غزہ شہر پر قبضے کا منصوبہ، اسرائیل نے 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا

غزہ/یروشلم (الجزیرہ/نمائندہ خصوصی) — اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کرے گی جبکہ مزید 20 ہزار ریزرو اہلکاروں کی خدمات میں توسیع کی جائے گی۔ فوجی حکام کے مطابق وزیرِ دفاع کاتز نے غزہ کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں کارروائی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جہاں لاکھوں افراد بار بار بے گھر ہو چکے ہیں، محلے کھنڈر بن گئے ہیں اور قحط کے خدشات کے باعث ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے نئے مرحلے میں غزہ شہر اور اطراف میں ’’درست اور اہداف پر مبنی کارروائی‘‘ کی جائے گی، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں پہلے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر زیتون اور جبالیہ کے محلوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔

مقامی رپورٹرز کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے مشرقی غزہ میں گھروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ ڈرونز اور جنگی طیاروں کے مسلسل حملوں نے شہریوں کو خوف اور بے خوابی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک واقعے میں جنوبی علاقے المواسی میں ایک باپ نے اپنے بچے کھو دیے جب اسرائیلی میزائل ان کے خیمے پر گرا۔

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق 20 اگست کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 35 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 10 افراد خوراک کی تلاش میں شہید کیے گئے۔

ادھر، قطر اور مصر کی ثالثی میں امریکا کی حمایت یافتہ نئی کوششیں جاری ہیں، جن میں 60 روزہ جنگ بندی، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے اور امداد کی فراہمی میں اضافہ شامل ہے۔ قطر نے کہا ہے کہ یہ تجویز تقریباً وہی ہے جسے اسرائیل نے پہلے قبول کیا تھا، تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اب تک اس پر کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔

حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے کہا ہے کہ ’’ہم نے معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے دروازے کھول دیے ہیں، سوال یہ ہے کہ آیا نیتن یاہو ایک بار پھر اسے بند کر دیں گے یا نہیں‘‘۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 62 ہزار 64 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں