غزہ-مصر سرحدی گزرگاہ تاحکمِ ثانی بند رہے گی: نیتن یاہو کا اعلان

قاہرہ/یروشلم (رائٹرز) —اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ تاحکمِ ثانی بند رہے گی، اور اس کی دوبارہ بحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں کب تک حوالے کرتی ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب مصر میں فلسطینی سفارت خانے نے ہفتے کو کہا تھا کہ رفح کراسنگ پیر کے روز غزہ میں داخلے کیلئے دوبارہ کھول دی جائیگی۔ تاہم نیتن یاہو کے تازہ بیان کے بعد صورتحال غیر یقینی کا شکار ہوگئی ہے۔

حماس نے ہفتے کی شب کہا کہ وہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے (1900 جی ایم ٹی) دو مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرے گی۔ اس طرح امریکا کی ثالثی میں طے پانیوالے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت اب تک 28 میں سے 12 لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جاچکی ہیں۔

“اسرائیل کا الزام: حماس لاشوں کی حوالگی میں تاخیر کر رہا ہے”
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے لاشوں کی حوالگی میں تاخیر سے جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کیلئے ایک فریم ورک طے کرنا ہے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 360 فلسطینی جنگجوؤں کی لاشیں واپس کرے گا، بدلے میں ہر ایک اسرائیلی لاش کے بدلے 15 لاشیں حماس کے حوالے کی جائیں گی۔

“رفح کراسنگ مئی 2024 سے بڑی حد تک بند”
رفح سرحدی گزرگاہ مئی 2024 سے زیادہ تر بند ہے۔ حالیہ جنگ بندی معاہدے میں امداد کی فراہمی میں اضافہ بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں روزانہ اوسطاً 560 میٹرک ٹن خوراک داخل کی جا رہی ہے، تاہم یہ اب بھی ضرورت سے کہیں کم ہے۔

رپورٹس کے مطابق، مارچ میں 11 ہفتوں تک تمام سپلائیز مکمل طور پر بند رہنے کے بعد اسرائیل نے جولائی سے امداد میں اضافہ کیا، جسے جنگ بندی کے بعد مزید بڑھایا گیا۔

“امن منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں”
رائٹرز کے مطابق، صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی آئندہ حکمرانی کا تعین، بین الاقوامی “اسٹیبلائزیشن فورس” کی تشکیل اور فلسطینی ریاست کے قیام جیسے اہم معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں