پاکستان کی ایٹمی و میزائل طاقت کا سیاسی سفارتی اور دفاعی سفر
شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کا معاملہ محض سائنسی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ مکمل طور پر ایک سیاسی سفارتی اور دفاعی مسئلہ تھا جس نے پاکستان کی داخلی اور خارجی سیاست کو گہرائی سے متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی میں جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن واضح طور پر بھارت کے حق میں تھا۔ 1965 کی جنگ کے بعد یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ روایتی ہتھیاروں کے ذریعے بھارت کا مقابلہ طویل مدت میں مشکل ہوگا۔ اسی پس منظر میں اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے غیر روایتی دفاعی صلاحیت حاصل کرنی ہوگی۔ ان کا مشہور جملہ اگر بھارت ایٹم بم بنائے گا تو ہم گھاس کھا لیں گے مگر اپنا بم ضرور بنائیں گے دراصل قومی سلامتی کی حکمت عملی کا اعلان تھا۔
1971 کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ نے پاکستانی قیادت کو شدید صدمہ پہنچایا۔ ملک دولخت ہوگیا اور بھارت خطے کی بڑی طاقت کے طور پر ابھرا۔ دسمبر 1971 کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو انہوں نے دفاعی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیا۔ جنوری 1972 میں ملتان میں پاکستان کے ممتاز سائنسدانوں کا اجلاس بلایا گیا جس میں ایٹمی پروگرام کو باقاعدہ قومی منصوبے کے طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈاکٹر منیر احمد خان کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی سربراہی سونپی گئی۔ اس وقت پاکستان کے پاس بنیادی جوہری ڈھانچہ تو موجود تھا لیکن ہتھیار سازی کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ 1974 میں بھارت کے پوکھران میں ایٹمی تجربے نے اس فیصلے کو حتمی شکل دے دی۔ اس تجربے کے بعد پاکستان نے کھل کر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
ایٹمی پروگرام کے دو بنیادی راستے تھے پلوٹونیم اور یورینیم افزودگی۔ ابتدائی طور پر پاکستان نے پلوٹونیم راستے پر کام شروع کیا لیکن بعد میں یورینیم افزودگی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ 1975 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان آئے جو یورینکو کمپنی میں کام کر چکے تھے اور سینٹری فیوج ٹیکنالوجی سے واقف تھے۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز قائم کی گئیں جہاں یورینیم افزودگی کا خفیہ پروگرام شروع ہوا۔ یہ سارا عمل سخت رازداری میں ہوا کیونکہ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور یورپی طاقتیں پاکستان کے اس پروگرام کے خلاف تھیں۔ 1976 میں امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کیا خاص طور پر فرانس کے ساتھ ری پروسیسنگ پلانٹ کے معاہدے کو منسوخ کروانے کے لیے۔ بالآخر شدید امریکی دباؤ کے تحت یہ معاہدہ منسوخ ہوا لیکن پاکستان نے متبادل راستہ اختیار کرلیا۔
یہاں سے ایٹمی پروگرام مکمل طور پر سیاسی تنازعہ بن گیا۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی پھیلاؤ ہوگا جبکہ پاکستان اسے اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ رہا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے سخت پیغام رسانی کی باتیں تاریخی حوالوں میں ملتی ہیں۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا اور 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک متنازع عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی دے دی گئی۔ بہت سے سیاسی مبصرین کے مطابق بھٹو کی خارجہ پالیسی اسلامی بلاک بنانے کی کوششیں اور ایٹمی پروگرام پر ان کا اصرار عالمی طاقتوں کو ناگوار تھا اگرچہ سرکاری طور پر ان کی سزا کا تعلق ایک فوجداری مقدمے سے بتایا گیا۔
ضیاء الحق کے دور میں ایٹمی پروگرام خاموشی سے جاری رہا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان جنگ کے باعث امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی اس لیے ایٹمی پروگرام کے معاملے پر نسبتاً نرمی برتی گئی۔ تاہم 1985 میں پریسلر ترمیم منظور کی گئی جس کے تحت امریکی صدر کو یہ تصدیق کرنا ہوتی تھی کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا۔ 1990 میں یہ تصدیق روک دی گئی اور پاکستان پر پابندیاں عائد ہوئیں۔ اس عرصے تک پاکستان عملی طور پر ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا تھا۔
1988 میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں۔ ان کے دور میں سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ ایٹمی صلاحیت کو مؤثر دفاعی نظام میں کیسے بدلا جائے۔ صرف ایٹم بم بنانا کافی نہیں تھا بلکہ اسے ہدف تک پہنچانے کے لیے قابل اعتماد میزائل نظام درکار تھا۔ بھارت پہلے ہی پرتھوی اور اگنی میزائل پروگرام پر کام کر رہا تھا۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے حتف شاہین اور بعد میں غوری میزائل پروگرام کو تیز کیا۔ حتف میزائل ابتدائی اور محدود رینج کے تھے لیکن بعد میں شاہین میزائل سالڈ فیول ٹیکنالوجی کے ساتھ تیار کیا گیا جو تیز اور مؤثر نظام سمجھا جاتا ہے۔ غوری میزائل مائع ایندھن پر مبنی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا نظام تھا جس کا تجربہ 1998 میں کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں ان منصوبوں کو سیاسی سرپرستی ملی اور دفاعی سائنسدانوں کو حکومتی حمایت حاصل رہی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی ایٹمی طاقت ایک مسلسل سیاسی جدوجہد سفارتی دباؤ کے مقابلے اور سائنسی محنت کا نتیجہ ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس کی بنیاد رکھی اور اسے قومی ایجنڈا بنایا۔ مختلف ادوار میں اس پروگرام کو خفیہ طور پر جاری رکھا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں میزائل ٹیکنالوجی کو تقویت ملی جس نے ایٹمی صلاحیت کو مکمل دفاعی ڈھانچے میں تبدیل کیا۔
یوں کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے دفاعی خودمختاری آئینی استحکام سفارتی فعالیت اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کو نہ صرف محفوظ بنایا بلکہ اسے خطے کی دیگر طاقتوں کے برابر لا کھڑا کیا۔ ایٹمی اور میزائل پروگرام نے پاکستان کو ایسی دفاعی ضمانت فراہم کی جس نے ملکی سالمیت کو مضبوط کیا اور عالمی سیاست میں اسے ایک اہم مقام دلایا۔

