اس سال اپریل میں کینیڈا میں ہونے والے عام انتخابات میں سابق بینکر مارک کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی محض تین ووٹوں کے فرق سے اقلیتی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ ابتدا ہی سے تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا تھا کہ بجٹ یا اعتماد کے ووٹ کے وقت اگر اپوزیشن نے ساتھ نہ دیا تو حکومت خطرے میں پڑ جائے گی اور چند ہی ماہ میں دوبارہ انتخابات کرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔ اب جب بجٹ پیش ہو چکا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے ابھی تک بجٹ کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح نہیں کی، تو حکمران جماعت نے خطرہ بھانپتے ہوئے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئےوہی متنازعہ راستہ اختیار کیا ہے جو کئی جمہوریتوں کی کمزوری کی علامت بن چکا ہے اپوزیشن اراکین کو توڑ کر اپنے ساتھ ملانے کا حربہ۔
پانچ نومبر 2025 کو نووا اسکوٹیا کے رکنِ پارلیمنٹ کرس ڈینٹرمانٹ نے سب کو حیران کر دیا جب انہوں نے کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر لبرل جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے اس اقدام سے حکومت محض دو ووٹوں کی کمی کے ساتھ اکثریت کے قریب پہنچ گئی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر گیا کہ “پارٹی بدلنا” کیا سیاسی عمل کا جائز حصہ ہے یا عوامی مینڈیٹ سے غداری۔
کینیڈا کی تاریخ میں یہ عمل نیا نہیں۔ 1868 میں نووا اسکوٹیا کے ہی ایک رکن اسٹیورٹ کیمبل نے اینٹی کنفیڈریٹ جماعت چھوڑ کر سر جان اے میکڈونلڈ کی لبرل کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ “ڈکشنری آف کینیڈین بایوگرافی” کے مطابق، عوامی ردعمل اتنا شدید تھا کہ انہیں ایک تقریب میں انڈے مارے گئے۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ پارلیمنٹ کی لائبریری کے اعداد و شمار کے مطابق، 1867 سے اب تک 307 اراکینِ پارلیمنٹ نے پارٹی تبدیل کی ہے۔ ان میں سے 158 نے براہِ راست ایک پارٹی سے دوسری میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 149 اراکین نے بطور آزاد رکن کام کیا یا بعد میں کسی جماعت سے وابستہ ہوئے۔ صرف گزشتہ 25 سالوں میں 80 ارکانِ پارلیمنٹ نے انتخابی مدت کے دوران اپنی وفاداری بدلی ہے ، کبھی قیادت کی تبدیلی کے بعد، کبھی نظریاتی اختلاف کے نتیجے میں، اور اکثر اقتدار کی سیاست کے تحت۔
2000 میں کیوبک کے ڈیوڈ پرائس اور ڈیان سینٹ جیک نے پروگریسو کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر لبرلز میں شمولیت اختیار کی، تاکہ ان کی نشستیں بلاک کیوبیکوا کے ہاتھ نہ لگیں۔ 2003 میں اسکاٹ بریسن نے پارٹی اتحاد کے بعد نئی کنزرویٹو جماعت کو چھوڑ کر لبرلز کا رخ کیا، کیونکہ ان کے بقول “نئی پارٹی ان کے ذاتی اقدار کی عکاسی نہیں کرتی تھی۔”
