غزہ (الجزیرہ) — جنگ بندی کے باوجود آج اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ حماس کی جانب سے مزید 2 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی شناخت کر لی گئی۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ غیر مستحکم جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ وسطی غزہ پٹی کے بریج مہاجر کیمپ کے مشرقی حصے میں ایک شخص اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوا، جبکہ دو فلسطینی مزید ڈرون حملے اور زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کھولنے میں تاخیر برقرار ہے، اور وزیر دفاع نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ اگر جنگ بندی ناکام ہو تو حماس کے خلاف جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔
حماس نے 2 مزید اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں، تاہم باقی لاشوں کو نکالنے کیلئےخصوصی آلات اور امداد کی ضرورت ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 67,938 فلسطینی شہید اور 1,70,169 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک اور تقریباً 200 یرغمال بنائے گئے تھے۔
“غزہ میں صحت کا نظام تباہ”
میڈیکل ریلیف سوسائٹی کے ڈائریکٹر محمد ابو عفاش نے الجزیرہ عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں صحت کی تمام خدمات تباہ ہو چکی ہیں اور کوئی فعال نظام باقی نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غذائی قلت کے مریض اب بھی علاج کے محتاج ہیں۔
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے مطابق ان کے پاس غزہ کے باہر 3 ماہ کی خوراک موجود ہے، مگر اسرائیلی حکام کی جانب سے امدادی سامان لے جانے پر پابندی 7 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کی رات غزہ سے واپس لائی گئی دو قیدیوں کی لاشوں کی شناخت عنبر ہائیمان اور محمد الاطرش کے طور پر کی۔ فوج کے مطابق عنبر ہائیمان 27 سالہ نوا میوزک فیسٹیول میں موجود تھی، جبکہ محمد الاطرش 39 سالہ ایڈوانسڈ اسٹاف سارجنٹ تھے، دونوں 7 اکتوبر کے حملوں میں ہلاک ہوئے۔
اسرائیل نے معاہدے پر عمل درآمد میں جج، جیوری اور ایگزیکیوشنر کا کردار ادا کیا، جبکہ لاشوں کی واپسی کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ موجودہ صورت حال میں خوراک، دوائی، پانی اور بحالی کے سامان کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ملبے ہٹانے اور غزہ میں امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں موجود ہیں، جس کے باعث 10،000 سے زائد فلسطینی ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

