پشاور (نمائندہ خصوصی + نیوز ایجنسیاں) —وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبوں کے تحفظات ختم کرکے قوم کے وسیع تر مفاد میں کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائیت کے چکر میں پورے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اجتماعی فائدے کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا، لہٰذا سب کو اعتماد میں لے کر مستقبل کیلئے کالا باغ ڈیم جیسا اہم منصوبہ ضرور بنایا جانا چاہیے۔
ادھر، علی امین گنڈاپور نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں کلاﺅڈ برسٹ کے نتیجے میں بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ سے صوبے کے متعدد اضلاع بری طرح متاثر ہوئے۔
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں بونیر، شانگلہ، سوات، بٹگرام، باجوڑ اور صوابی شامل ہیں۔
مختلف حادثات میں 411 افراد جاں بحق، 132 زخمی اور 12 افراد لاپتا ہوئے۔
مجموعی طور پر ساڑھے 12 ہزار خاندان متاثر ہوئے، جبکہ 571 گھر مکمل اور 1983 گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 1996 دکانوں کو نقصان پہنچا، 413 چھوٹی بڑی سڑکیں اور 72 پل متاثر ہوئے۔ اسی طرح 589 سرکاری عمارتیں اور 99 بجلی کے فیڈرز تباہی کی زد میں آئے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر بھی کریش ہوا جس میں 5 اہلکار شہید ہوئے، جس کے بعد 15 اگست سے متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے بروقت ریسپانس دیا، 6700 افراد کو زندہ بچایا گیا۔
متاثرہ علاقوں میں 2500 ریسکیو اہلکار اور 1000 سول ڈیفنس رضا کار تعینات کیے گئے۔
پاک فوج کے تین یونٹس اور پانچ ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو و ریلیف آپریشن میں حصہ لیا۔
امدادی کاموں کیلئے 176 گاڑیاں، ایمبولینس، فائرفائٹرز اور کشتیاں روانہ کی گئیں۔
متاثرہ سڑکوں و پلوں کو بحال کرنے کیلئے سی اینڈ ڈبلیو کی 200 ہیوی مشینری تعینات کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس اور 4 موبائل ہسپتال قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو تیار کھانا فراہم کیا گیا۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے15 واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی نصب کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اموات کے معاوضے کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے فی کس کر دیا گیا ہے۔زخمیوں کے معاوضے کو ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے فی کس کر دیا گیا ہے۔

