قرارداد غزہ کے انتظام میں فلسطینی قومی اتھارٹی کی شمولیت کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا اور نہ ہی دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینیوں کے مستقبل کے تعین میں اس کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے جبکہ قرارداد اسرائیل پر بطور قابض طاقت کوئی واضح ذمہ داریاں بھی عائد نہیں کرتی
غزہ میں جنگ اور عام شہریوں کی مشکلات بہت پہلے ختم ہو سکتی تھیں اگر واشنگٹن نے گزشتہ دو برسوں کے
دوران اُن مسودہ قراردادوں کو چھ مرتبہ ویٹو نہ کیا ہوتا، جن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا
17 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر مبنی امریکی مسودۂ قرارداد پر رائے شماری ہوئی۔ یہ دستاویز 13 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوئی، جب کہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔واشنگٹن کی تیار کردہ اس قرارداد میں غزہ کے انتظام کے لیے “بورڈ آف پیس” نامی ایک ادارہ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے اور ان کے بقول اس میں “دنیا کے سب سے طاقت ور اور باوقار رہنما” شامل ہوں گے۔ اس بورڈ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل اور مصر کے ساتھ مشاورت کے ذریعے بعض “بین الاقوامی استحکامی دستے” تعینات کرے۔ ان دستوں کے ذمہ امن نافذ کرنے سے متعلق فرائض ہوں گے، جن میں غزہ کی پٹی کو عسکریت سے پاک کرنا اور حماس سمیت دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔لیکن غزہ کے انتظام میں فلسطینی قومی اتھارٹی کی شمولیت کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، اور نہ ہی دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینیوں کے مستقبل کے تعین میں اس کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔
اسی طرح، قرارداد اسرائیل پر بطور قابض طاقت کوئی واضح ذمہ داریاں بھی عائد نہیں کرتی، اور فلسطینی علاقوں کے الحاق سے دست برداری اور غزہ سمیت دیگر مقبوضہ علاقوں سے قابض افواج کے انخلا جیسے نکات بھی اس میں شامل نہیں کیے گئے۔غزہ میں قائم کیے جانے والے نئے ڈھانچوں اور نظام پر نگرانی اور جواب دہی کے معاملے میں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ کو عملاً پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی دستوں کی تعیناتی، ان کے قیام اور ان کی ذمہ داریوں کے تعین کے طریقۂ کار میں بھی ان اداروں کے لیے کوئی مؤثر کردار متعین نہیں کیا گیا۔قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ امریکی مسودے کی منظوری دلوانے کے لیے نہایت عجلت اور تقریباً الٹی میٹم کی سی فضا میں کارروائی کی گئی؛ نہ کسی سنجیدہ مشاورت کا اہتمام ہوا، نہ دیگر ارکان کے بنیادی نوعیت کے تحفظات دور کیے گئے، بلکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر خونریزی کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے خدشات کو پسِ پردہ دباؤ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہاں تک کہ روسی فیڈریشن کی جانب سے پیش کیا جانے والا جوابی مسودہ بھی، جس کا مقصد فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون کی متفقہ بنیادوں کی بحالی اور سلامتی کونسل کے اندر موجود اختلافات میں کمی لانا تھا، موجودہ صورتِ حال میں کسی مثبت تبدیلی کا باعث نہ بن سکا۔یہ کہنا ناگزیر ہے کہ اپنی موجودہ صورت میں منظور ہونے والی قرارداد 2803 سلامتی کونسل کو عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے درکار بنیادی اختیارات فراہم نہیں کرتی۔ یہ حقیقی امن پر مبنی اقدامات کی روح اور ان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی فیصلوں کے منافی ہے جو 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور جو اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی پر مبنی بقائے باہمی کے اصول کے تحت رہ سکے۔
روس نے ووٹنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ فلسطینی قومی اتھارٹی کی قیادت کے موقف، متعلقہ عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے امریکی مسودے کی حمایت، اور غزہ میں تشدد اور فوجی کارروائیوں کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا۔یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ غزہ میں جنگ اور عام شہریوں کی مشکلات بہت پہلے ختم ہو سکتی تھیں، اگر واشنگٹن نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اُن مسودہ قراردادوں کو چھ مرتبہ ویٹو نہ کیا ہوتا، جن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ یہ فیصلہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کسی بھی قسم کے بے لگام سیاسی یا عسکری اقدامات کی پردہ پوشی کا ذریعہ نہ بنے، اور نہ ہی فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور اُن کے جائز قومی حقوق پر کسی حتمی فیصلے کا تاثر دے۔ اسی طرح یہ فیصلہ اسرائیلی عوام کی سلامتی اور خطے میں حقیقی پُرامن بقائے باہمی کی امیدوں کو کمزور کرنے کا سبب بھی نہیں بننا چاہیے۔

