کولمبو(سپورٹس ڈیسک)ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد پاکستانی اسپنر عثمان طارق کی بولنگ بھارتی میڈیا میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ 28 سالہ آف اسپنر نے امریکا کے خلاف 27 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جس کے بعد ان کے بولنگ ایکشن پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔
بھارتی کرکٹر روی چندرن اشون نے ایک پروگرام میں عثمان طارق کے بولنگ انداز پر گفتگو کرتے ہوئے دلچسپ مثال دی اور انہیں تاش کے کھیل کے ’’حکم کا اکا‘‘ سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس انداز کا توڑ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بعد ازاں اسپورٹس جرنلسٹ کی گفتگو میں امپائر انیل چوہدری نے وضاحت کی کہ قانون اُس وقت لاگو ہوتا ہے جب بولنگ ایکشن میں رُکنے یا ٹھہرنے کے انداز میں واضح اور نمایاں تبدیلی ہو۔ اگر کسی بولر کا یہی انداز مستقل اور معمول کا حصہ ہو تو اسے قانونی تصور کیا جائے گا۔
انیل چوہدری نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیگر بولرز بھی پورے میچ میں ایک ہی انداز برقرار رکھیں تو اسے غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بیٹر بولنگ کے دوران پیچھے ہٹتا ہے تو امپائر صورتحال کا جائزہ لے گا، اور اگر ایکشن میں واضح فرق نظر نہ آئے تو بیٹر کو وارننگ دی جا سکتی ہے۔عثمان طارق کی کارکردگی اور ان کے منفرد اندازِ بولنگ نے نہ صرف شائقین بلکہ حریف ٹیموں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