2005 میں بیلنڈا سٹروناچ نے بھی یہی راستہ اپنایا اور لبرل حکومت کو بچانے کے لیے کنزرویٹو پارٹی چھوڑ دی۔ 2006 میں ڈیوڈ ایمرسن نے لبرل ٹکٹ پر جیتنے کے صرف دو ہفتے بعد کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور وزیر مقرر ہوئے۔ عوامی دباؤ اتنا بڑھا کہ معاملہ ‘اخلاقی کمشنر’ تک جا پہنچا، مگر قانونی طور پر کوئی خلاف ورزی ثابت نہ ہو سکی۔ پاکستان نژاد لبرل رکنِ پارلیمنٹ واجد خان نے 2007 میں کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی اس وفاداری تبدیلی کو لبرل ووٹرز نے “سیاسی غداری” قرار دیا۔ اگلے انتخابات میں وہ اپنی نشست کھو بیٹھے اور دوبارہ پارلیمنٹ میں داخل نہ ہو سکے۔ 2018 میں لیونا السلیو نے لبرلز چھوڑ کر کنزرویٹو پارٹی جوائن کی، جب کہ 2021 میں جینیکا ایٹون نے گرین پارٹی چھوڑ کر لبرلز میں شمولیت اختیار کی۔ ہر واقعے کے بعد ایک ہی سوال اٹھا ، کیا یہ اصولی فیصلہ تھا یا اقتدار کی کشش کا نتیجہ؟
عوامی رائے تقسیم ہے۔ رائے عامہ کے ایک معتبر ادارے کے مطابق، تقریباً چالیس فیصد کینیڈین ووٹرز سمجھتے ہیں کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو انتخابات کے درمیان پارٹی بدلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی رکن پارٹی چھوڑنا چاہے تو پہلے اپنی نشست خالی کرے اور ضمنی انتخاب میں دوبارہ عوام سے مینڈیٹ حاصل کرے۔ تقریباً اتنی ہی تعداد اس عمل کو “قابلِ قبول” سمجھتی ہے، مگر یہ رائے دیتی ہے کہ ایسے ارکان کو کم از کم آزاد حیثیت میں خدمات انجام دینی چاہئیں تاکہ عوامی اعتماد مجروح نہ ہو۔ ادارے کی صدر شاشی کرل کے مطابق، “یہ فیصلہ اکثر سیاسی خودکشی ثابت ہوتا ہے ، جو رکن پارٹی بدلتا ہے، وہ عام طور پر اگلے انتخابات میں کامیاب نہیں ہوتا۔”
اگرچہ فلور کراسنگ کبھی کبھار نظریاتی اختلاف یا قیادت سے مایوسی کا نتیجہ بھی ہوتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ زیادہ تر اقتدار کے سودوں اور عددی اکثریت کے کھیل کا حصہ بن گئی ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو کئی ممالک میں جمہوریت کو اندر سے کھوکھلا کر گیا۔یہی وہ رجحان ہے جس نے کئی ملکوں میں جمہوریت کو کھوکھلا کر دیا۔ بھارت میں وفاداریوں کی بار بار تبدیلی نے نظام کو اس قدر کمزور کر دیا کہ آئین میں اینٹی ڈیفیکشن قانون نافذ کرنا پڑا۔ جنوبی افریقہ میں یہی رجحان حزبِ اختلاف کو مٹا گیا۔ اور پاکستان میں تو یہ عمل اب معمول بن چکا ہے، جہاں سیاسی وفاداریاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں، حکومتیں چند ارکان کے ضمیر پر ٹکی ہوتی ہیں، اور عوام ان موقع پرست سیاست دانوں کو طنزیہ طور پر “لوٹے” کہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں متعد د حکومتیں اسی لوٹا کلچر کی نذر ہوئیں۔ جمہوریت کا تماشا بنا اور عوامی اعتماد خاک میں مل گیا۔
کینیڈا جیسے مستحکم جمہوری ملک کے لیے یہ رجحان خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر آج اقتدار بچانے کے لیے پارٹی وفاداری کو اقتدار کی کشش کا معمول بنا لیا گیا، تو کل کوئی بھی حکومت اکثریت کے باوجود غیر محفوظ رہے گی۔ عوام اپنے نمائندوں سے اصول، شفافیت اور دیانت کی توقع رکھتے ہیں ، نہ کہ طاقت کے کھیل میں ضمیر بدلنے کی۔ اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر اصول دائمی۔ اگر وزیرِاعظم کارنی نے اقتدار کے لیے اصولوں کی قربانی دی، تو وقتی طور پر حکومت تو بچ جائے گی، مگر تاریخ میں یہ دور ہمیشہ اس جملے سے یاد رکھا جائے گا:
“کینیڈا میں بھی حکومت بچانے کیلئےاصول قربان کیے گئے۔”

