لندن(نمائندہ خصوصی)شدید سردی کی لہر کے باعث پورے انگلینڈ میں ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ برطانیہ کا نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نئے سال کے آغاز پر مریضوں کی تعداد میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ صحت کے شعبے کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فلو کے مریضوں کی تعداد میں معمولی کمی آئی ہے، تاہم این ایچ ایس اب بھی خطرے سے باہر نہیں۔
ذرائع کے مطابق بدھ کو جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ 21 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں روزانہ اوسطاً 3 ہزار 61 فلو کے مریض اسپتالوں میں داخل رہے، جو اس سے ایک ہفتہ قبل 3 ہزار 140 تھے۔ اس کے باوجود این ایچ ایس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ اسپتال بدستور ناقابلِ یقین دباؤ میں ہیں اور ملک بھر میں تقریباً 95 فیصد اسپتال بیڈز پہلے ہی بھر چکے ہیں۔
برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق انگلینڈ کے تمام علاقوں کے لیے ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹس بدھ کی شام 8 بجے سے آئندہ منگل کی صبح 10 بجے تک نافذ رہیں گے۔ اس سے قبل صرف شمال مشرقی اور شمال مغربی انگلینڈ میں ایمبر الرٹس جبکہ دیگر علاقوں میں یلو الرٹس جاری تھے۔
یوکے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے ہیلتھ پروٹیکشن کنسلٹنٹ ڈاکٹر پال کولمین کے مطابق آئندہ چند دنوں میں پورے انگلینڈ میں شدید سردی پڑنے کا امکان ہے، جو بالخصوص بزرگ افراد اور سنگین بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم درجہ حرارت کے باعث دل کے دورے، فالج اور سینے کے انفیکشنز کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ سرد موسم میں اپنے بزرگ اور کمزور رشتہ داروں، دوستوں اور ہمسایوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

