئی ہے۔جبکہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں بھی کے پی کے جیسی اسمبلی جسے نسبتاََ کم کرپٹ جانا جاتا ہے،،، یا یہ حکومت خان صاحب کی حکومت ہے اس لیے بھی اس سے کرپشن کا کم تاثر ملتا ہے،،، لیکن تحریک انصاف کے اپنے ہی اراکین کے الزامات کے بعد اب تو ایسا لگتا ہے کہ پارٹی میں صرف خان صاحب ہی ایماندار ہیں،،، باقی جس کے موقع ملتا ہے،،، ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن پراسرار خاموشی اختیار کر لیتا ہے تاکہ وہ مبینہ طور پر اپنے من چاہے نتائج حاصل کر سکے۔بلکہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن 78سال گزرنے کے باوجود نہ تو صحیح انداز میں انتخابات کروا سکا ہے، نہ سیاسی پارٹیوں کو ڈسپلن میں لا سکا ہے، نہ انتخابات کروانے کے لیے ٹھوس اقدامات کروا سکا ہے، اور نہ ہی انتخابات میں روپے پیسے کی ریل پیل کو روک سکا ہے۔ حتیٰ کہ پارٹی کارکنوں کے تحفظ پیرا شوٹر سیاستدانوں کی آمد کو بھی روکنے سے مکمل قاصر رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پیسے کے بل بوتے پر لوگ سینیٹ و قومی و صوبائی اسمبلیوں میں آتے رہتے ہیں اور الیکشن کمیشن کو علم ہونے کے باوجود آنکھیں بند کرکے وقت گزاری کا کام کرتا ہے۔
حالانکہ قومی اسمبلی یہ قانون بنائے کہ جو بندہ 10سال سے پارٹی کا ممبر نہو، اُسے سینیٹ کا ٹکٹ نہیں ملنا چاہیے، یا جو شخص 5سال سے پارٹی کا ممبر نہ ہو اُسے قومی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں ملنا چاہیے، اور جو شخص کم از کم 2سال سے پارٹی کا ممبر نہ ہو اُسے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں ملنا چاہیے۔لیکن یہاں جس دن پارٹی جوائن کروائی جاتی ہے اُسی دن ٹکٹ بھی تھما دیا جاتا ہے، اور پرانے پارٹی ورکر منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔اگر الیکشن کمیشن ان پیراشوٹرز کو روکنے کے لیے عملی اقدام کردے تو یقینا آسمان سے گرنے والے سیاستدانوں یعنی پیراشوٹر زکا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے،ایسا کرنے سے الیکشن سے پہلے” جمپنگ“ ختم ہوجائے گی،موسمی پرندوں کی روک تھام ہوجائے گی اور پارٹی ورکروں کا استحصال بھی نہیں ہوگا۔ یقین مانیں یہ شاید الیکشن کمیشن ہی کا قصور ہے کہ ہر الیکشن میں غیر سیاسی افراد کوپارٹیوں کی جانب سے آگے لایا جاتا ہے جس سے مجموعی طور پر نااہل افراد ایوانوں میں براجمان ہوجاتے ہیں اور قابل و معاملات کو سمجھنے والے افراد پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اس کی مثال آپ گزشتہ سینیٹ الیکشن کی لے لیں،،، جس میں ارب پتی صنعت کاروں، سیاسی جماعتوں کے دیرینہ کارکنوں اور قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹس دیئے گئے تھے۔ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا سے جن گیارہ امیدواروں کو ٹکٹ دیئے تھے ان میں سے ذیشان خانزادہ، لیاقت ترکئی، فیصل سلیم اور محسن عزیز ارب پتی کاروباری شخصیات ہیں۔پھرجمعیت علمائے اسلام کی جانب سے پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطا الرحمان کو ٹکٹ جاری کیا گیا ۔پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی نے بھی کئی ارب پتی کاروباری شخصیات کو جنرل نشست کے ٹکٹ جاری کیے۔اس حوالے سے صدر آصف زرداری کو ”کنگ“ مانا جاتا ہے،،، وہ جوڑ توڑ کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں،،، یقینا یہاں بھی انہوں نے کہیں نہ کہیں اپنی جادو کی چھڑی ضرور گھمائی ہوگی،،، ورنہ مخصوص نشستوں کے فیصلے سے لے کر کے پی کے اسمبلی میں سینیٹ الیکشن تک تحریک انصاف کو شکست نہ کھانی پڑتی۔ اور پارٹی کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اراکین الیکشن سے دستبردار ہو جاتے۔۔۔ یا پارٹی قیادت ہی پارٹی کارکنوں کی خاطر مالدار اُمیدواروں سے پیچھے ہٹ جاتی۔ان سب میں جماعت اسلامی پاکستان کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنی پارٹی کے پرانے کارکنوں کو ہی سینیٹ انتخابات کیلئے ٹکٹس جاری کئے ۔
خیر بات ہو رہی تھی الیکشن کمیشن کی تو دنیا بھر میں الیکشن کمیشن کا کام ہی اس پورے سسٹم پر نظر رکھناہوتا ہے، لیکن یہاں دباﺅ کام کرجاتا ہے،حالانکہ دنیا بھر میں الیکشن کمیشن بارعب ہوتا ہے، اُس سے حکومت سمیت تمام ادارے خوف کھاتے ہیںکہ کہیں وہ اپنے اختیارات استعمال نہ کر لے لیکن یہاں الیکشن کمیشن حکومت اور طاقتور لوگوں سے ڈر جاتا ہے، اُن کے حق میں فیصلے دے دیتا ہے،الغرض ہمارے ہاں الیکشن کمیشن تو اس قدر نومولود ہے کہ یہ نرسری کا طالب علم لگتا ہے، جسے والدین مکمل حقوق دینے سے ڈرتے ہیں۔ یقین مانیں یہ بھی الیکشن کمیشن ہی کی بدولت ہے کہ یہاں کوئی بھی وزیر مشیر الزام لگنے کی صورت میں کام کرتا رہتا ہے، ورنہ مہذب ملکوں میں تو کسی پر الزام لگ جائے تو وہ اپنی سیٹ سے مستعفی ہوجاتا ہے، اور الزام کے ختم ہونے تک کوئی بھی پبلک عہدہ حاصل نہیں کرتا۔اگر ہم عوام اس پر شکوہ کریں تو ہم بہلا دیا جاتا ہے کہ آپ غلط ہیں بقول غلام ہمدانی
دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر
ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر
بہرحال اگر الیکشن کمیشن مضبوط نہیں ہوگا تو ہر سیٹ پر 60، 65کروڑ روپے لگنا عام بات ہو جائے گی، اور منتخب ہونے والا رکن سب سے پہلے اپنے پیسے پورے کرے گا تب وہ منافع کمائے گا۔ اس طرح تو ہم کہہ سکتے ہیں سینیٹ کا اصل مقصد ہی فوت ہو چکا ہے،،، کیوں کہ ایوان بالا کو چھوٹے صوبوں کا احساسِ محرومی ختم کرنے اور چاروں صوبوں کو برابر نمائندگی دینے کے لیے سینیٹ آف پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ مثال کے طور پر اگر پنجاب کے اکثریتی صوبے ہونے کی بنیاد پر قومی اسمبلی کوئی ایسا بل منظور کر لے جس پر چھوٹے صوبوں کو تحفظات ہوں تو سینیٹ میں یہ بل زیرِ غور لایا جاتا ہے تاکہ سب کے تحفظات دور ہوں۔لیکن یہ مقصد میرے خیال میں پیچھے رہ گیا ہے اور پیسوں کی ریل پیل کا عمل فرنٹ پر آگیا ہے۔ اور اس عمل میں پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پی پی پی کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے،،، انہی کی بدولت ایوانوں میں اراکین کی بولیاں لگنا شروع ہوئیں،،،
بہرکیف تینوں بڑی پارٹیوں پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کو حکومت مل چکی ہیں۔ کسی ایک نے بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ الیکشن کے عملی انتظام کو شفاف اور منظم بنایا جائے۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے اور وہ ہے اقتدار میں آنے کے بعد یادداشت کا متاثر ہونا۔ یہ یادداشت اس لیے متاثرہوتی ہے کہ اقتدار میں جب تمام ریاستی وسائل پاس ہوں تو بیچارہ الیکشن کمیشن جس کی اپوزیشن کے دور میں بہت اہمیت محسوس ہوتی ہے یاد ہی نہیں آتا۔اس لیے الیکشن کمیشن کو سختی سے ایسے اقدامات پر نوٹسز لینے چاہییں ورنہ یہ ایوان صرف ہارس ٹریڈنگ کے لیے استعمال ہوں گے،،، قانون سازی کے لیے نہیں!

اپنا تبصرہ لکھیں