پشاور (نامہ نگار) خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سینیٹ ٹکٹوں سے نظر انداز کیے گئے پارٹی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق، تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کیلئےامیدواروں کے چناؤ پر پارٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے عرفان سلیم، عائشہ بانو، ارشاد حسین اور خرم ذیشان سمیت ناراض رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی تاہم دونوں ملاقاتیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ ناراض رہنما اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں تاکہ اپوزیشن کے ساتھ ہونیوالے بلامقابلہ سینیٹ الیکشن کے معاہدے پر عمل ہو سکے مگر ناراض اراکین موقف پر قائم رہے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی پشاور کے سابق صدر رحمان جلال نے پارٹی کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ “پارٹی ٹکٹ مخلص کارکنوں کو نہیں، بلکہ ‘اے ٹی ایمز’ کو دیے جا رہے ہیں۔” انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو 21 جولائی کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے گھیراؤ اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔
اس ساری صورت حال کے دوران پارٹی کے اندر فہرستوں میں رد و بدل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صوبائی صدر جنید اکبر نے نئی فہرست چیئرمین بیرسٹر گوہر کو ارسال کر دی ہے، جس میں مرزا خان آفریدی کا نام خارج کر کے مراد سعید، عرفان سلیم، فیصل جاوید، خرم ذیشان اور اظہر مشوانی کو جنرل نشستوں کیلئےنامزد کیا گیا ہے۔ ٹیکنوکریٹ نشستوں کیلئےنور الحق قادری اور اعظم سواتی کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔
پارٹی کے اندرونی اختلافات، ورکروں کی ناراضی اور قیادت کی خاموشی نے سینیٹ انتخابات کو خیبر پختونخوا میں سیاسی کشمکش میں بدل دیا ہے، جہاں ہر لمحہ نئی صورت حال جنم لے رہی ہے۔

