کابل( خامہ نیوز +اسکائی نیوز )طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس واپس لینے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت میں کسی کو نہیں دی جائیگی۔ طالبان نے ساتھ ہی سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
خامہ نیوز کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسکائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بگرام ایئربیس کسی بھی حالت میں امریکا کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان عوام اپنی سرزمین کسی غیر ملکی طاقت کو نہیں دیں گے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ طالبان امریکی حکام کے ساتھ سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں تاکہ کابل اور واشنگٹن میں سفارت خانے دوبارہ کھولے جا سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی ممالک نے نجی طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے، حالانکہ عوامی سطح پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔
طالبان کی حکومت چار سال بعد بھی بین الاقوامی سطح پر محدود تسلیم شدہ ہے اور صرف روس نے باضابطہ طور پر ان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے۔ اس دوران خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں برقرار ہیں، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم ممنوع ہے اور خواتین کو سرکاری اور دیگر شعبوں میں ملازمت سے روک دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف خواتین اور لڑکیوں کے منظم استحصال کے الزامات کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اسکولوں کی بندش کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا، جبکہ چار سال گزرنے کے باوجود لاکھوں افغان لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے بند ہیں۔
حال ہی میں افغانستان میں 48 گھنٹے کے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث بینکاری، فضائی سروس اور شہری رابطے متاثر ہوئے۔ طالبان نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ مقامی سروس فراہم کنندگان نے حکومت کی مداخلت کی تصدیق کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور آن لائن کام کو مزید متاثر کرتا ہے۔
طالبان کی جانب سے بگرام ایئربیس نہ دینے کے اعلان اور خواتین کی پابندیوں کی موجودگی سے افغانستان میں سیاسی و انسانی بحران برقرار ہے، اور عالمی برادری اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

