غزہ(نیٹ نیوز) فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی افواج کے مسلسل حملوں میں غزہ میں مزید 109 فلسطینی شہید اور 216 زخمی ہوگئے۔جمعہ کے روز کی بمباری میں 93 افراد شہید جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2,985 فلسطینی شہید اور 8,173 زخمی ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک غزہ میں 53,119 فلسطینی شہید اور 120,214 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جو اس انسانی بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے یورپین اسپتال کو حماس کے کمانڈ سینٹر قرار دینے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ برطانوی اور ترک ٹی وی چینلز کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اسرائیل نے جو سرنگ اسپتال کے قریب ظاہر کی، وہ حقیقت میں اسپتال سے کافی فاصلے پر واقع ہے، اور بمباری کا نشانہ بننے والا مقام بھی الگ ہے۔غزہ میں اسرائیلی بنکر بسٹر بموں کے استعمال سے ہولناک تباہی ہوئی، جس کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ”وہاں بہت سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ اگلے ماہ تک غزہ کیلئےبہت سی اچھی چیزیں ہونے جا رہی ہیں۔”غزہ میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، جب کہ مقامی اور بین الاقوامی ادارے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

