عاصمہ جہانگیر اگر آج زندہ ہوتیں تو ۔۔۔!

” 1969 میں اسکول کی کچھ لڑکیاں مارشل لاءحکام کے خلاف احتجاج کرنے لاہور کے گورنر ہاوﺅس پر جمع ہوئیں۔ ان میں سے ایک دھان پان سی لڑکی اس مینشن کی دیوار پر چڑھ گئی اور اس پر احتجاج کا سیاہ پرچم لہرا دیا۔ اس طالبہ کو اس کے اسکول، کانونٹ آف جیزز اینڈ میری نے اس وقت تو معطل کردیا مگر آگے چل کر وہ لڑکی جبر کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے انتھک دفاع کا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں استعارہ بن گئی۔“ یہ الفاظ مصنف ڈاکٹر محمد تقی کے ہیں جو انہوں نے عاصمہ جہانگیر کے متعلق لکھے تھے،،، جن کی برسی ہرسال 11فروری کو منائی جاتی ہے، اُن کے لیے ہر سال انہی دنوں ”عاصمہ جہانگیر کانفرنس“ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، اس سال بھی دو روزہ (7اور8فروری )چھٹی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں کم و بیش 18سیشنز ہوئے اور 120مقررین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد انسانی حقوق سے متعلق اہم اور حساس مسائل پر آزاد، غیر سنسر شدہ اور بامعنی مکالمے کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ایسے پلیٹ فارمز یقینا خوش آئند ہیں،،، جو ہماری شخصیات کو آنے والی نسلوں کے درمیان ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔

آج کا یہ کالم بھی عاصمہ جہانگیر کی چھٹی برسی کے موقع پر اُن کو یاد رکھنے کے طور پر لکھ رہا ہوں،،، مجھے یاد ہے کہ جب میں ایک ادارے کے لیے رپورٹنگ کر رہا تھا تو اُس وقت ہمیشہ اُن سے کسی نہ کسی احتجاج میں ٹاکرا ہو جاتا،،، اور اچھی سلام دعا بھی ہو جاتی،،، آپ یقین مانیں وہ اتنی نڈر تھیں کہ ہر ڈکٹیٹر کے خلاف کلمہ حق کہنا فرض سمجھتی،،، حتیٰ کہ دوران80اور 90کی دہائی میں دوران صحافت ہم بھی ڈکٹیٹر اور حکومت کے خلاف اس لیے بھی لکھ دیتے کہ وہ ہم جیسے نوجوان صحافیوں کی ہمت بندھاتیں اورہمیشہ مشکل وقت میں ساتھ کھڑی ہوتیں۔جب انہوں نے 2018ءمیں وفات پائی تو یقین کریں ایسے لگا جیسے قوم اپنی ”ماں“ سے محروم ہو گئی ہے،،، وہ سب کے لیے ماں کا درجہ اس لیے بھی رکھتی تھی کہ وہ ہر ایک درد اپنے سینے میں سما لیتی تھیں،،، خیر آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ آج سرکار بھی اُن کا نام لیتی ہے،،، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اگر آج زندہ ہوتیں تو موجودہ حکمرانوں کا ساتھ دینا تو دور کی بات آج وہ ان سے کوسوں دور ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوتیں،،، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وکلاءبرادری میں انڈیپینڈنٹ گروپ یعنی عاصمہ جہانگیر گروپ جو سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل میں جیت کر اس وقت فارم 47حکومت کا دایاں بازو بنے ہوئے ہیں،،، حالانکہ اس بار بھی دسمبر میں ہونے والے پاکستان بار کونسل کے الیکشن میں عاصمہ جہانگیر گروپ نے پنجاب کی 11 میں سے 8 نشستیں جیت کر حامد خان گروپ کو شکست دی،،، عاصمہ جہانگیر گروپ کے اعظم نذیر تارڑ،احسن بھون ،پیرمسعود چشتی ، عامر سعید راں ،طاہر ناصر اللہ ورائچ ،حفیظ الرحمان چوہدری ممبر پاکستان بار کونسل منتخب ہوئے۔یعنی یہ لوگ حکومت وقت میں وفاقی وزیر سے لے کر کسی نہ کسی عہدے پر فائز ہیں،،، بہرحال ہمیں یہ مسئلہ نہیں کہ یہ اقتدار میں کیا کر رہے ہیں،،، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عاصمہ جہانگیر گروپ کو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھتے ہوئے اُس سے نظریں چرائے؟ اور جھوٹ کا ساتھ دے،،، اگر عاصمہ جہانگیر زندہ ہوتیں تو کیا وہ موجودہ حکمرانوں کا ساتھ دیتیں ،،، یا تحریک انصاف اور اُس کے قائدین کا ساتھ دیتیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ آج زندہ ہوتیں تو 26اور 27ویں ترمیم کو سپورٹ کرتیں؟ یا کیا وہ لائف ٹائم استثنیٰ کو سپورٹ کرتیں؟ یا کیا وہ ان کینگرو کورٹس کو سپورٹ کرتیں؟یا کیا وہ آج کے الیکشن کمیشن کو سپورٹ کرتیں؟ یا کیا وہ پولیس کے رویے کو سپورٹ کرتیں؟ یقینا نہیں!

