واشنگٹن (رائٹرز)امریکی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کے اختیار کے تحت ایک بین الاقوامی استحکامی فورس (اسٹیبلائزیشن فورس) تعینات کیے جانے کا امکان ہے، جس میں عالمی فوجی دستے شامل ہوں گے اور اس کی تعیناتی ممکنہ طور پر نئے سال کے آغاز میں شروع ہو سکتی ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے کے طریقۂ کار پر تاحال کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔
ڈان اخبار کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک امریکی ٹو اسٹار جنرل کو اس فورس کی قیادت کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں 10 اکتوبر کو عارضی جنگ بندی کا آغاز ہوا، جس کے تحت حماس نے یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیل نے زیر حراست فلسطینیوں کو آزادی دی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے پس پردہ خاموش منصوبہ بندی جاری ہے اور مقصد دیرپا اور مستقل امن کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں صحت اور تعمیر نو سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے 20 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انڈونیشی وزارت دفاع کے ترجمان ریکو سریات کے مطابق یہ معاملہ تاحال منصوبہ بندی اور تیاری کے مرحلے میں ہے اور فورس کے تنظیمی ڈھانچے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بین الاقوامی استحکامی فورس کو اجازت دی ہے کہ وہ نئی تربیت یافتہ اور جانچ پڑتال سے گزرنے والی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی کو مستحکم کرے۔ اس میں غزہ کو غیر فوجی بنانے کا عمل بھی شامل ہے، جس کے تحت عسکریت پسندوں، دہشت گرد عناصر اور ان کے انفرا اسٹرکچر کو ختم کرنا اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر ناکارہ بنانا شامل ہے، تاہم یہ عمل عملی طور پر کیسے نافذ ہو گا، اس پر ابہام برقرار ہے۔
اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل نے فورس کو غزہ کو غیر فوجی بنانے کے لیے ہر ضروری ذریعے، بشمول طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے، جبکہ فورس کے قواعدِ کار پر مختلف ممالک سے مشاورت جاری ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ ثالثوں امریکا، مصر اور قطر نے اس سے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر باضابطہ بات نہیں کی اور فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
ادھر آٹھ مسلم اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت میں مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ بیان پر سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے اور یو این آر ڈبلیو اے کو فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے تحفظ میں ناگزیر قرار دیا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یو این آر ڈبلیو اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔

