پنجاب میں ایک طویل عرصہ سے جرائم پیشہ گینگ اور طاقتور افراد جو گل کھلاتے آ رہے تھے ، ان کے ساتھ ان ہی کے انداز میں نمٹنا بھی ضروری ہو چکا تھا کیونکہ یہ گینگ اور مافیا اتنے طاقتور ہو چکے تھے کہ اپنی طاقت ،پیسوں اور تعلقات کے سبب سسٹم کو روند کر ایسے بچ نکلتے تھے ،جیسے ان سے بڑا حاجی ہی کوئی نہیں ؟ دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ اگر ہم انصاف کے دائرے کو توڑ کر امن کی عمارت کھڑی کریں گے تو وہ بھی دیرپا نہیں ہو گی، ریاست کو پولیس اور عدلیہ دونوں پر یکساں اعتماد بحال کرنا ہوگا، پولیس کو اپنی طاقت قانون کے تابع رکھنی ہے اور عدلیہ کو اپنی رفتار عوام کے قریب لانی ہے، تب ہی وہ وقت آئے گا جب شہریوں کو پولیس سے خوف ہوگا نہ مجرم سے بلکہ یقین ہوگا کہ انصاف زندہ ہے، قانون جاگ رہا ہے، مگر کیا عدلیہ اور پولیس انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے ؟ تو اس کا جواب ناں میں ہی ملے گا ۔
حالیہ مہینوں کے دوران کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ کی کاروا ئیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور سوشل میڈیا پر خبروں کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے کہ فلاں شہر میں ڈاکو مارے گئے، فلاں گینگ کا خاتمہ ہوا اور خطرناک اشتہاری “مقابلے” میں ہلاک ہو گئے، بظاہر یہ خبریں ایک عام شہری کے لیے اطمینان کا باعث ہیں کیونکہ وہ برسوں سے امن و امان کی بحالی کی امید لگائے بیٹھا تھا مگر دوسری طرف ایک سنجیدہ طبقہ ،دانشور، وکلا اور انسانی حقوق کے علمبردار ان کارروائیوں کو ماورائے عدالت اقدامات قرار دے رہے ہیں کہ اگر پولیس ہی سزا دے گی تو عدالتوں کا کردار کیا رہ جائے گا؟ جرائم کی روک تھام کا سی سی ڈی کا طریقہ کامیاب یا وقتی سکون ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ سی سی ڈی کی موجودہ کارروائیوں کے بعد پنجاب کے کئی شہروں میں جرائم کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، راہزنی، ڈکیتی اور گاڑیاں چھیننے کے واقعات نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں ، عوامی سطح پر یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ پولیس “آخرکار جاگ گئی ہے”۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان کے کئی علاقوں میں شہریوں نے سوشل میڈیا پر پولیس کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ “اگر ایسے ہی اقدامات پہلے ہوتے تو جرائم کا زور کب کا ٹوٹ چکا ہوتا۔” یہ عوامی ردِعمل سمجھ میں آتا ہے، کیونکہ عام آدمی کا واسطہ عدالتوں، وکلا، اور طویل قانونی عمل سے نہیں پڑنا چاہیے وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے علاقے میں سکون ہو،عزت ،مال اور جان سلامت رہے، بچے بلا خوف سکول اور بڑے اپنے کاروبار کے لئے جا سکیں۔
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوری امن ہمیشہ پائیدار ہوتا ہے؟ قانونی نقطۂ نظر اس بارے کیا ہے؟ آئین کا تقاضا اور پولیس کی حد کہاں تک ہے؟ آئینِ پاکستان کے مطابق ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے، کسی پر جرم ثابت کرنے اور سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کو ہے، اس آئینی اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے اگر پولیس خود منصف بن جائے تو یہ ریاستی توازن کیلئےخطرہ بن سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ دانشور طبقہ بار بار کہہ رہا ہے کہ ایسے اقدامات قانونی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرتے ہیں، پولیس کے پاس طاقت ہے مگر قانون کے اندر رہ کر اس کا استعمال ہی ریاستی نظام کو مضبوط کرتا ہے، اگر یہی طاقت عدالتی عمل کے متوازی استعمال ہونے لگے تو انصاف کا دروازہ بند ہونے لگتا ہے۔
کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کے انکاؤنٹرز اور “پکڑ دھکڑ” کی کارروائیاں دراصل ہمارے عدالتی نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہیں، سب جانتے ہیں کہ اگر کوئی مجرم پکڑا بھی جائے تو وہ چند دن میں ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے، مقدمات برسوں لٹک جاتے ہیں، گواہ مکر جاتے ہیں اور آخر میں جرم ثابت ہی نہیں ہوتا، ایسے میں پولیس کے لیے “فوری انصاف” کی راہ اختیار کرنا آسان لگتا ہے ۔ ایک معروف ماہرِ قانون کا کہنا ہے،اگر ہم انصاف میں تاخیر کے مسئلے کو قانون سے باہر جا کر حل کرنے کی کوشش کریں گے تو آخر میں ہمیں انصاف نہیں صرف خوف ملے گا مگر حکومت کے لیے یہ بیانیہ بہت مؤثر ہے کہ “جرائم میں نمایاں کمی آگئی” وزیراعلیٰ آفس سے ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جن میں ان کارروائیوں کو “جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس” کہا جاتا ہے، عوام کے لیے یہ پیغام مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت سخت ہے اور پولیس متحرک، مگر دیکھنے والی بات ہے کہ طاقت کے بل پر امن زیادہ دیر قائم نہیں رہتا، اگر عدالتی نظام وہی رہا اور پولیس صرف گولی کے ذریعے نتائج دکھاتی رہی تو کل یہی طاقت کسی بے گناہ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ممالک نے اس طرح کے تجربات کیے ہیں، فلپائن میں “ڈرنکس اینڈ ڈرگز” کے نام پر ہزاروں افراد کو پولیس مقابلوں میں مروایا گیا ، شروع میں وہاں بھی عوام خوش ہوئے کہ جرائم کم ہو گئے، لیکن چند سال بعد پتہ چلا کہ درجنوں بے گناہ افراد بھی نشانہ بن گئے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے فلپائن کو ماورائے عدالت قتلوں کا مرکز قرار دے دیا۔ اسی طرح بھارت میں بھی کچھ ریاستوں میں پولیس انکاؤنٹرز کو شہرت ملی، مگر عدالتوں نے ان کارروائیوں پر سوال اٹھا دیے۔ ہمیں بھی اگر ایک جمہوری اور قانون پسند ریاست بننا ہے تو اسے یہ غلطی دہرانے سے گریز کرنا ہوگا اور اسکی بجائے کوئی پائیدار حل سامنے لانا ہو گا ، پولیس کے تفتیشی نظام کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے، جدید فرانزک، ڈیجیٹل شواہد اور عدالتی رابطہ نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مقدمات عدالت میں ثابت ہو سکیں،اگر عدالتیں فاسٹ ٹریک سسٹم پر چلیں، شواہد بروقت جمع ہوں، تو پولیس کے پاس “فوری انصاف” کا جواز خود بخود ختم ہو جائے گا۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوام کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون سی سیاسی جماعت حکومت میں ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا انصاف اور تحفظ عام شہری کی پہنچ میں ہے؟ ہر روز میڈیا پر چلنے والی خبریں، عدالتوں میں برسوں سے زیرِ سماعت مقدمات، پولیس کی طاقت کے مظاہرے اور عوام کی بے بسی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں کیا یہ وہی نظام ہے جو قائداعظم کے خواب کا حصہ تھا؟
اجتماعی ازسرِنو سوچ کا مطلب ہے کہ قوم مل کر اپنے نظام، رویّوں اور فیصلوں پر دوبارہ غور کرے، صرف حکومت نہیں بلکہ عوام، میڈیا، عدلیہ، وکلا، پولیس اور باقی ادارے مل کر دیکھیں کہ ہم کہاں غلط ہیں ؟ کیا درست کیا جا سکتا ہے؟یہ وہ عمل ہے جو دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک نے کسی نہ کسی وقت ضرور اپنایا، بھارت نے اپنی پولیس اور عدلیہ کے نظام میں کئی بار بڑی اصلاحات کیں،پاکستان میں بھی اب وقت آ چکا ہے کہ ہمیں اجتماعی طور پر اپنے عدالتی اور پولیس نظام پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا ورنہ سی سی ڈی اگر ہمارے مسائل حل کرتی ہے تو پھر کیا برا ہے؟