کیوں کہ میرے خیال میں اگر کوئی عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی زندگی کے بارے میں جانتا ہے تو وہ کبھی اس سیمی مارشل لاءمیں حکمرانوں کا ساتھ نہ دیتا،،، وہ صرف ایک وکیل، ایک سماجی کارکن یا ایک انسانی حقوق کی علمبردار نہیں تھیں، وہ ایک چلتا پھرتا سوال تھیں،ایسا سوال جو ہر ڈکٹیٹر، ہر طاقتور حکومت اور ہر مقدس سمجھے جانے والے ادارے کے سامنے رکھا جاتا تھا۔عاصمہ جہانگیر کی سیاست کسی جماعت سے وابستہ نہیں تھی، مگر ان کی جدوجہد ہمیشہ سیاسی تھی۔ وہ اس سیاست پر یقین رکھتی تھیں جو کمزور کے ساتھ کھڑی ہو، جو ریاست کو جواب دہ بنائے اور جو آئین کو طاقتور حلقوں کے ہاتھوں یرغمال بننے سے بچائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر دور میں ”ناپسندیدہ آواز“ قرار پائیں۔ ضیاءالحق کے مارشل لا سے لے کر مشرف کی وردی تک، اور نام نہاد جمہوری ادوار سے لے کر ہائبرڈ نظاموں تک ،عاصمہ جہانگیر ہر اقتدار کے خلاف سراپا احتجاج نظر آئیں۔ ضیاءالحق کے دور میں جب کوڑے، جیلیں اور مذہب کے نام پر قوانین نافذ ہو رہے تھے، عاصمہ جہانگیر سڑکوں پر تھیں۔ عورتوں کے حقوق کے لیے، سیاسی قیدیوں کے لیے، اور اس آئین کے لیے جسے کاغذ کا ٹکڑا بنا دیا گیا تھا۔ انہیں قید کیا گیا، گھروں میں نظر بند کیا گیا، مگر وہ خاموش نہ ہوئیں۔

وہ چلتی پھرتی ایک تحریک بھی تھیں۔اس عہد میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد جمہوریت اور انسانی حقوق کے باب میں اگر کوئی عورت پاکستان کا خوبصورت چہرہ تھی تو وہ عاصمہ جہانگیر تھی۔ عاصمہ جہانگیر دوپٹہ نہیں اوڑھتی تھیں تاہم ان کے گلے میں لٹکتی چادر ہر مظلوم کا وہ آسرا ، سایہ اور پناہ گاہ تھی۔ ایک امید تھی ، ایک آس تھی۔ عاصمہ جہانگیر کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ تشدد کیا گیا۔ نظر بند کیا گیا۔ وہ ہر کمزور کے لیے کھڑی ہوتی تھی اور ہر طاقت ور کے خلاف کھڑی ہوتی،،، وہ کہا کرتی تھیں کہ پاکستان میں آمریت صرف وردی میں نہیں آتی، بعض اوقات وہ پارلیمان کے اندر بھی بیٹھی ہوتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے نام نہاد جمہوری حکومتوں کو بھی اسی سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا جس طرح آمروں کو۔ وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ یا کسی اور سیاسی قوت کی ”دوست“ نہیں تھیں۔ جب بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو عاصمہ جہانگیر نے انہیں بھی یاد دلایا کہ انسانی حقوق اقتدار سے زیادہ اہم ہیں۔ نواز شریف کے ادوار میں بھی وہ عدلیہ، میڈیا اور ریاستی طاقت کے غلط استعمال پر خاموش نہ رہیں۔ یہاں تک کہ اپنی بچپن کی سہیلی بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی کھڑی ہو گئی۔ اسے کسی نے روتے نہیں دیکھا لیکن بے نظیر قتل ہوئی تو وہ خوب روئیں۔ لال مسجد برپا ہوئی ، کہنے لگی ، اس وحشت کا خون ریاست کے ماتھے پر ایک داغ ہے کیونکہ اس سین کو تخلیق کرنے کے لیے پہلے اس ویرانے میں اس ماحول کو سجایا گیا تھا۔ ہم سن رہے تھے کہ ایک دن وہ خود پر خود کش حملوں کی دھمکیاں دینے والوں کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ اگر طالبان کو بھی ماورائے آئین قتل کیا جاتا ہے وہ ان کے حق کے لیے کھڑی ہوگی۔تو آج اگر وہ زندگی ہوتیں تو کیا سی سی ڈی جو ماوارئے عدالت ہر روز قتل کر رہی ہے، اس کے آگے کھڑی نہ ہوتیں؟ مجھے یاد ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک چل رہی تھی، وہ اُس وقت بھی کہہ رہی تھیں کہ جب تک اس ملک میں سول ملٹری ریلیشنز کا معاملہ طے نہیں ہوگا۔ سول بالادستی نہیں ہوگی تب تک غداری اور توہین مذہب کے فتوے لگتے رہیں گے۔ اس کے لہجے میں سچائی کی تلخی تھی کیونکہ سچ تو کڑوا ہوتا ہے۔ روز نئے الزامات عاصمہ جہانگیر کا طواف کرتے تھے۔ انہیں خود کش حملوں اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا تھا لیکن اس نہتی عورت نے ملک چھوڑا اور نا ہی اپنا کام ، وہ بزدل لوگوں کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی تھی۔

بہرکیف اگر آج عاصمہ جہانگیر زندہ ہوتیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وہ کہاں کھڑی ہوتیں۔ وہ کسی حکومت کے ساتھ نہ ہوتیں، بلکہ ہمیشہ عوام کے ساتھ ہوتیں،لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ، اقلیتوں کے ساتھ، عورتوں کے ساتھ، اور ان سب کے ساتھ جن کی آواز ریاستی شور میں دب جاتی ہے۔ وہ آج بھی طاقت کے مراکز سے وہی سوال کرتیں جو کل کرتی تھیں، اور اسی بے خوفی سے کرتی تھیں۔عاصمہ جہانگیر کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ ڈرنے سے انکار کرتی تھیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی کمی آج سب سے زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب خاموشی کو دانائی اور مفاہمت کو حب الوطنی کہا جا رہا ہے، عاصمہ جہانگیر کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل حب الوطنی سوال اٹھانا ہے، اور اصل جمہوریت احتجاج۔وہ چلی گئیں، مگر اقتدار کے ایوان آج بھی ان کی آواز سے خائف ہیںاور یہی کسی بھی مزاحمت کار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف شخصی نہیں تھا بلکہ مضبوط اصولوں پر استوار تھا۔ عاصمہ جہانگیر ایک ایسے پاکستان کی داعی تھیں جو وسیع المشرب اور متنوع قومی ریاست ہو، یعنی ایک ایسا وفاق جس کی بنیاد جمہوریت پر استوار ہو۔آخر میں میں صرف اتنا کہوں گا کہ وہ ہماری مارٹن لوتھرکنگ تھیں جو امریکا میں انسانی حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے مارا گیا۔ عاصمہ نے بھی کونسی کسر چھوڑی تھی کہ وہ ماری نہ جائیں۔ جس طرح مارٹن کے پاس امریکا کے لیے ایک خواب تھا، عاصمہ کے پاس بھی پاکستان کے لیے ایک خواب تھا۔ یہ دونوں خواب بھی بہت مماثلت رکھتے تھے۔ مارٹن امریکا میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کی جنگ لڑتا رہا اور عاصمہ بنیادی طور پر اقلیتوں کے حقوق کی جنگ لڑتی رہی۔عاصمہ جہانگیر نے طویل زندگی نہیں پائی لیکن ان کا ہر سانس کسی بلند اخلاقی اصول کا اثبات تھا۔ انھوں نے جو قدم اٹھایا وہ انسانوں کی محبت کو وسعت دینے کے لیے تھا۔

بہرحال عاصمہ جہانگیر نے 66 برس تک بھرپور زندگی گذاری ، موت کا پروانہ لیکر نکلنے والے اس کا پیچھا کرتے رہے لیکن وہ بڑے بڑے آمروں اور حکمرانوں کے ہاتھ نہیں آئی ، ان کے ہاتھ کیسے لگتی۔ اس کا جسم سپرد خاک کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی روح تو اس ملک کے ہر شہری کا خواب ہے۔ خوابوں کی تعبیریں ہوتی ہیں۔ وہ دفن نہیں ہوتے لیکن شاید یہ سوچنے میں ہمیں وقت لگے گا کہ عاصمہ جہانگیر تو مر گئی ہے۔اُمید ہے کہ عاصمہ جہانگیر گروپ یقینا اپنی صفوں میں سچائی پیدا کرے گا تاکہ اُن کا نام استعمال کرکے موجودہ حکمران اور اُن کے کارندے اُنہیں Missuseنہ کریں!