اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی فورسز کی حراست میں لیے گئے پاکستانی شہریوں، جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں، کی محفوظ اور فوری واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض فورسز کی حراست میں ہیں اور وہ محفوظ و صحت مند ہیں۔ مقامی قانونی ضوابط کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور جب ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی تیز بنیاد پر ممکن بنائی جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی حکومت بیرونِ ملک اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور توقع ہے کہ وطن واپسی کا یہ عمل آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔
اسرائیلی فوج نے یکم اکتوبر کی رات غزہ کی جانب امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر متعدد فلسطین نواز کارکنوں کو حراست میں لیا، جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ بھی شامل تھیں۔ بحری قافلے کو روکنے کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ تمام کارکنوں کو یورپ جلاوطن کیا جائے گا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انہیں کن ممالک بھیجا جائیگا۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل واپس آ چکے پاکستانی شہریوں کی واپسی میں بھی متعلقہ ممالک نے تعاون کیا ہے، جس پر حکومت شکر گزار ہے۔اختتام: پاکستانی حکومت عالمی شراکت داروں کے تعاون سے حراست میں لیے گئے شہریوں کی جلد اور محفوظ واپسی کیلئے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

