عوامی دباؤ پر البرٹا حکومت کے متنازع آن لائن سروے میں تبدیلیاں

ایڈمنٹن(نمائندہ خصوصی)البرٹا حکومت نے اپنے تین متنازع آن لائن سروے میں تبدیلیاں کر دی ہیں جنہیں ناقدین نے جانبدار اور پش پول قرار دیا تھا۔ عوامی دباؤ اور اعتراضات کے بعد اب ان میں “کچھ بھی نہیں” کا آپشن شامل کر دیا گیا ہے۔

البرٹا کی حکومت نے عوامی ردعمل اور شدید تنقید کے بعد بالآخر اپنے تین آن لائن سروے میں تبدیلیاں کر دی ہیں، جو وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے “البرٹا نیکسٹ” پینل کا حصہ تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سروے “پش پول” کی طرز پر تیار کیے گئے تھے، جہاں شرکاء کو مخصوص سیاسی بیانیے کی حمایت پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

ان چھ میں سے تین سروے، جن کا تعلق البرٹا پنشن پلان، صوبائی پولیس فورس اور صوبائی ٹیکس وصولی ایجنسی سے تھا، ان میں شرکاء کو تجاویز سے اختلاف کا کوئی آپشن نہیں دیا گیا تھا۔ متعدد ماہرین اور شہریوں نے سروے کی زبان کو وفاقی حکومت کے خلاف جانبدار قرار دیا، جس کا مقصد البرٹنز کو ایک مخصوص سمت میں لے جانا تھا۔

پریمیئر آفس کے ترجمان سیم بلیکیٹ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ عوامی مطالبے پر سروے میں اب “مذکورہ بالا میں سے کوئی نہیں (None of the above)” کا آپشن شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ آپشن پہلے موجود نہیں تھا، جس پر مختلف ٹاؤن ہال میٹنگز میں اعتراضات سامنے آئے تھے۔ بلیکیٹ نے کہا، “ہم عوام کی بات سن رہے ہیں، اسی لیے سروے میں تبدیلیاں کی گئیں تاکہ لوگ اپنے خیالات آزادانہ طریقے سے ظاہر کر سکیں۔”

حکومت کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ اور اصل سروے کے نتائج کو الگ الگ محفوظ کیا جائے گا کیونکہ سوالات میں فرق کی وجہ سے یکساں تجزیہ ممکن نہیں۔

دوسری جانب، این ڈی پی کی ڈپٹی لیڈر راکھی پنچولی نے حکومت کے اس عمل کو “منصوبہ بند اور گمراہ کن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشق صرف اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ پریمیئر اسمتھ ریفرنڈم میں اپنی پسند کے سوالات شامل کرنے کا جواز حاصل کر سکیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ البرٹنز ان تجاویز کو پہلے ہی کئی بار مسترد کر چکے ہیں، چاہے وہ علیحدہ پنشن پلان ہو یا اپنی پولیس فورس۔

رائے عامہ کی ماہر جینیٹ براؤن کا کہنا ہے کہ یہ مشق سائنسی پولنگ نہیں بلکہ صرف عوامی “مصروفیت” کی ایک کوشش ہے، جس کے نتائج نمائندہ نہیں سمجھے جا سکتے۔ ان کے مطابق، “یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ پورچ لائٹ آن کر کے کیڑوں کو گنتے ہیں۔ کچھ آتے ہیں، سب نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پریمیئر کی نیت عوامی جذبات کو جانچنے کی ہو سکتی ہے، لیکن طریقہ کار واضح طور پر جانبدار تھا۔

اگرچہ سروے میں تبدیلیاں حکومت کی نرمی کا اشارہ دیتی ہیں، تاہم اپوزیشن اور غیر جانبدار تجزیہ کار اب بھی اس عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ریفرنڈم، اختیارات کی مرکزیت سے آزادی، اور اوٹاوا سے ناراضی کے تناظر میں “البرٹا نیکسٹ” کے یہ سروے محض مشاورتی عمل نہیں بلکہ حکومت کے سیاسی مستقبل کی بنیاد بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں