لاہور(نمائندگان +ایجسنسیاں) دریائے راوی میں شاہدرہ اور دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریائے راوی اور چناب میں مزید شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
منڈی بہاء الدین کی تحصیل پھالیہ میں سیلابی پانی سے 140 سے زائد دیہات ڈوب گئے ہیں، سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔ حکومت پنجاب اور ریسکیو اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
“دریاؤں میں پانی کی صورتحال”
دریائے راوی: شاہدرہ کے مقام پر بہاؤ 2 لاکھ 17 ہزار 660 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ ہیڈ بلوکی پر ایک لاکھ 4 ہزار 435 کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ جسر کے مقام پر 99 ہزار 470 کیوسک کے ساتھ درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے ستلج: گنڈا سنگھ والا پر پانی کی سطح 2 لاکھ 61 ہزار 53 کیوسک تک پہنچ گئی۔ ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 13 ہزار 124 کیوسک (درمیانہ سیلاب) اور ہیڈ اسلام پر 52 ہزار 706 کیوسک (نچلا سیلاب) ریکارڈ ہوا۔
دریائے چناب: قادرآباد پر انتہائی بلند سطح کے بعد پانی کی آمد کم ہو کر 5 لاکھ 34 ہزار 409 کیوسک پر آگئی ہے۔ ہیڈ خانکی پر 3 لاکھ 35 ہزار 956 کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا جبکہ تریموں پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
“این ای او سی کی پیشگوئی”
این ای او سی کے مطابق 31 اگست کی دوپہر تریمو بیراج پر 7 سے 8 لاکھ کیوسک تک پانی کا بہاؤ متوقع ہے جس سے جھنگ اور گرد و نواح شدید متاثر ہوں گے۔ 3 ستمبر کو یہ ریلا پنجند پہنچے گا جہاں 6.5 سے 7 لاکھ کیوسک پانی کا خدشہ ہے۔
“متاثرہ اضلاع”
سیلابی صورتحال سے لاہور کے علاقے شاہدرہ، شیخوپورہ، فیروزوالہ، ننکانہ صاحب، قصور، پتوکی، خانیوال، اوکاڑہ، حافظ آباد، جھنگ، ملتان، وہاڑی اور بہاولپور کے دیہات متاثر ہو سکتے ہیں۔ دریائے ستلج کے کنارے واقع قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور بہاولپور میں لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ہے۔
“نقصانات اور ریسکیو سرگرمیاں”
اب تک پنجاب کے مختلف اضلاع میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔1.5 لاکھ افراد اور 35 ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔104 ریلیف کیمپ اور 105 میڈیکل کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق صرف سیالکوٹ، چنیوٹ، منڈی بہاء الدین اور جھنگ کے 333 دیہات میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔سول ڈیفنس کے 9 ہزار سے زائد رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، کئی اضلاع میں فوج بھی طلب کر لی گئی ہے۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پانی داخل ہونے کے باعث پروازیں 24 گھنٹے کیلئےمعطل کر دی گئیں، ترجمان کے مطابق نکاسی کا عمل جاری ہے۔شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور میں محکمہ آبپاشی کے عملے کی عدم موجودگی پر عوام نے احتجاج کیا۔
“حکومتی اقدامات”
وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے اور صوبائی ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ فوج اور سول ادارے مشترکہ طور پر ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں شریک ہیں۔ این ای او سی نے دریاؤں کے کناروں پر آباد عوام کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔

