”میرا پنجاب“ آج کل CCDکے ذریعے ماورائے عدالت اقدامات کرکے دنیا کو پچھاڑ رہا ہے،،، انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر لاکھ سوالات کھڑے کریں،،، عدالتیں چیختی چلاتی رہیں، مگر مجال ہے کہ اس کی ”کارکردگی“ میں کوئی فرق آرہا ہو۔ انہیں شاید ”اوپر “ والوں کی آشیر باد حاصل ہے، تگڑے سیاستدانوں کی، یا ان کے اپنے اندر ہی کالی بھیڑی چھپی ہوئی ہیںجو ماورائے عدالت ملزمان کو پار لگاکر شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ اُنہوں نے پنجاب بھر سے 80فیصد جرائم کا خاتمہ کر لیا ہے، لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں کہ اُنہوں نے سینکڑوں ایسے قاتل پیدا کر دیے ہیں،جن کے پیاروں کو ناحق قتل کیا گیا،، اور جو بدلے کی آگ سینے میں لیے انتقام لینا چاہ رہے ہیں۔ اور پھر یہ کبھی کبھار کے واقعات نہیں بلکہ ہم ہر روز سنتے ہیں کہ آج سی سی ڈی نے فلاں کو پار لگا دیا یا فلاں شخص کو اُس کے ساتھیوں نے ہی مار دیا،،، شاید یہ اقدام بہت سوں کے لیے فرحت بخش ہوں مگر کسی مہذب ملک میں ایسا ہونا تباہ کُن اور شرمناک ہوتا ہے،،، کیوں کہ دنیا آپ کو ایسی نظر سے دیکھتی ہے کہ یہاں عدالتیں کام نہیں کر رہی بلکہ لوگوں کو ذاتی مفادات کی خاطر قتل کیا جاتا ہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ دنیا انگشت بدنداں ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فورس کے پاس عدالتی اختیارات بھی چلے جائیں کہ وہ خود ہی منصف بن کر فیصلے کرنے شروع کردے کہ کس کو پکڑ کر پار لگانا ہے اور کس کو چھوڑنا ہے!
میں شاید اپنے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے ایک ادارے ”سی سی ڈی“ پر دوبارہ کالم لکھنے کی جسارت نہ کرتا لیکن حالیہ دنوں میں نعمان قیصر نامی تاجر کو جس طرح انہوں نے مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کیا ہے، اُس سے یہی لگتا ہے کہ اب یہ ملک واقعی رہنے کے قابل نہیں رہا۔ پہلے آپ اس واقعہ کی مختصر تفصیل ملاحظہ فرمائیں پھر آپ خود بھی فیصلہ کیجئے گا کہ آیا اس فورس کا ہونا ضروری ہے یا نہیں یا یہ محض پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے؟ ہوا کچھ یوں کہ نعمان قیصر جو ایک پاکستانی نژاد بزمین تھے جو بارسلونا، اسپین میں مقیم تھے اور وہاں کاروبار کرتے تھے۔ وہ اسپین کے شہری بھی تھے اور پاکستان میں خاندانی تنازعات کی وجہ سے قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔ نعمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بہنوئی کے قتل کا منصوبہ بنایا، جو سہراب سائیکلز کے مالک محمد امجد قاضی کا نوجوان بیٹا(معاذ) تھا۔یہ قتل 2023ءمیں نصیر آباد تھانے کی حدود میں اجرتی قاتلوں کی مدد سے ہوا۔ واقعہ میں ملوث دونوں اجرتی قاتلوں کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ جب معاذ قتل ہوا تو ملزم نعمان قیصر اسپین میں تھا، اسی اثنا ءمیں سرکار نے اُن کا ریڈ وارنٹ نکالا، اور پھر انہوں نے اسپین سے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تاکہ عدالتوں میں پیش ہوکر کیس کا سامنا کرسکیں،،، اور بقول اُن کے اور اُن کے خاندان کے کہ اُنہیں انصاف مل سکے،،،
وہ جیسے ہی پاکستان آتے ہیں تو یہاں پر موجود سکیورٹی اداروں کے ریڈار پر آگئے،،،اُنہیں شاید یقین تھا کہ پاکستان کی عدالتیں اُنہیں فوری انصاف فراہم کریں گی،،، لیکن اُنہیں کیا علم تھا کہ یہاں عدلیہ سے زیادہ ”ادارے“ مضبوط ہیں! جو کسی کی نہیں سنتے بلکہ اُنہیں محض اپنے مفادات عزیز ہیں،،، نعمان قیصر کے خلاف جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا سب سے پہلے تھانہ نصیر آباد میں قتل (دفعہ 302) کا مقدمہ درج ہوا۔ اس مقدمے میں وہ تقریباً آٹھ ماہ جیل میں رہے۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ سے 24 جنوری 2025 کو انہیں ضمانت مل گئی۔ضمانت ملنے کے صرف دو دن بعد انہیں ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مقدمہ تھانہ کاہنہ میں ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا، اس مقدمہ میں بھی نعمان قیصر کی ضمانت منظور ہوگئی تھی۔اپنے خلاف درج مقدمہ کے ٹرائل کے دوران جب 31جنوری 2026 کو جب نعمان قیصر عدالت سے گھر واپس جا رہے تھے تو اچھرہ کے قریب انہیں سی سی ڈی اہلکاروں اور نامعلوم افراد نے اٹھا لیا۔جب یہ معاملہ عدالت میں آیا اور سی سی ڈی اور پولیس کی جانب سے یہ رپورٹ جمع کروائی گئی کہ نعمان قیصر کسی مقدمہ میں مطلوب نہیں ہے،،، تاہم انہیں ایک شناخت پریڈ کی وجہ سے جیل میں بند کیا گیا ہے،،، ڈکیتی کے جس مقدمہ میں نعمان قیصر کو شناخت پریڈ پر جیل میں بند کیا گیا تھا وہ مقدمہ بھی جھوٹا تھا۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ نعمان قیصر کا نام پی این آئی ایل لسٹ میں بھی شامل ہے،،، یہ نام منڈی بہاو¿الدین میں 30 نومبر 2025 کو ہونے والے ایک مبینہ پولیس مقابلے اور قتل کے مقدمے میں ڈالا گیا۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق اس واقعے کے وقت نعمان قیصر جیل میں قید تھے۔ عدالت میں ڈی آئی جی لیگل نے بھی اعتراف کیا کہ اس مقدمے میں نعمان قیصر کا نام غلطی سے شامل ہو گیا تھا۔پھر سماعت کے دوران عدالت نے سی سی ڈی افسران سے پوچھا کہ کسی شہری کا نام اس طرح مقدمے میں کیسے شامل کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ اگر کسی شخص کا نام غلط طور پر کسی فہرست میں ڈال دیا جائے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور اس سے شہری کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔عدالت نے اس عمل کو محض معمولی غلطی قرار دینے پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ یہ صرف غلطی نہیں بلکہ سنگین معاملہ ہو سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا اس طرح کے اقدام پر فوجداری جرم بھی بنتا ہے۔جسٹس تنویر احمد شیخ نے سی سی ڈی حکام کو سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ذمہ دار افسران کو پیش نہ کیا گیا تو آئی جی پنجاب کو عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نعمان قیصر کا نام ایک اور قتل کے مقدمے میں بھی شامل کیا گیا، حالانکہ اس واقعے کے وقت وہ بیرون ملک موجود تھے۔وکیل نے عدالت میں خدشہ ظاہر کیا کہ بار بار مقدمات میں نام شامل کرنے کا مقصد گرفتاری نہیں بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ جب بھی وہ سفر کریں تو انہیں کسی بھی جگہ سے اٹھایا جا سکے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کے اقدامات سے ایک شہری کا مستقبل تباہ ہو سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ صرف انکوائری مارک کرنا کافی نہیں بلکہ ذمہ دار افسران کو سامنے لانا ضروری ہے۔عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر کسی شہری کو حراست میں رکھا گیا ہے تو اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے اور کسی قسم کی غیر قانونی کارروائی نہ ہو۔خیر کیس چلتا رہا،،، نعمان قیصر جو کہ ڈکیتی کے ایک جھوٹے مقدمے میں کیمپ جیل میں بندتھے،،، اُس مقدمہ میں ضمانت منظور ہوئی تو انہیں دس مارچ کو کیمپ جیل کے باہر سے دوبارہ اُٹھا لیا جاتا ہے، 11مارچ کو ان کے وکلاءدوبارہ ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دیتے ہیں،،، جس میں خدشے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد ہائیکورٹ نوٹس بھی جاری کرتا ہے، کہ ملزم کو 12تاریخ کو پیش کیا جائے،،، اس مرتبہ لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب اور سی سی ڈی کے سربراہ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیے ۔ عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنا جواب عدالت میں جمع کروائیں اور زیر حراست شخص کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔مگر ظلم کی انتہا دیکھیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر 11مارچ کی رات کو ہی مقابلے میں پار لگا دیا ،،، لواحقین کا کہنا ہے کہ نعمان کی ڈیڈ باڈی بھی ، پنجاب میں نہیں بلکہ سندھ کے شہر سکھر میں ایک ویرانے میں بلا کر لواحقین کے حوالے کی گئی ۔ اور الزام لگایا گیا کہ ملزم صوبہ پنجاب سے صوبہ سندھ کی طرف بھاگ رہا تھا اور وہاں سے بیرون ملک بھاگنے کا ارادہ رکھتا تھا،،، جبکہ سی سی ڈی نے یک دم پلٹا کھایا اور کہا کہ اُس کا اس قتل میں کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے،،،
اب قارئین آپ بتائیں کہ ایک عام شہری جائے تو جائے کہاں؟ میں یہ نہیں کہتا کہ نعمان قیصر ، معاذ کے قتل میں ملوث تھا یا نہیں،،، مگر عدالتیں کہاں ہیں؟ ان کی کیا اہمیت رہ گئی ہے؟ کیا ادارے اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ اس قدر ظلم ڈھائیں اورعدالت عالیہ منہ تکتی رہ جائے؟ اور رہی بات ملزمان کے لواحقین کی تو وہ اس وقت سراپا احتجاج ہیں کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیسے ہوگیا؟ وہ اس نفرت میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ انہیں پاکستان میں بھی نہیں دفنائیں گے،،، کیوں کہ یہاں انصاف ملنا تقریباََ ناممکن ہو چکا ہے،،، جبکہ مدعیان یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ اداروں کو مبینہ طور پر اس ”کام“ کیلئے15کروڑ روپے کی ادائیگی ہوئی ہے۔
بہرحال میں پریشان اس بات پر ہوں کہ سی سی ڈی کی طاقت کے سامنے اس وقت قانون بھی بے بس ہوگیا ہے، حالانکہ لواحقین ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اُنہیں قتل کر دیا جائے گا،،، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اور حیرت اس بات کی ہے کہ عدالت عالیہ اس بات کی گارنٹی دیتی رہی کہ ملزم کو کچھ نہیں ہوگا،،، مگر پھر بھی اُنہیں مار دیا گیا۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کیوں ہمارے ادارے سسٹم سے باہر رہ کر کھیل رہے ہیں،،، اور کیا کسی نے سوچا کہ اس کے دیرپا نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ کہ جنہیں آپ بندے مارنے کی کھلی چھٹی دے رہے ہیں،،، جب آپ اُن پر سے ہاتھ اُٹھا لیں گے،،، یا اُن کے چیف تبدیل ہو جائیں گے،،، تو جو اُن کو ”عادت“ پڑ گئی ہے،،، وہ کیسے جائے گی؟ پھر ہو گا یہ کہ ایک تو یہ لوگ سیاسی لوگوں کے ہتھے چڑھیں گے،،، اور سیاسی لوگ انہیں اپنے مخالفین کو مارنے ، ڈرانے ، دھمکانے یا بھتہ لینے کیلئےاستعمال کریں گے،،، یا یہ لوگ راﺅ انوار یا کوئی اور بن کر خود سے بھی اکا دکا مقابلے کرکے ہاتھ صاف کریں گے،،، اور پھر جب ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے فلاں بے گناہ شخص کو کیوں مارا تو یہ کہیں گے کہ جہاں اتنے لوگ آپ کے کہنے پر مارے،،، وہاں ایک دو کو مارنا تو اُن کا بھی حق بنتا ہے۔ اور پھر سی سی ڈی تو پنجاب کی حد تک بنایا گیا ادارہ ہے،،، کیا ملزمان اب تک پنجاب کی حدود میں بیٹھے ہوں گے،،، کیا وہ سندھ ، بلوچستان یا کے پی کے میں فرار نہیں ہو جائیں گے،،، اور پھر جب یہ لوگ واپس آئیں گے تو کیا یہ مزید جرائم پیشہ نہیں ہوں گے؟ کیا یہ بین الصوبائی ملزمان نہیں بن جائیں گے۔۔۔
بہرکیف پولیس کے پاس موجود بندوق کا مقصد انتہائی ضرورت کے وقت اس کا استعمال ہونا چاہیے، نا کہ رات کے اندھیرے میں ”پولیس مقابلوں“ کے ذریعے کوئی ”اسکور“ پورا کیا جائے ،آپ نعمان قیصر کے معاملے کو ہی دیکھ لیں،،، کہ اُن کے لواحقین بار بار ان خدشات کا اظہار کر تے رہے ، کہ اُنہیں پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا،،، اس پر کسی نے کان نہ دھرے اور پھر آخر کار ہوئی ہوا جس کا خدشہ تھا،،، کیا عدالتوں کے پاس اتنا اختیار نہیں رہا کہ وہ اس حوالے سے پیشگی اقدامات کرسکیں،،، کون جانے مجرم قرار دے کر قتل ہونے والا واقعی مجرم تھا بھی یا نہیں اور ایسی کیا نوبت آ گئی تھی کہ اسے عدالتی کارروائی سے گزار کر سزا دینے کے بجائے موقع پر قتل کرنا ہی ضروری تھا؟اور ویسے بھی ن لیگ کے دور میں جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے ملک کے طول و عرض میں ایک تاریخ بکھری پڑی ہے۔نہیں یقین تو آپ خود تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں،،، کیوں کہ بقول شاعر
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

