شاہینوں کی ویسٹ انڈیز پرواز

دورہ ویسٹ انڈیز کے لئے T-20 اور ون ڈے سیریز کے لئے ٹیم پاکستان کا اعلان کردیا گیا۔ T-20 میں کپتان سلیمان علی آغا، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، فخرزمان، محمد حارث(وکٹ کیپر)، حسن نواز , حسین طلعت، خوشدل شاہ ، حسن علی، محمد نواز ، شاہین آفریدی، حارث رؤف، صفیان مقیم، ابرار احمد اور فہیم اشرف جبکہ ون ڈے میں حارث رؤف، حسین طلعت اور صاحبزادہ فرحان کی جگہ بابر اعظم ، عبداللہ شفیق، محمد رضوان(کپتان) اور نسیم شاہ کی واپسی ہوگی باقی T-20 والی ٹیم ہی برقرار رہے گی۔

پہلے تین T-20 میچز امریکہ میں 31 جولائی، 2 اور 3 اگست جبکہ تین ایک روزہ میچز ویسٹ انڈیز میں 8 ، 10 اور 12 اگست کو کھیلے جائیں گے۔ بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز میں نئے پیسر سلیمان مرزا اور احمد دانیال کے ساتھ آل راؤنڈر عباس آفریدی کی کارکردگی بہترین رہی جبکہ لیفٹ آرم پیسر سلیمان مرزا سیریز میں 7 وکٹوں کے ساتھ سب سے آگے رہے۔

اس نوجوان نے اپنی تیز رفتار سونگ اور نپی تلی باؤلنگ سے سب کو متاثر کیا۔ عمدہ پرفارمنس کی بنیاد پراسے دورہ ویسٹ انڈیز کے لئے شامل کرنا چاہئے تھا۔اب تو لیجنڈ وسیم اکرم نے بھی کہ دیا ہے کہ:- “سیکٹرز کو ابھی تک عقل نہیں آئی کہ سلیمان مرزا جیسے باصلاحیت لیفٹ آرم پیسر کو دورہ ویسٹ انڈیز کے لئے سلیکٹ نہ کرنا سراسر غلط فیصلہ ہے۔ اسے گرومنگ کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں تاکہ یہ ایشیا کپ اور ورلڈکپ میں بہتر پرفارم کرسکے”.

اسی طرح فہیم اشرف، خوشدل شاہ اور محمد نواز بنگلہ دیش میں بری طرح ناکام ہونے کے باوجود دورہ ویسٹ انڈیز میں دونوں فارمیٹ کے لئے منتخب کرلئے گئے۔ یہ پرچیاں ایک خاص مقصد کے لئے بغیر پرفارمنس کے باربار سلیکٹ کی جارہی ہیں تاکہ ٹیم میں کوئی ریگولر سپنر اور پیسر آلراونڈر جگہ نہ بناسکے۔ کوالٹی لیگ سپنرصفیان مقیم کو بنگلہ دیش میں ایک بھی میچ بھی نہیں کھلایا گیا جبکہ آؤٹ آف فارم محمد نواز کو پوری سیریز اسلئے دی گئی کہ یہ پرفارم نہیں کرے گا اور جمائی راجہ شاداب خان کی فٹنس پر ٹیم میں نائب کپتان کے طور پر واپسی آسان ہوگی۔

اسی طرح پیسر آلراونڈر عباس آفریدی، حسین طلعت اور عرفان خان نیازی کو ان آؤٹ کے چکر میں بھرپور مواقعے نہیں دیئے جارہے تاکہ رانا فہیم اشرف کی جگہ برقرار رہے۔ خوشدل شاہ , شاداب خان، محمد نواز اور فہیم اشرف کا پچھلے 5 سالوں کا ٹریک ریکارڈ چیک کرلیں انہوں نے کبھی کسی میگا یونٹ میں پرفارم نہیں کیا لیکن افسوس انہیں باربار کھلا کر نہ صرف میرٹ کا قتل عام کیا جارہا ہے بلکہ باصلاحیت اور ڈومیسٹک کے پرفارمرز کا کیرئر بھی داؤ پر لگایا جارہا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں ہر ٹیم ایک یا دو پرفیکٹ قسم کے آلراؤنڈر ٹیم میں شامل کرتی ہے جو مشکل صورتحال میں ٹیم کو میچز جتواتے ہیں لیکن ہماری ٹیم میں تین چار نکمے قسم کے آلراؤنڈرز مسلط کردیئے جاتے ہیں جو نہ تو باؤلنگ اچھی کرتے ہیں اور نہ ہی قابل اعتماد بیٹر ہیں۔ اوسط درجے کی پرفارمنس پر ٹیم میں لگاتار کھلانا کہاں کا انصاف ہے ۔ انڈیا، انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے آلراؤنڈرز لگاتار تینوں فارمیٹ کی کرکٹ میں پرفارم کرتے ہیں کیونکہ وہ میرٹ پر کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں آتے ہیں جبکہ ہمارے آلراؤنڈر نہ تیتر نہ بٹیر کوئی پرفارمنس نہیں لیکن ٹیم میں کھیلیں گے ضرور۔ انکے پاس تگڑی سفارشیں ہیں۔

بڑی مشکل سے چاچو افتخار سے جان چھوٹی تھی اب یہ خوشدل شاہ، محمد نواز اور فہیم اشرف جیسے نمونے ٹیم میں بغیر پرفارمنس کے ہر ٹور میں سلیکٹ کئے جارہے ہیں ۔ ایسے چلے کارتوس اور پھٹیچر کرکٹرز کو نکال کر ریگولر بیٹر اور باؤلرز کو چانس دیں جس سے ٹیم کا مورال بلند ہوگا۔ ٹیم میں ایک یا دو عبد الرزاق ، شعیب ملک اور حفیظ جیسے پرفارم کرنے والے آل راؤنڈرز رکھیں۔ اگر کوالٹی سپنر صفیان مقیم کو بنگلہ دیش کی لوباؤنس اور سپن ٹریک وکٹوں پر چانس دیا جاتا تو پاکستان سیریز جیت سکتا تھا لیکن افسوس اس باصلاحیت کرکٹر کو خراب کیا جارہا ہے۔

کیا شاداب خان، محمد نواز اور خوشدل شاہ کی باؤلنگ صفیان مقیم سے بہتر ہے ؟ صفیان مقیم نے دورہ آسٹریلیا، زمبابوے اور ساؤتھ افریقہ میں عمدہ کارکردگی پیش کی اور شائد یہی پرفارمنس اسکی دشمن بن گئی۔ اسے بھی ان آؤٹ کے چکر میں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اسے سلیکٹ کرنے کے باوجود کھلایا نہیں جارہا۔ امریکہ اور ویسٹ انڈیز کی وکٹوں پر ریگولر سپنر صفیان مقیم اور ابرار کو کھلائیں یہ دونوں اس مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں اپنی عمدہ کارکردگی سے سیریز جتواسکتے ہیں۔

باقی ٹیم میں بابر اعظم ، محمد رضوان اور شاہین آفریدی کی واپسی سے ٹیم کمبی نیشن بہتر ہوگا۔ اس سیریز میں انکی واپسی ضروری تھی کیونکہ آگے ایشیا کپ اور T-20 ورلڈکپ میں بڑی ٹیموں کے ساتھ میچز میں مشکل صورتحال میں ہمیشہ سینئر ہی ٹیم کو بھنور سے نکالتے ہیں ۔جب تک بہتر کمبی نیشن کے ساتھ ٹیم کی سلیکشن نہیں ہوگی جیت مشکل ہے۔ پرچیاں اور ریلوے کٹے ٹیم سے نکالنے ہوں گے ورنہ کرکٹ کا حال بھی ہاکی جیسا ہی ہوگا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ غلط سلیکشن اور ہر چھوٹی ٹیم سے ہارنے کی وجہ سے لوگ کرکٹ دیکھنا  ہی  چھوڑ  دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں