وفاق میں کام کرنے والے اکثر سینئر افسروں کو ان دِنوں چیف سیکرٹری پنجاب ایک آنکھ نہیں بھا رہے،مگر دلہن وہی جو پیا من بھائے، زاہد زمان اپنے موجودہ عہدے پر دو سال مکمل کرنے جا رہے ہیں تو یہ سول سروس کے لئے بھی بہتر ہے اور اسے ایک اچھاعمل قرار دیا جانا چاہیے، ماضی میں تعینات ہونے والے کوئی دس بارہ چیف سیکرٹریوں کو ایک سال تو دور کی بات چند مہینوں میں ہی تبدیل کر دیا جاتا تھا،چیف سیکرٹری کا عرصہ تعیناتی چند ماہ ہونے کی بجائے،دو سے تین سال یا زیادہ ہونے سے یقینی طور پر گورننس اور ورکنگ پر اچھا اثر پڑتا ہے،ان دِنوں محسوس ہو رہا ہے کہ اکثر سینئر افسروں کو یہ اچھا نہیں لگ رہا،وہ نجی محفلوں اور اپنے دوستوں سے گپ شپ میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کم اور چیف سیکرٹری کی ورکنگ زیادہ ڈسکس کرتے ہیں،پنجاب میں حد سے زیادہ ناکام رہنے والے ایک دو سابق بڑے افسروں کے پاس ان دِنوں شاید صرف یہی ایک موضوع ہے۔
چند روز پہلے لاہور جمخانہ کیفے نائن میں کئی ریٹائرڈافسر مل گئے،ایک نے تو لپٹتے ہی کان میں سرگوشی کی ”تہاڈا چیف سیکرٹری کیہ کر ریا اے“ساتھ ہی مجھے گالف ویو سائڈ پہ لے گئے اور کافی کا آرڈر دیتے ہوئے پھر وہی سوال دھرا دیا،میں نے کہا چیف سیکرٹری آپ کی سروس سے تعلق رکھتے ہیں، شریف افسر ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں،اس پر انہوں نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے ذومعنی فقرہ بولا ”بہتے ای شریف افسر نہیں بن گئے“ میں نے اس بڑے ریٹائرڈ افسر سے کہا سر جی،زاہد زمان نے پنجاب میں ایک اچھی انتظامی ٹیم تشکیل دی ہوئی ہے اور میری معلومات کے مطابق وہ تمام افسروں کو عزت دیتے ہیں وگرنہ یہاں ماضی میں ایسے ایسے چیف سیکرٹری بھی میں نے دیکھے ہیں جو سیکرٹریوں سے لیکر اپنے ڈرائیور تک کی بے عزتی کرتے ہوئے تھکتے نہیں تھے او ر اس وقت آپ سمیت سب آگے سے خاموش رہتے تھے وہ تو اللہ بھلا کرے نوید اکرم چیمہ صاحب کا انہوں نے سیکرٹری جنگلات کی حیثیت سے اس چیف سیکرٹری کو ترکی بہ ترکی جواب دے کر ان کی طبیعت صاف کی تو پھر جا کر باقی سیکرٹریوں کو بھی سکون ملا، بعدازاں چیمہ صاحب چیف سیکرٹری بنے توانہوں نے افسروں کو مثالی عزت دی،ناصر کھوسہ صاحب چیف سیکرٹری بنے تو انہوں نے بات بات پر افسروں کو سرنڈر کرنے کے سیاسی احکامات بجا لانے سے انکار کر دیا تھا اور کمال کی گورننس کو فروغ دیا۔میرے طویل جواب پر اس پرانے افسر نے مجھے ٹانٹ کرتے ہوئے کہا ”لگدا اے تہاڈی چیف سیکرٹری نال بڑی پکی یاری اے“ میں نے مہذب انداز میں جواب دیا میرا تو ان کے ساتھ ایک صحافی اور سرکاری افسر والا تعلق ہے اور یہ تعلق آپ کے ساتھ بھی تھا۔ موصوف نے اس پر اپنی ستائش شروع کر دی ”یار ہم تو سرکاری افسر تھے اور آپ جانتے ہیں اپنے کام سے کام رکھتے تھے،مگراب تو اکثر افسر،حکمرانوں کے ذاتی افسر بن گئے ہیں،چیف سیکرٹری سول سیکرٹریٹ میں کم جبکہ وزیراعلیٰ آفس اور ان کی رہایش گاہ پر زیادہ ٹائم دیتے ہیں اور تو اور آپ سب نے دیکھا نہیں تھا کہ وہ کئی دوسرے ملکوں میں بھی پیش پیش تھے“میں نے بھی ہنستے ہوئے لائٹ انداز میں کہا کہ اسی لئے آپ اپنے دور میں وزیراعلیٰ کا کوئی ایک حکم بھی رکنے نہیں دیتے تھے مگر پھر بھی اپنی افسری نہ بچا سکے،آپ جیسے بڑے افسر اگر میجر اعظم سلیمان کی طرح کرپشن کے آگے بند باندھتے،گڈ گورننس کو فروغ دیتے تو مختصر عرصہ تعیناتی بھی آپ کا پرائڈ بن جاتا۔موصوف ریٹائرڈ افسر نے موضوع کو ڈی ٹریک کرنا مناسب سمجھا اور کہنے لگے گورایہ صاحب،سنا ہے چیف سیکرٹری نے چن چن کر اپنی پسند کے افسر لگائے ہوئے ہیں؟ساتھ ہی انہوں نے پنجاب میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے چند افسروں کے نام لینا شروع کر دیئے،میں نے پھر ہنستے ہوئے کہا آپ ان افسروں کو جانتے ہیں،ان افسروں کی اکثریت اچھی ہے اور کچھ افسر واقعی چیف سیکرٹری کے بہت قریبی سمجھے جاتے ہیں، مگر اِس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ایک سیاسی دور میں تمام افسر وہ خود لگا لیں، زاہد زمان موجودہ سیاسی دور سے پہلے والے نیم سیاسی دور میں بھی چیف سیکرٹری تھے اور اپنی ٹیم اچھی بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اب افسروں اور ان کے درمیان اچھی ورکنگ ہے،اس لئے معاملات بہتر انداز میں چلتے دکھائی دے رہے ہیں،اس پر وہ جھٹ سے بولے،کون سے اچھے افسر؟ میں نے اپنی معلومات کے مطابق انہیں بتایا کہ ایک خاتون افسر مریم خان کو اس کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے پنجاب میں تیسرے ڈویژن کا کمشنر لگایا گیا ہے جو ایک اچھا عمل گردانا جا رہا ہے،پنجاب میں ایک خاتون وزیراعلیٰ کی موجودگی میں خواتین افسروں کو بڑی عزت مل رہی ہے اور مریم خان کی تعیناتی تو ایک ریکارڈ ہے کہ کوئی خاتون افسر تیسرے ڈویژن کی کمشنر لگی ہے اور معاملات بہت کامیابی سے چلا رہی ہے،یہاں سمجھا جاتا تھا کہ خواتین افسر شاید فیلڈ میں اچھا کام نہیں کر سکتیں، مگر مریم خان نے اپنی محنت اور لگن سے ثابت کیا ہے کہ اب خواتین افسر بھی مرد افسروں سے کم نہیں ہیں،ان سے پہلے سلوت سعید نے بھی فیصل آبادمیں کمشنر کی حیثیت سے اچھا کام کیا ہے، ایک اور اچھی خاتون افسرمسرت جبیں کو ابھی بہاولپورمیں کمشنر لگایا گیا ہے،ان تعیناتیوں سے مزید خواتین افسروں میں کام کا جذبہ بڑھ رہا ہے، افسروں کا اچھا سٹف لگایا جا رہا ہے، لاہور کے کمشنر زید بن مقصود بڑے محنتی اور اپ رائٹ افسر ہیں انہوں نے لاہور جیسے اہم ڈویژن میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے،ابھی حال ہی میں صوبائی سروس سے تعلق رکھنے والے ایک محنتی افسر عامر کریم خان کو کمشنر ملتان لگایا گیا ہے،وہ اس سے پہلے وہاں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے بھی مثالی کام کر چکے ہیں،وہ اپنی محنت اور سمجھ بوجھ کی وجہ سے پچھلے کئی ادوار میں وزیراعلیٰ سیکریٹیریٹ میں تعینات رہے ہیں،ان کے پاس کوئی سیاسی نہیں،بلکہ کارکردگی کی سفارش ہے جس کی وجہ سے وہ ہر وزیراعلیٰ کی پسند بن جاتے ہیں،باقی ڈویژنوں میں بھی لگے ہوئے کمشنر اچھا کام کر رہے ہیں،چیف سیکرٹری کے ساتھ کام کرنے والے دو اہم سیکرٹری بھی مثالی کام کر رہے ہیں،سیکرٹری سروسز حافظ شوکت علی کی محنت،دیانت پر کوئی انگلی نہیں اُٹھا سکتا،جہاں بھی انہیں لگایا جائے مثالی کام کرتے ہیں،اسی طرح سیکرٹری آئی اینڈ سی رفاقت علی نسوانہ،تو چیف سیکرٹری کے چیف آف سٹاف ہیں،ان دونوں افسروں کے ذریعے سے پنجاب کے باقی افسروں کی کارکردگی کا جائزہ سامنے آتا ہے، یہ مصمم ارادے اور عزم کے افسر ہیں جو ٹھان لیتے ہیں ہر حال میں اس کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور ہر کام جارحانہ انداز سے کرتے ہیں،جب تک بیورو کریسی قواعد و ضوابط کی پابند اور ریاست کی وفادار رہتی ہے اس کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے،اس بحث کے بعد موضوع بدل ہی جانا تھا اور انہوں نے میرے ساتھ جمخانہ کے الیکشن پر بات شروع کر دی۔

