صحافت کوئی تفریح، کاروبار یا سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ ایک مقدس اور ذمہ دارانہ پیشہ ہے۔ یہ کسی بھی ریاست اور معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتی ہے۔ صحافی وہ ہوتا ہے جو آنکھوں سے دیکھتا ہے، کانوں سے سنتا ہے اور جو کچھ دیکھے اور سنے، اسے بغیر خوف، بغیر لالچ اور بغیر تعصب عوام تک پہنچاتا ہے۔ اصل صحافت میں خبر کے ساتھ اصلاح ہوتی ہے، سوال کے ساتھ ذمہ داری ہوتی ہے، اور تنقید کے ساتھ نیت کی پاکیزگی ہوتی ہے۔
ایک پیشہ ور صحافی نہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہوتا ہے، نہ کسی ادارے کا ترجمان اور نہ کسی رہنما کا مداح۔ وہ نہ حمایتی ہوتا ہے نہ مخالف، وہ صرف سچ کا ساتھی ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صحافت اس تعریف سے بہت پہلے باہر نکل چکی ہے۔
آج پاکستان میں صحافت کم اور سیاسی دلالی زیادہ ہو رہی ہے۔ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ٹی وی اینکرز، یوٹیوبرز اور دیگر میڈیا پرسنز کی ایک بڑی تعداد مخصوص سیاسی جماعتوں کے ترجمان، فوجی منصوبوں کے ماؤتھ پیس یا بیرونی ایجنڈوں کے آلۂ کار بن چکی ہے۔ ان کے پروگرام خبر نہیں، بیانیہ فروخت کرتے ہیں؛ سوال نہیں، فیصلے سناتے ہیں؛ اور تجزیہ نہیں، نفرت پھیلاتے ہیں۔ ان کے اسٹوڈیوز بحث کے مراکز نہیں بلکہ نفرت، اشتعال اور پروپیگنڈے کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔
یہ صورتحال حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بند ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں میڈیا اور سوشل میڈیا کو ریاستی انجینئرنگ کے لیے باقاعدہ استعمال کیا گیا۔ چند جرنیلوں نے ایک طویل المدتی سیاسی منصوبے کے تحت اربوں روپے جھونک کر نام نہاد صحافیوں، اینکرز اور یوٹیوبرز کی ایک پوری فوج تیار کی۔ ان کا واحد مشن تھا: ایک مخصوص سیاسی شخصیت کو مسیحا، صادق و امین بنا کر پیش کرنا، اور اس کے تمام مخالفین کو چور، ڈاکو اور غدار ثابت کرنا۔
اسی دوران سیاست، جمہوریت، پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کو مجموعی طور پر بدنام کیا گیا۔ اختلاف کو غداری، سوال کو بغاوت اور تنقید کو دشمنی بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحافت کی جگہ ایک سیاسی کلٹ نے لے لی—جہاں دلیل جرم اور اندھی عقیدت فرض بن گئی۔
لیکن جب وہ منصوبہ ناکام ہوا اور وہ سیاسی چہرہ اقتدار سے باہر ہوا تو یہی نام نہاد صحافی، اینکر اور یوٹیوبر اچانک انقلابی بن گئے۔ جو کل تک فوج کے پے رول پر تھے، جو کروڑوں روپے لے کر بیانیہ بیچ رہے تھے، جو جرنیلوں کو ملک و قوم کی نجات دہندہ قرار دے دے کر نہیں تھکتے تھے، وہی آج فوج، عدلیہ، ریاست اور ملک کے سب سے بڑے ناقد بلکہ دشمن بن کر سامنے آئے۔ تنقید نہیں، بغاوت ان کا ہتھیار بنی۔ صحافت نہیں، ڈیجیٹل دہشتگردی ان کا طریقہ بن گیا۔
ملک سے فرار ہو کر بیرونِ ملک بیٹھے ان عناصر نے جعلی ویڈیوز، جھوٹی خبریں، من گھڑت کہانیاں اور نفرت انگیز مواد کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکایا۔ فوجی تنصیبات پر حملوں کو جواز فراہم کیا گیا، اداروں کے خلاف نفرت کو نظریہ بنایا گیا، اور ملک دشمن بیانیے کو آزادیِ اظہار کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔
اسی تناظر میں انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد کا حالیہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے 9 مئی کے واقعات کے بعد ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی میں ملوث عادل راجا، حیدر مہدی، صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صبہائی اور وجاہت سعید کو دو، دو بار عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید اور 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ صحافت کے نام پر ریاست کے خلاف نفرت پھیلانا آزادیِ اظہار نہیں بلکہ جرم ہے۔
تاہم اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں آج کے مجرم کل کے محبِ وطن بن جاتے ہیں، اور طاقتور حلقے اپنے ہی پیدا کردہ عفریتوں کو دوبارہ گود لے لیتے ہیں۔ بعید نہیں کہ یہی لوگ کل کسی نئے سیاسی یا عسکری منصوبے کے تحت ’’قیمتی اثاثے‘‘ قرار پائیں، وی لاگز کرتے ہوئے حساس تنصیبات میں گھومتے نظر آئیں، وزیرِاعظم ہاؤس کے باتھ رومز کے ٹبوں میں لیٹے دکھائی دیں، اور قوم ایک بار پھر تماشائی بنی رہے۔
تاہم آج کے دن کے لیے یہ فیصلہ ایک سبق ضرور ہے۔ یہ سبق ان نام نہاد صحافیوں کے لیے ہے جو دراصل سیاسی کارکن ہیں، جو خود کو آزاد سمجھنے کے بجائے کسی سیاسی رہنما کی شاباش پر فخر کرتے ہیں۔ یہ سبق ان طاقتور حلقوں کے لیے بھی ہے جو ایسے عفریت پیدا کرتے ہیں، انہیں پروان چڑھاتے ہیں، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر ہاتھ جھاڑ لیتے ہیں۔ انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ عفریت آخرکار صرف انہیں نہیں بلکہ پورے ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اظہارِ رائے ایک حق ہے، مگر اسی اظہار کے ذریعے نفرت، تشدد اور بغاوت پھیلانا جرم ہے۔ جائز تنقید اور دہشتگردی میں فرق نہ سمجھنے والا صحافی نہیں بلکہ مجرم ہے، اور مجرم کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو قانون کا تقاضا ہے۔
ریاست کو چاہیے کہ ان سزاؤں پر مکمل اور مستقل عملدرآمد یقینی بنائے، کسی ڈیل، مفاہمت یا ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر پیچھے نہ ہٹے۔ ساتھ ہی صحافتی اداروں، پریس کلبز اور میڈیا ہاؤسز پر لازم ہے کہ وہ اپنے شعبے کی تطہیر کریں، سخت ضابطۂ اخلاق نافذ کریں، اور صحافی، اینکر اور سیاسی کارکن کے درمیان واضح لکیر کھینچیں۔
صحافت پہلے ہی عوام کا اعتماد بڑی حد تک کھو چکی ہے۔ اگر اب بھی اصلاح نہ کی گئی تو یہ پیشہ اپنی آخری ساکھ بھی گنوا دے گا۔ صحافت کو سیاست سے، اینکر کو کارکن سے، اور خبر کو پروپیگنڈے سے الگ کرنا اب اختیار نہیں، ریاستی ضرورت بن چکا ہے۔

