عمران خان کا سیاسی گراف آج بھی افق پر موجود ہے: سردار لطیف کھوسہ

ٹورنٹو(اشرف خان لودھی سے)معروف قانون دان، سیاستدان اور سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ سے ایک خصوصی نشست میں اشرف خان لودھی نےان سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کیاکہ آپ ایک سیاستدان ہیں، گورنر پنجاب رہے، پیپلز پارٹی میں رہے، اور اب پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہیں۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف جو سیاسی تحریکیں اور اتحاد بنائے جا رہے ہیں ان کے ذریعے عمران خان کو سیاست سے نکال دینا ممکن ہو گیا ہے؟کیونکہ اس وقت تقریباً سب سیاسی گروہ عمران خان کے خلاف متحد ہیں۔

اس سوال کے جواب میں سردارلطیف کھوسہ نے جواب دیتے ہوئے کہا دیکھیں سب کے سب اقتدار کی سیاست کر رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں صرف ایک ہی رہنما ہے جو عوامی سیاست کر رہا ہے اور وہ عمران خان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار کی سیاست کے بجائے اصولوں، آئین اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔میں خود عوامی سیاست پر یقین رکھتا ہوں، اور میرا تعلق قانون کی دنیا سے ہے۔اگر اس ملک میں آئین کی خلاف ورزی ہو، قانون کی حکمرانی پامال ہو،تو میرے جیسے قانون دان کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔

جس دیدہ دلیری سے اس وقت آئین کی دھجیاں بکھیری گئیں،عدلیہ کو غلام بنایا گیا،اور عوامی رہنما عمران خان کو نشانہ بنایا گیا یہ سب کچھ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔اس وقت وہ رہنما، جس کو عوام دل سے چاہتے ہیں،ظلم، جبر اور ریاستی طاقت کا سامنا کر رہا ہےمگر عوام کے دلوں سے وہ نکالا نہیں جا سکا۔عمران خان کا سیاسی گراف آج بھی افق پر موجود ہے۔وہ آج بھی عوام کے وزیرِ اعظم ہیں۔اگر وہ ایک بیان جاری کریں،تو لگتا ہے جیسے پاکستان کا اصل وزیرِ اعظم بات کر رہا ہے۔سردار لطیف کھوسہ نے موجودہ حکومتی اتحادوں کو اقتدار پرست قرار دیا۔

انہوں نے آئین، قانون اور عدلیہ کے ساتھ کی گئی زیادتیوں پر شدید تنقید کی۔عمران خان کو انہوں نے واحد عوامی سیاستدان کہا جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔قاضی فائزعیسیٰ نے جس طرح آئین کوپامال کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے ان کاانتخابی نشان چھیناحالانکہ کسی بھی پارٹی کا انتخابی نشان ان کے سپورٹرزکاحق ہوتاہے کہ وہ انہیں انتخابات میں منتخب کرسکیں۔یہاں جس طرح قانون اورآئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 26ویں ترمیم منظورکی گئی وہ رول آف لاکی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔26ویں ترمیم کے بعدجس طرح عدالتوں کواپنے ماتحت کیاگیاوہ ناقابل قبول ہے یہ جوچاہے کرلیں جتناچاہے دبالیں لیکن یہ عمران کی رہائی نہیں روک سکتے ۔

آپ کومعلوم ہے کہ کس طرح پارٹی کےاندرسے پرویزخٹک کی الگ پارٹی بنوادی گئی اورجہانگیرترین اور عبدالعلیم خان کی الگ پارٹی بنادی گئی اسی طرح پارٹی کے لوگوں کے ساتھ جوفسطائیت اورظالمانہ سلوک کیاگیاوہ ناقابل بیان ہے ۔اس سب کے باوجود8فروری2024کولوگوں نے جس طرح ڈھونڈڈھونڈکرووٹ دئیے ہیں کہ کون عمران خان کاامیدوارہے ۔

مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی ڈریاخوف نہیں کہ جس حلقے سے میں نے الیکشن لڑاہے وہ عمران خان کااپناحلقہ تھااورعمران خان نے مجھے کہاکہ انہوں نے مجھے انتخاب نہیں لڑنے دینااس لئے تمہیں اس حلقہ سے انتخاب لڑناہوگااورمجھے کوئی انتخابی مہم چلانے نہیں دی گئی کسی کومعلوم ہی نہیں تھاکہ اس کاانتخابی نشان کیاہے اورکل یہ بھی ہوگاکہ نہیں ۔اس سب کے باوجودانتخابات میں ہم نے حصہ لیاہمیں باہرنکلنے نہیں دیاجاتاتھا اورناہی پولنگ بوتھ میں جانے دیاجاتاتھا.

اس کے باوجودپی ٹی آئی نے 180نشستیں جیتی لیکن 18نشستیں جیتنے والے کووزیراعظم بنادیاگیااور180نشستوں پرکامیاب ہونیوالاجیل میں قیدہے ۔ وہاں انڈیامیں مودی اپناگراف اوپرکرکے بیٹھاتھا کہ وہاں ان کے صوبے میں انتخاب ہونے جارہے ہیں اوریہاں جنرل صاحب کوبہت ہی زیادہ گالیاں پڑرہی تھی کہ کچھ کیاجائے یہ کم ہوجائے ۔

آپ انڈین میڈیادیکھیں تواپنی فتح کاجشن منارہے ہیں اپنامیڈیااٹھاکردیکھیں تویہاں اپنی جیت کی بات چیت ہورہی ہوتی ہے ۔یہاں جنرل صاحب نے اپنی اناکوتسکین پہنچائی ہے دوسرایہ کہ میں نے آن دی ریکارڈکہا ہے کہ زمینی جنگ توہوئی ہی نہیں تویہ فیلڈمارشل کہاں سے بن گئے ہیں فیلڈمارشل توفیلڈکی جنگ والاہوتاہے جب فیلڈکی جنگ ہوئی ہی نہیں۔ کریڈٹ توعمران خان کابنتاہے جس نے اپنے دورمیں چین سے یہ طیارے خریدے اس وقت کے وزیرخزانہ جہانگیرترین نے انکارکردیاتھاکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن عمران خان بضدرہااورطیارے خریدے گئے .

جن سے آپ کی ائیرفورس نے بھارت کے 6طیارے مارگرائے اوروہ بھاگابھاگاٹرمپ کے پاس گیاکہ ہماری صلح کرائواورجنگ بندی کرائو۔ہمیں عمران خان نے خودکہاکہ تمام اختلافات بھلاکرملک کی خاطراکٹھے ہوجائیں۔ملک کیلئے جان کانذرانہ خون کاآخری قطرہ بھی پاکستان کیلئے ہے ۔ہم پارلیمنٹ میں جاتے ہیں مگرہم نہیں مانتے شہبازشریف کووزیراعظم ۔

میں نے جب الیکشن جیتاتومجھے خواجہ سعدرفیق کی کال آئی اوراس نے مجھے سے شکست تسلیم کی اورمجھے مبارکباددی تومیں نے کہاسعدرفیق تم صحیح سیاسی کارکن ہویہی بات اپنے بڑوں کوبھی سمجھائوکہ اگرنوازشریف یاسمین راشدسے ہارگیاتھاتوتسلیم کرتااورجیسے خواجہ آصف ریحانہ ڈارسے شکست کھاگیاتھاتواس کواپنی شکست تسلیم کرنی چاہئے تھی لیکن انہوں نے فارم 47کی مددسےاپنی شکست کوکامیابی میں بدلاتوکیاان کی عزت میں اضافہ ہوانہیں بلکہ ان کی عزت میں مزیدکمی ہوئی ہے ۔

اس کے جواب میں سعدرفیق نے کہاکیابات کررہے ہوکھوسہ تم مجھے تووہ کہہ رہے ہیں کہ تمہیں اتنی کیاجلدی تھی کھوسہ کومبارکباددینے کی ہم تمہارابھی کوئی بندوبست کرتے یعنی فارم 47والاکوئی چکرچلاتے ۔یہ خان کوجیل میں نہیں رکھ سکتےفسطائیت ہے طاقت ہے ڈنڈاہے ان کے ہاتھوں میں وقتی طورپر۔

اس وقت اس سے زیادہ خوفناک جوہے ناوہ ہے کہ اسرائیل نے جوایران پرحملہ کردیاہے ۔اس لئے ہم نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائرکی تھی میں نے اورعلی امین گنڈاپورنے کی تھی علی امین گنڈاپورہماراچیف منسٹرپٹیشنرتھا 6کروڑعوام کاصوبہ جس کاوزیراعلیٰ تھااس نے مجھ سے پٹیشن کروائی ۔چلوکہ اگران کی اناکامسئلہ توخان کوباہرلایا جائے اس کے دووجوہات تھیں ایک توخان کی جان کوخطرہ تھاکہ ڈرون گررہے تھے توخطرہ تھاکہ کہیں کوئی ڈرون جیل پرناگرجائے اورخان کوکسی قسم کاکوئی نقصان پہنچے ۔

ہمیں لوگوں نے کہاکہ خان کی جان کوخطرہ ہے آپ کیاکررہے ہیں ۔پٹشن کی وجہ سے خان باہرآجاتاتوقوم ایک جان ہوجاتی متحدہوجاتی عمران خان کے پیچھے ۔دوسراعمران خان صرف ایک سیاست دان نہیں ہے وہاں عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے ۔

عمران خان مسلم امہ میں ایک بہترین لیڈرہے اوریہ مسلم امہ کوبھی یکجاکرسکتاہے جیسے آپ کویادہوگا1974میں بھٹونے کیاتھااوراس نے ایٹم بم بنایااورسیٹھ عابدکے ذریعےسارے معاملات کوآگےبڑھایاکیونکہ ویسے توایٹم بم کسی نے بننے نہیں دیناتھا۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کوسکاٹ لینڈسےلیکرآیااورشاہ فیصل نے بھٹوکوبلینک چیک دیااوربھٹونے وہ چیک ڈاکٹرعبدالقدیرکودیااورکہاکہ جومرضی میں آئے وہ اس چیک میں لکھ لے ۔خوفناک بات یہ ہے کہ خاکم بدہن اگراسرائیل ایران میں کامیاب ہوجاتاہے تویہ ہمارے لئے بہت خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ اس کے بعدہماراپاکستان کھٹکتاہے ۔اس لئے میں سمجھتاہوں کہ مسلم دنیاکوعمران خان کی بہت ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں