غزہ امن معاہدہ اور ”امن بورڈ“ میں شمولیت!

کرکٹ میرا شوق ہے۔ اس کے حوالے سے لکھنا چاہتا تھا کہ درمیان میں ڈونلڈ ٹرمپ آ گئے جو طاقت کے زور پر دنیا کو الٹ پلٹ کرنا چاہتے ہیں، میں نے عرض کیا تھا کہ وہ متلون مزاج ہیں اگرچہ اب اکثر لوگ ان کو دیوانہ بکار خویش ہوشیار کہنے لگے ہیں، وہ ایسے مجنوں ہیں جوبازار سے اینٹیں اٹھا کر پھینکتا ہے تو اپنے ہی گھر میں پھینکتا تھا، اس حوالے سے خصوصی طو رپر غزہ امن معاہدہ اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے اور اب غزہ امن بورڈ کی بھی بات ہو رہی ہے۔ پاکستان میں اس کی مخالفت موجود ہے اور یہ سب دوسرے موقف کو سنے بغیر اور سارے معاہدے کو پڑھے بغیر بھی ہو رہا ہے۔

جہاں تک غزہ کا تعلق ہے تو اس میں کسی شبے کی گنجائش نہیں کہ اسرائیل کی صہیونی حکومت نے توسیعی عزائم کے تحت غزہ کو کھنڈر بنایا اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی۔ اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کو پامال کیا اور امریکی صدر نے برملا اعلان کیا کہ وہ کسی قانون کو نہیں مانتے، ان کے ایسے ہی رویے کی وجہ سے غزہ امن بورڈ کے حوالے سے شبہات موجود ہیں اور ملک میں مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف سمیت اکثر دینی حلقوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرکے حکومت پر تنقید کی، ان سب کا موقف ہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف کی وجہ سے اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ حکومتی ذرائع اور باخبر حضرات حالات حاضرہ کی روشنی میں اس شمولیت کی تائید کرتے ہیں اس سلسلے میں ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ بورڈ میں شمولیت سے پہلے کابینہ تک کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے اس کے لئے تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

اس حوالے سے یہ خبر بھی تھی کہ وزیراعظم نے عوام کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا تاہم جس روز کے لئے ان کے خطاب کی اطلاع تھی اسے گزرے بھی تین روز ہو گئے، حکومت کی طرف سے خاموشی ہے اگرچہ وزیراعظم نے موقف دیا کہ یہ فیصلہ کابینہ کی منظوری سے ہوا۔ معترض حضرات اسے ناکافی سمجھتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی بات کرتے ہیں، اعتراض درست ہے کہ پارلیمانی طرز حکومت ہو یا صدارتی نظام ہر دو صورتوں میں اہم فیصلوں کے لئے پارلیمنٹ ہی حقیقی فورم ہوتا ہے لیکن ایسا ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمام فریق جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کریں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں، حتیٰ کہ جو حضرات یہ مطالبہ کررہے ہیں وہ خود سنجیدگی سے پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے۔ تحریک انصاف کا جہاں تک تعلق اور اب تک کا رویہ ہے اس سے بالکل واضح ہے کہ وہ کسی سنجیدہ مسئلہ پر بحث کی بجائے ایوان کی کارروائی کو متاثر ہی کرنا چاہتے ہیں، اس لئے اگر حساس امور ایوان میں زیر غور لائے جائیں تو تحریک انصاف سے سنجیدگی کی توقع عبث ہے البتہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے خوش فہمی موجود ہے۔

جہاں تک غزہ امن معاہدے اور اب امن بورڈ کا تعلق ہے تو پاکستان کی شرکت کے حوالے سے اکثریتی رائے مثبت ہے اور تمام تر تحفظات کے باوجود یہ شرکت بہتر کہی جا رہی ہے۔میں ذاتی طور پر ٹرمپ امن منصوبے سے کوئی زیادہ توقعات نہیں رکھتا لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگرساتوں اسلامی ممالک اس بورڈمیں شامل نہ بھی ہوتے تو ٹرمپ اور اسرائیل کو کچھ فرق نہیں پڑتا اگرچہ موجود ہ صورت میں نیتن یاہو، جزبز ہو رہا ہے بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے ساتوں مسلم ممالک نے باہم مشاورت سے فیصلہ کیا ہے۔ اس کا کوئی اور فائدہ ہو یا نہ ہو۔ کم از کم یہ تو ہوگا کہ ان ممالک کی وجہ سے فیصلے کسی اعتراض کے بغیر یکطرفہ نہیں ہوں گے اور یہ ساتوں ممالک فلسطینیوں کی آواز ہوں گے، معترض درست کہتے ہیں کہ یہ بورڈ اور اس کے مقاصد ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کی تکمیل ہے جو انہوں نے غزہ کو خود حاصل کرنے کے لئے اعلان کیا تھا اور اب بھی بورڈ کے جو مقاصد ٹرمپ کے داماد نے بتائے دو ہاتھ لگا کر کان پکڑنے کے مترادف ہیں کہ ٹرمپ ہی کے منصوبے کے شکاریوں کے نئے جال سے تعبیر کیا جا رہا ہے تاہم اتنا ضرور ہے کہ فلسطینیوں کا ذکر کئے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے جو بات کی گئی اس میں سے فلسطینیوں کو ”مائنس“ بھی نہیں کیا گیا کہ یہ دعویٰ حقیقت ہے کہ فلسطینی ہزاروں جانیں قربان کرکے اور پورا غزہ کھنڈر بنتے دیکھنے کے باوجود اپنی سرزمین چھوڑنے کو آمادہ نہیں ہوئے اور موسم کی شدت اور سختی برداشت کرکے بھی جانیں ہلکان کررہے ہیں لیکن وطن نہیں چھوڑا، ان تمام تر حالات میں مسلم ممالک کی بورڈ میں موجودگی فلسطینیوں کی آواز ہوگی اور ان کے لئے تعاون بھی ہوگا، جبکہ ”امن بورڈ“ کی ایک شق کے مطابق رضا کارانہ طور پر شامل ممالک،جب چاہیں الگ بھی ہو سکتے ہیں، میرے خیال میں یہ شمولیت درست ہے کہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ فلسطینیوں کی آواز بورڈ میں ہو، جو کسی بھی اہم موقع یا موضوع پر بات کر سکیں،اس لئے شمولیت کو گوارا کرنا ضروری ہے، یوں بھی وزیراعظم کا ارادہ اگر عوام کو اعتماد میں لینے کے لئے خطاب ہی کا ہے تو اسے بھی خوش آمدید کہنا چاہیے کہ اعتراضات کا جواب تو دیا جائے گا۔

میری اس رائے کو مخالفت یا حمایت کے پہلو سے نہ دیکھا جائے بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں پرکھا جائے اگر یہ درست نہیں تو پھر حقائق سے آگاہ کیا جائے اور باقاعدہ تجویز بھی دی جائے کہ پاکستان دو ریاستی حل پر قائم ہے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا بھی حامی نہیں ہے۔ یوں حالات زمانہ میں یہی فیصلہ درست ہے کہ بورڈ کے اندر بیٹھ کر فلسطینیوں کے لئے جو کچھ ہو سکے وہ کیا جائے۔

میں تو پہلے بھی عرض کر چکا اور اب پھر دہراتا ہوں کہ مسلمان ممالک کو اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا لازم ہے بلکہ بہتر عمل دفاعی معاہدوں میں سب کی شمولیت ہے حالات اتنے بھی سادہ اور آسان نہیں کہ آپ چپ سادھے رہیں، اسی طرح ہم پاکستانیوں کو متحد ہونا ہوگا کہ آج ان کی کل ہماری باری والا مسئلہ ہے، دیوار کا لکھا پڑھنا چاہیے۔