عید قربان اور ہم سب!

آج جب میں تحریر لکھ رہا ہوں، بازاروں اور سڑکوں پر آرام ہے اور یہ گرمی کی شدت کے باعث نہیں، عید کی چھٹیوں کے باعث ہے۔ کل (ہفتہ) پاکستان بھر میں عیدالاضحی پوری عقیدت سے منائی جائے گی۔پہلا عمل تو نماز عید ہے جو مقابلتاً جلدی پڑھی جائے گی۔ گزشتہ روز مویشی منڈیوں اور بازاروں میں بھاﺅتاﺅ ہوتا رہا، قربانی کے لئے جانوروں کو پسند اور قیمت طے کرنے کے لئے سودے بازی ہوتی نظر آئی۔ یہ درست ہے کہ ملک میں جاری مہنگائی کی طرح قربانی کے جانور بھی مہنگے ہیں اور شہریوں کو مشکل پیش آ رہی ہے، اسی لئے بڑے جانوروں میں سات حصوں کے رجحان میں اضافہ ہوا اور اس بار گائے۔ بھینس زیادہ فروخت ہوئی ہیں، تاہم بکروں کی بھی بہت زیادہ کمی نہیں ہوئی اور ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے بھی مجبور ہوئے۔ شہر بھر میں آج مارکیٹیں بند ہیں اور ہر طرف قربانی والے جانوروں کا راج نظر آتا ہے، دفتر آتے ہوئے روزمرہ سے بھی زیادہ دکھ ہوا کہ ہمارے اکثر محلے اور بازار بکرا منڈی نظر آئے اور بیوپاری جگہ جگہ قربانی کے جانور لے کر بیچنے میں مصروف تھے۔ مصطفےٰ ٹاﺅن اور کریم بلاک چوک تک گرین بیلٹیں چراگاہ بنی ہوئی ہیں اور ان میں کھلے بندوں مویشی بندھے اور کھاتے پیتے نظر آتے ہیں۔ بعض خریداروں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ منڈی مویشیاں دور ہیں اگر گھر کے قریب جانور مل جائیں تو اس سے بڑی سہولت اور کیا ہے۔ بیوپاری حضرات سے دریافت کیا تو وہ شکائتوں کا دفتر کھول کر بیٹھ گئے اور مویشی منڈیوں کے ٹھیکیدارحضرات کے خلاف لمبی چوڑی چارج شیٹ سنا دی۔یہ تو عام حالات ہیں تاہم جو لوگ گائے، بچھڑا یا بکرے خرید کر لے آئے ہیں ان کے بچے خوش اور کھیل رہے ہیں، تاہم علاقائی پارکیں اب احاطے بن چکے اور ان کے اندر قربانی کے چھوٹے بڑے جانور استراحت فرماتے اور کھاتے پیتے بھی ہیں، آج صبح سے لاہور میں صفائی کے ذمہ دار ادارے کا بھی امتحان شروع ہو جائے گا کہ ہر شہری قربانی اپنے گھر کے سامنے گلی میں ذبح کرے یا کرائے گا اور بڑے جانور پارکوں ہی میں ذبح ہوں گے، یہ سلسلہ مزید دو روز بھی چلنا ہے۔

اگرسالڈویسٹ مینجمنٹ کی بات کی جائے تو اس کی طرف سے بڑے موثر انظام کئے گئے ہیں، تاہم ماضی کی طرح توجہ بیرون محلہ اور سڑکوں پر ہے، جہاں تک گلی محلوں کا سوال ہے تو یہ ماضی کی طرح اب بھی توجہ کے اہل نہیں ہیں،حکومت نے جو بیگ تقسیم کرنے کے لئے دیئے وہ بھی کام خود دہان خود کا منظر پیش کر چکے کہ جا کر تو تقسیم نہیں کئے گئے اور سنٹروں پر بھی لوگ مایوس ہوئے کہ جمعدار یا انچارج حضرات کے مطابق بیگ جلد ہی تقسیم ہو گئے۔ یوں اندیشہ ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی آلائشیں بڑی سڑکوں اور کھلے بازاروں سے اٹھا لی جائیں گی اور گلی محلے محروم رہیں گے جبکہ قربانی کرنے والے حضرات خود بھی احتیاط کا مظاہرہ کرنے سے گریز پا ہوں گے اور آلائشیں قریب تر کوڑے پر پھینک دیں گے اس لئے گزارش ہے کہ چھوٹے بازاروں اور گلی ،محلوں پر خصوصی توجہ دی جائے ۔

میں زیادہ تفصیل میں جا کر رنگ میں بھنگ نہیں ڈالتا تاہم یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ بجٹ کی بھی آمد ہے اور مسلمان بھائیوں نے تجارت جیسے مقدس پیشے کو منافع خوری کا ذریعہ بنا کر عاقبت خوار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ آج ہی سب کچھ کما لیں گے کل کس نے دیکھا ہے، عید قربان کی مناسبت سے تمام مصالحے مہنگے کر دیئے گئے، جن حضرات نے مرکزی تجارت گاہ اکبری منڈی کا رخ کیا وہ بھی بہت مایوس ہوئے کہ اکبری منڈی میں پسی ہوئی سرخ مرچ 800روپے فی کلو اور کالی مرچ 2300روپے فی کلو بک رہی تھی، یہی حال دوسرے مصالحہ جات کا ہے جبکہ دالوں کے نرخ بھی بڑھا دیئے گئے، مرغی مافیا کا ذکر کریں تو چینی مافیا کی طرح اس پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔ مرغی کے گوشت کا نرخ بڑھانے کے لئے فارمی انڈے مزید مہنگے کر دیئے گئے ہیں، ڈبل روٹی اور بیکری کے دوسرے سامان کے نرخ بھی پہلے سے بڑھائے جانے والے ہیں اور آٹے کے نرخوں میں کمی کا سارا فائدہ بیکری والے اٹھا رہے ہیں۔ چینی اب 170سے 200روپے فی کلو بک رہی حالانکہ ڈپٹی کمشنر نرخ 164روپے مقرر ہے۔ اس قیمت پر چینی چند بڑے سٹوروں پر دستیاب ہے، اب تو اس سلسلے میں بات کرنا ہی بند کر دی گئی ہے ، یہ سنے بھی کئی روز ہو گئے کہ چینی کی قیمت پر کنٹرول کیا جائے۔ اور یہ بڑی ہی دلچسپ ہدایت ہے کہ چینی والی شوگر ملوں کے مالک ہی حکمرانوں کی حیثیت سے یہ بات کہہ رہے ہیں، جب چینی کی برآمد کا مسئلہ تھا تو وزیراعظم نے بڑے ردوکد کے ساتھاس شرط پر برآمد کی اجازت دی کہ صارف کے لئے چینی کے نرخ نہیں بڑھیں گے اور لوگ یہ نعمت 150روپے فی کلو خرید سکیں گے لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا،یہ بس خواب ہی رہا کہ ایسا ممکن نہ ہو، چینی برآمد کرکے زرمبادلہ کما لیا گیا اور ملک میں بھی مہنگی کرکے مزید منافع خوری کی گئی۔ یوں مجموعی طور پر سفید پوش طبقے کے لئے یہ عید بھی سابقہ ماحول کی طرح ہے کہ بچوں کی خوشی توپوری کرنے کی تگ و دو کی گئی تاہم خود کو دکھ اور تکلیف سے نہ روک سکے۔

دوسری طرف فریضہ حج کے موقع پر امام صاحب نے خطبہ عید اور حج کے دوران گڑ گڑا کر اللہ سے مدد مانگی اور خصوصی طور پر فلسطینیوں کی نسل کشی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کی دعا کی۔ آج پاکستان میں بھی خصوصی دعائیں ہوں گی اور یہ بھی یقین ہے کہ مسلمان ممالک کی بے حسی پر بھی دکھ کا اظہار ہوگا، باقی اللہ ہی اللہ اور خیر سلا!

سب کو عید مبارک

اپنا تبصرہ لکھیں