اسلام آباد (نامہ نگار) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لے اور پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو جائے۔
عمران خان نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان انتخابات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قید و تنہائی سے دبایا نہیں جا سکتا، نہ وہ جھکیں گے نہ کوئی سودا کریں گے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور ان کی دو بہنوں نے آج سنٹرل جیل اڈیالہ میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی قیادت کو ہدایت دی ہے کہ پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو جائے اور ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمیں قید تنہائی میں رکھ کر ڈرایا نہیں جا سکتا، میں نہ جھکوں گا نہ کوئی سودا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا گلا دبا دیا گیا ہے اور مین اسٹریم میڈیا کی حیثیت عوام میں ختم ہو گئی ہے۔ وزیرستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے افغان مہاجرین کے اخراج پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانوں کو پاکستان سے نکالنا اسلامی روایات کے خلاف ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے بونیر اور دیگر علاقوں میں سیلابی تباہ کاریوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلین ٹری منصوبے کی اہمیت اب عوام کو سمجھ آنی چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان بشریٰ بی بی کے حوالے سے پریشان ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اگر ججوں کا ضمیر جاگتا تو اتنا ظلم نہ ہوتا۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے اپنے بھانجوں شیر شاہ اور شاہ ریز کی گرفتاری کو عدلیہ کی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ پارٹی رہنماؤں کی حالیہ سزائیں اور نااہلیاں ملک میں پہلی بار ہو رہی ہیں۔
عمران خان نے پارٹی رہنماؤں بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجا کو ہدایت کی کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجا کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے سیاسی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے کی ہدایت بھی دی۔
اختتام:
عمران خان کا واضح مؤقف ہے کہ پارٹی کو ضمنی انتخابات کا حصہ بن کر انہیں قانونی جواز نہیں دینا چاہیے۔ علیمہ خان کے مطابق پارٹی کے اندر اگر کسی کی مختلف رائے ہوئی تو بانی پی ٹی آئی اسے بھی دیکھیں گے۔

