صحافت پر حملے: سچ دبانے کی خطرناک روایت

صحافیوں کے خلاف تشدد صرف چند افراد پر نہیں، بلکہ سچ پر حملہ ہے۔ یہ انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کو روندنے کی کوشش ہے — وہ اقدار جو کسی بھی آزاد اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ جب ناقد آوازیں دبائی جاتی ہیں تو معاشرے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں، اور یہی وہ المیہ ہے جس سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک بار بار گزرتے ہیں۔

صحافیوں کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد آزادیِ اظہار کے اصولوں کے منافی ہے۔ دنیا بھر میں ناقد صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد کبھی حقیقت کو نہیں چھپا سکتا، بلکہ طاقتوروں کی بوکھلاہٹ کو عیاں کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی کبھی آزاد صحافیوں کے لیے محفوظ سرزمین نہیں رہا۔ ہر دورِ حکومت میں — خواہ وہ کسی سیاسی جماعت کا ہو یا آمریت کا — جو بھی صحافی آزادی کے ساتھ ناانصافی یا برائی کے خلاف آواز بلند کرتا، اسے خاموش کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا گیا۔ گولیوں اور جیلوں سے لے کر دھمکیوں اور تشدد تک، سب طریقے استعمال کیے گئے تاکہ اختلافی آواز دبا دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں صحافت کی آزادی عالمی درجہ بندی میں ہمیشہ منفی تاثر کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

کئی سیاسی جماعتوں نے وقت کے ساتھ صحافیوں کے ساتھ رویے میں کچھ بہتری دکھائی، تاہم گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر پاکستان تحریکِ انصاف نے ایک نئے اور خطرناک کلچر کو جنم دیا، جہاں مخالف آوازوں کے لیے مکمل طور پر عدم برداشت دیکھنے میں آئی۔ عمران خان کو اقتدار میں لانے اور آگے بڑھانے کے لیے اُس وقت کے طاقتور حلقوں کی واضح پالیسی یہی تھی کہ ناقدین کو ہر طریقے سے دبایا جائے۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف ذاتی اور کردار کش حملے کیے گئے بلکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے تشدد کو بھی ایک باقاعدہ ہتھیار بنایا گیا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے رویے پر نظر ڈالیں تو ایک تشویشناک رجحان سامنے آتا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ برسوں سے عمران خان نے اپنے کارکنوں کو مخالفین کو گالیاں دینے، ذلیل کرنے اور رسوا کرنے کی تربیت دی ہے تاکہ انہیں دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا جائے۔ مسائل پر بات کرنے یا حقائق پیش کرنے کے بجائے، ہمیشہ تضحیک اور کردار کشی کرنا ہی ان کا طریقہ رہا ہے۔ یہ گالم گلوچ صرف جلسوں اور پریس کانفرنسوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا پر منظم مہمات تک پھیل گئی، جہاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ صحافیوں اور ناقدین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں، پی ٹی آئی کارکنوں نے کئی مرتبہ صحافیوں کو جسمانی طور پر بھی نشانہ بنایا، جبکہ خواتین صحافی خاص طور پر ان کے نشانے پر رہیں۔ انہی شواہد کی بنیاد پر عمران خان کے دورِ حکومت میں عالمی اداروں نے انہیں “Predator of Free Press” قرار دیا، جو پاکستان کی صحافتی تاریخ اور عمران خان کے لیے ایک بدنما داغ ہے۔

یہ امید کی جا رہی تھی کہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پی ٹی آئی اپنے رویے میں تبدیلی لائے گی، لیکن بدقسمتی سے ان کا رویہ مزید جارحانہ ہو گیا۔ ہر سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدلا گیا اور مرد و خواتین صحافیوں کے خلاف ایسی حرکات کی گئیں جن کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن نظریات کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ جسے قائد مان لیا جائے، اس کے ہر عمل کو — خواہ وہ ذاتی کردار کی کمزوری ہو، بدعنوانی ہو یا کوئی صریح غلط قدم — درست اور جائز قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر بعینہٖ وہی عمل کسی مخالف رہنما سے سرزد ہو تو اسے ناقابلِ معافی جرم بنا دیا جاتا ہے۔ اس اندھی تقلید کا نتیجہ یہ ہے کہ کارکن اپنے لیڈر سے سوال کرنے کی جرات نہیں کرتے، بلکہ جو دوسرا سوال اٹھائے، اس پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہی کچھ صحافی طیب بلوچ کے ساتھ ہوا۔

گزشتہ روز طیب بلوچ پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا حملہ اور بہیمانہ تشدد اسی رویے کی ایک تازہ مثال ہے — جو محض ایک جائز سوال پوچھنے پر کیا گیا۔ اڈیالہ جیل کے باہر ایک منصوبہ بندی شدہ کارروائی میں انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے عمران خان کی بہن علیمہ خان سے امریکہ میں جائیداد خریدنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ الزام یہ ہے کہ یہ جائیداد شوکت خانم اسپتال کے عطیات سے حاصل شدہ رقم سے خریدی گئی۔ یہ حملہ انہیں زخمی اور اذیت زدہ چھوڑ گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ کسی عام کارکن کی جذباتی حرکت نہیں تھی۔ وائرل ویڈیوز میں واضح طور پر پی ٹی آئی کے معروف وکلاء، بشمول نعیم پنجوتھہ اور ایک رکن اسمبلی کو صحافی کو گالیاں دینے اور حملے پر اکسانے میں شریک دیکھا جا سکتا ہے۔ جب قانون کے محافظ ہی تشدد پر اتر آئیں اور آزادی صحافت کے دشمن بن جائیں تو یہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ جمہوریت کے لیے نہایت خطرناک بھی ہے۔

علیمہ خان پہلے بھی اپنی بیرون ملک جائیدادوں پر تنقید کی زد میں رہی ہیں۔ دسمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے انہیں متحدہ عرب امارات میں غیر ظاہر شدہ جائیداد پر تقریباً 29.4 ملین روپے ٹیکس اور جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکہ میں بھی ان کی جائیدادوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، کیونکہ بظاہر ان کے ذرائع آمدن اس کے متحمل نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ بیرون ملک چندہ دینے والے کارکن اور ڈونرز کیوں یہ نہیں پوچھتے کہ اسپتال اور یونیورسٹی کے نام پر جمع کیا گیا پیسہ کہاں اور کیسے خرچ ہوتا ہے؟ لیکن جب یہی سوال طیب بلوچ نے اٹھایا تو جواب دینے کے بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ اس خطرناک رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ طاقتور اور ان کے خاندان “سوالات سے بالاتر” ہیں۔ یہ رویہ جمہوری اداروں کو کھوکھلا کرتا ہے، تشدد کو معمول بناتا ہے اور عوام کے اعتماد کو تباہ کرتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو نہ صرف صحافی خاموش ہوں گے بلکہ عوام سچ جاننے کے اپنے بنیادی حق سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

اب لکیر کھینچنے کا وقت ہے۔ اگر آج صحافیوں پر حملے کرنے والے بے نقاب اور سزا یافتہ نہ ہوئے تو کل ہر شہری سچ بولنے کے حق سے محروم ہو جائے گا۔ آزادیِ صحافت صرف جمہوریت کے لیے نہیں بلکہ ہر معاشرتی نظام کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ جہاں صحافت آزاد نہیں، وہاں انصاف، احتساب اور انسانی وقار سب کچھ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں