عوامی مسائل کے بجائے صحت عامہ پر زور دیناانتخابات میں ناکامی کا سبب بنا: لبرلز

ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی/ خبر رساں ادارے) اونٹاریو لبرلز نے اپنی حالیہ صوبائی انتخابی مہم پر نظرثانی کرتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم میں صحت عامہ اور فیملی ڈاکٹر کی کمی پر زیادہ زور دیا گیا لیکن یہ پیغام ووٹروں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ سکا کیونکہ عوام کی توجہ مہنگائی اور معاشی مشکلات پر مرکوز تھی۔

رپورٹ کے مطابق انتخابات میں پارٹی نے اپنی نشستوں کی تعداد نو سے بڑھا کر 14 کر لی اور اسمبلی میں دوبارہ باضابطہ پارٹی کا درجہ حاصل کر لیا۔ تاہم نہ تو وہ انتخابات جیت سکی اور نہ ہی اپوزیشن کی جماعت بن سکی۔ حتیٰ کہ پارٹی لیڈر بونی کرومبی بھی اپنی نشست جیتنے میں ناکام رہیں۔

انتخابی مہم کے بعد کیے گئے “ڈی بریف” میں 1200 سے زائد افراد (جن میں امیدوار، مہم مینیجرز اور پارٹی اراکین شامل تھے) کی رائے لی گئی۔ بہت سے شرکاء نے کہا کہ پلیٹ فارم میں مسائل تو موجود تھے، مگر ووٹرز کی اصل توجہ مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال پر تھی۔ اس دوران یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ فیملی ڈاکٹر تک رسائی کے حوالے سے پیغام عوامی ترجیحات سے ہم آہنگ نہیں تھا۔

دوسری جانب پریمیئر ڈگ فورڈ نے اپنی انتخابی مہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور محصولات (ٹیرِفس) کے خلاف لڑائی پر مرکوز رکھی۔ نتیجتاً فورڈ کی پروگریسو کنزرویٹو پارٹی نے مسلسل تیسری بار واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 80 نشستیں جیت لیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لبرلز نہ تو خود کو این ڈی پی سے نمایاں کر پائے اور نہ ہی کنزرویٹوز سے۔ کئی ووٹرز کے ذہنوں میں یہ سوال رہا: “میں بونی کرومبی کو کیوں ووٹ دوں؟” رپورٹ کے مطابق فورڈ کی کارکردگی پالیسی یو ٹرنز، اسکینڈلز اور کمزور نتائج سے بھری ہوئی تھی، اس کے باوجود انہوں نے خود کو غیر یقینی حالات میں ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کیا۔ لبرلز اس بیانیے کو چیلنج کرنے یا عوامی معاشی بے چینی سے جوڑنے میں ناکام رہے۔

فنانسنگ کے حوالے سے کہا گیا کہ پارٹی نے 2022 کے انتخابی قرضے وقت سے پہلے ادا کر دیے اور 2025 کی مہم میں 12 ملین خرچ کیے۔ تاہم، آئندہ انتخابات کیلئے پارٹی کو 15 ملین ڈالر خرچ کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے۔

مزید برآں سفارش کی گئی ہے کہ لبرلز کو اگلی انتخابی مہم سے پہلے ہی فنڈ ریزنگ اور رضاکاروں کی تنظیم پر بھرپور توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ زیادہ مؤثر تیاری کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں