غزہ : امداد لے جانیوالے گلوبل صمود فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملہ، تیونس کی تردید

تیونس(الجزیرہ/اے ایف پی) — غزہ کے محصور عوام کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) نے الزام عائد کیا ہے کہ اُس کی مرکزی کشتی کو تیونس کی بندرگاہ سیدی بوسعید پر اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اُٹھی، تاہم تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جی ایس ایف نے کہا کہ پیر (8 ستمبر) کی رات ہونے والا یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے تھا، مگر تیونس کی نیشنل گارڈ نے ان خبروں کو ’بے بنیاد‘ قرار دے کر کہا کہ آگ ممکنہ طور پر سگریٹ یا لائٹر سے لگی تھی۔

جی ایس ایف کے مطابق یہ واقعہ پرتگالی پرچم کے تحت سفر کرنے والی کشتی فیملی بوٹ پر پیش آیا، جس پر گروپ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اراکین بھی سوار تھے۔ حملہ رات 11 بج کر 45 منٹ پر ہوا، اس وقت کشتی پر 6 افراد موجود تھے جنہوں نے مل کر آگ پر قابو پایا۔

تنظیم نے مزید کہا کہ آگ سے جہاز کے مرکزی ڈیک اور ذیلی حصے کو نقصان پہنچا، اور سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیوز میں ایک آتش گیر شے کو کشتی پر گرتے اور دھماکے سے آگ بھڑکتے دیکھا گیا۔ عینی شاہد میگوئل ڈوارٹے نے دعویٰ کیا کہ اس نے کشتی کے اوپر ڈرون کو معلق دیکھا جو بم گرانے کے بعد آگ کا باعث بنا۔

جی ایس ایف کے ترجمان سیف ابو کشیک نے اسرائیل کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ غزہ کے خلاف جاری نسل کشی کی کڑی ہے۔ تاہم تیونس کی نیشنل گارڈ نے وضاحت کی کہ تحقیقات میں کسی بیرونی حملے کا ثبوت نہیں ملا اور آگ کا سبب لائف جیکٹس میں لگی چنگاری تھی۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطین فرانچسکا البانیز، جو فلوٹیلا میں شریک ہیں، نے کہا کہ اگر یہ ڈرون حملہ ثابت ہوا تو یہ تیونس کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہوگا اور یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا نے اعلان کیا ہے کہ مشن ہر صورت جاری رہے گا۔ تنظیم کے مطابق یہ اُن کے اب تک کے سب سے بڑے قافلے میں شامل ہے جس میں 50 سے زائد جہاز اور 44 ممالک کے کارکنان شامل ہیں۔ شرکا میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا اور فرانسیسی اداکارہ ایڈیل ہینیل بھی موجود ہیں۔

ماضی میں بھی فلوٹیلاز نے غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ 2010 میں اسرائیلی فورسز کے حملے میں ترکی کی کشتی ماوی مرمرہ پر 10 کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔ رواں برس بھی کئی جہاز یا تو اسرائیلی فورسز نے روکے یا مبینہ ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔جی ایس ایف کے منتظمین نے کہا کہ جہازوں اور عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے بعد قافلہ دوبارہ غزہ کی جانب روانہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں