عوامی بسیں اور محکمانہ کمیشن ؟

پنجاب کی سیاسی اور انتظامی صورتحال میں ہمیشہ ایک دلچسپ تضاد موجود رہا ہے، ہم اکثر اُس چیز پر سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں جو نظر آ رہی ہوتی ہے اور جو نظام کے اندر ہو رہا ہو ، وہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے چاہے وہ کتنا بڑا کمیشن سکینڈل ہی کیوں نہ ہو ، حالیہ دنوں میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دیا ، ایک طرف وزیر اعلیٰ کے لئے نیا جہاز سامنے آیا تو تنقید کا طوفان برپا رہا ، دوسری طرف عوامی ٹرانسپورٹ کے کئی سو ارب منصوبوں میں مبینہ محکمانہ کمیشن اور انتظامی کھینچا تانی کی کہانیاں چھپی رہیں اور اب بھی شائد سامنے نہ آتیں اگر پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی سی ای او کوثر خان کا قبل از وقت تبادلہ نہ ہو تا، سنا ہے خاتون افسر نے ، وزیر اعلیٰ ، چیف سیکرٹری اور اسٹیبلشمنٹ کے دوسرے حکام تک اپنے اچانک تبادلے پر تحفظات اور سابقہ محکمے کے انتظامی افسروں پر مشتعمل کمیشن مافیا کے خلاف آواز بلند کی ہے ،میں ذاتی طور پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے اکثر افسروں کے بارے اچھی رائے رکھتا ہوں مگر محکمہ میں چینی ساخت کی بسوں کی خریداری اورلاہور میں ایک بس کمپنی کو بسوں کے واشنگ واجبات کی ادائیگی میں ہونے والے معاملات کی کہانیاں سن کر حیرت ہوتی ہے کہ سیاستدان بے چارے تو ناحق بدنام ہیں ؟ پنجاب میں ایسے ایسے بھی افسر ہیں جو کمانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے اور اس کے لئے نئے نئے فارمولے ایجاد کر لیتے ہیں،آج بات تو عوامی بسوں کی کرنی ہے مگر یہ بھی سن لیں کہ مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنر صاحبان افطار دستر خوان اور دوسرے منصوبوں پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کی تصاویر لگا کر کام مخئیر حضرات سے کر اتے ہیں اور سرکاری فنڈز دائیں ،بائیں کر لیتے ہیں،چند روز پہلے اس قسم کی ایک ویڈیو گوجرانوالہ کے حوالے سے کافی وائرل ہوئی ہے۔

واپس عوامی بسوں کی طرف چلتے ہیں، پنجاب میں الیکٹرک بسوں کا ایک فلیگ شپ منصوبہ یقینی طور پر عوام اور ماحول دونوں کے لئے ضروری اقدام ہے، یہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا ایک عوام دوست اور بہترین منصوبہ ہے ، بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک کا دباؤ اور شہری نقل و حمل کے مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنایا جائے، الیکٹرک بسیں نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ طویل مدت میں ایندھن کی بچت اور آپریشنل لاگت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہیں، اس لیے اس منصوبے پر کسی کو اعتراض نہیں مگر اب اس منصوبے میں محکمانہ کرپشن کی داستانیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔حالیہ اطلاعات کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کے بعض افسران پر اربوں روپے کے کمیشن لینے کے الزامات زیرِ بحث ہیں، یہ الزامات ابھی تک سرکاری طور پر ثابت نہیں ہوئے، مگر ان کی بازگشت اتنی بلند ہے کہ نظرانداز کرنا مشکل ہے، جب عوامی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری ہو، سینکڑوں بسوں کے آرڈر دیے جائیں، اور بین الاقوامی کمپنیوں سے معاہدے ہوں، تو ہر قدم پر احتساب اور شفافیت لازم ہو جاتی ہے۔

اسی تناظر میں پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی سابق سی ای او کا معاملہ سامنے آتا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے صرف سات ماہ تک اس عہدے پر کام کیا، ان سے پہلے بھی دو تین سی ای او زیادہ دیر نہ ٹک سکے، کسی بھی ادارے میں قیادت کا بار بار بدلنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ یا تو پالیسی واضح نہیں، یا اندرونی طاقت کے مراکز متحرک ہیں، یا پھر کوئی ایسا دباؤ موجود ہے جو پیشہ ورانہ فیصلوں کو برداشت نہیں کرتا،کہا جا رہا ہے کہ سابق سی ای او ، چینی ساخت کی ایک برانڈ کے مقابلے میں دوسرے برانڈ کی بسیں لانا چاہتی تھیں جو پہلے برانڈ سے بہت زیادہ سستی ہیں ، ان کا مؤقف تھا کہ انکی طرف سے فائنل کی جانے والی بسیں سستی ہونے کے ناطے صوبے کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں اور ان میں پہلے اور مہنگے برانڈ کی بسوں والی ساری سہولتیں موجود ہیں ، اگر یہ درست ہے تو یہ ایک پیشہ ورانہ معاملہ تھا جسے فائلوں، کمیٹیوں اور تکنیکی جائزوں کے ذریعے حل ہونا چاہیے تھا، مگر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ،وہ کمپنی کی سی ای او تھیں اگر انہوں نے یہ طے نہیں کرنا تھا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی کس کے ہاتھ میں ہے؟

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سارے معاملے کی خبر خود وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو ہو چکی ہے، مگر باضابطہ تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا، اگر واقعی اعلیٰ سطح پر آگاہی موجود ہے تو دو ہی امکانات ہیں یا تو الزامات بے بنیاد ہیں اور حکومت کو یقین ہے کہ سب کچھ قواعد کے مطابق ہوا یا پھر معاملہ اتنا حساس ہے کہ اسے کھولنے سے سیاسی نقصان کا خدشہ ہے، دونوں صورتوں میں خاموشی نقصان دہ ہے۔حکومت کے لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ ایک آزادانہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے ، بسوں کی خریداری کے تمام مراحل ٹینڈر جاری ہونے سے لے کر فنی جانچ، مالی بولی، منظوری اور ادائیگی تک کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور اب تو کوئی بات چھپی رہ نہیں سکتی ،اعلیٰ افسروں کے مابین اس منصوبے کی ساری گفتگو ،میسیجز،ریکارڈنگ ،فائل نوٹنگ مو جود ہو گی ،اسے بھی دیکھا جا سکتا ہے تاکہ اگر کہیں بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین اور دودھ کا دودھ،پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک جہاز کی خریداری پر شدید بحث ہوتی ہے مگر ٹرانسپورٹ کے اربوں روپے کے معاہدوں پر خاموشی ہے تو ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوتے ہیں، کیا ہماری سیاسی اور انتظامی ترجیحات درست ہیں؟ ہم ہر معاملے میں سیاسی بڑوں کو تو مورد الزام ٹھہرانے میں دیر نہیں لگاتے مگر انتظامی افسران کیوں بچ جاتے ہیں؟اگر بسیں واقعی بہترین قیمت پر، اعلیٰ معیار کے ساتھ اور بغیر کمیشن کے خریدی جا رہی ہیں تو یہ حکومت کے لیے فخر کی بات ہونی چاہیے اور اگر اندرونی طور پر ہونے والی کرپشن اور کمیشن مافیا کو چھپایا گیا اور پیشہ ور افراد کو ہٹایا گیا ہے تو یہ ایک خطرناک مثال ہو گی،سی ای اوز اور منصوبے سے جڑے افسران کا بار بار تبدیل ہونا ادارہ جاتی عدم استحکام کی علامت ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور محرکات ہو سکتے ہوں گے جن کے ڈانڈے کسی کمیشن مافیا سے ملتے ہوں ، جب کسی کمیپنی کا سربراہ یہ محسوس کرے کہ وہ آزادانہ اور میرٹ پر فیصلے نہیں کر سکتا، تو پھر کون کرے گا اور پھر اسے ہٹا بھی دیا جاتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افسروں کے درمیان “ معاملہ اصولی سے زیادہ وصولی ہے ” ،یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر بڑا منصوبہ لازماً کرپشن سے جڑا ہو، کئی بار تکنیکی اختلافات کو بھی بدعنوانی کا رنگ دے دیا جاتا ہے،یہ بھی ممکن ہے سابق سی ای او ، کا مؤقف اصولی طور پر مضبوط ہو ؟ بتایا جا رہا ہے کہ چند روز پہلے ہی عوامی بسوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے کامیاب افتتاح پر وہ مبارکبادیں وصول کر رہی تھیں تو ، یکا یک کیا ہوا کہ چند دنوں بعد ہی انکی تبدیلی ضروری ہو گئی؟وہ کیا ہے جس کی پردہ داری ہے؟