غیرت کے نام پر قتل،مقدمات سے بریت کیوں؟

پرنٹ میڈیا میں ایڈیٹر کی حیثیت بہت اہم ہوتی ہے۔ کسی بھی اخبار کے ایڈیٹر نہ صرف اشاعت بلکہ شائع ہونے والے الفاظ کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں،صرف یہی نہیں، یہ حیثیت ایک ادارے اور استاد کی بھی ہوتی ہے۔ جب میں نے صحافت میں قدم رکھا تو اس وقت بھی کہا جا رہا تھا کہ صحافت پر بُرا وقت ہے لیکن اساتذہ کے بقول تو یہ وقت برا تھا ہی تاہم ہم جیسے نو آموز نوجوانوں کے لئے ادارہ ایک درسگاہ اور سینئر حضرات اساتذہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایڈیٹر محبت اور احتساب بھی کرتے تاہم روایات کے پاسدار ہوتے ہوئے سٹاف کے ہر رکن کا تحفظ بھی کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں جب ملک غلام مصطفےٰ کھر اور محمد حنیف رامے باغی ہوئے اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ نمبر6کا ضمنی الیکشن ہو رہا تھا تو ملک غلام مصطفےٰ کھر پیپلزپارٹی کے مقابلے میں امیدوار تھے، ان کا مقابلہ پارٹی کے ایک کارکن شیر محمد بھٹی سے تھا، جو سخت تھا، ملک غلام مصطفےٰ کھر اپنی سابقہ شہرت کا فائدہ اٹھا رہے تھے اور محمد حنیف رامے بلاغت کے جوہر دکھاتے تھے۔ میدان گرم اور مقابلہ سخت تھا، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو براہ راست دلچسپی لے رہے تھے۔ یہ حلقہ شمالی لاہور پر مشتمل تھا جہاں سے پیپلزپارٹی ہی جیتی تھی، میری بیٹ تھی اس لئے ملک غلام مصطفےٰ کھر کے جلسے کور کر کے رپورٹ بھی کرتا تھا۔خبر مطابق خبر ہوتی تھی اور شائع بھی ہوتی تھی۔ ایک روز ایڈیٹر ”امروز“ ظہیر بابر نے بلایا، خبر ان کے پاس تھی، انہوں نے یہ میرے حوالے کی اور کہا کہ دوبارہ لکھ کر فائل کر دو، میں نے دیکھا تو انٹرو کے بعد تین چار سطور کا اضافہ تھا اور ان میں ملک صاحب کے کسی سابقہ عمل کا حوالہ تھا،میں نے ادب سے گذارش کی کہ آپ نے مختصر ترمیم کی ہے تو اسی طرح جانے دیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ”چلو، یہ بھی درست ہے تاہم آئندہ خبر لکھ کر مجھے دکھا لیا کرنا، اس کے بعد یہ ہی ہوتا رہا،میں خبر لکھ کر ان کے پاس لے جاتا وہ اسے پڑھ کر دو تین سطور اضافہ کر کے واپس کر دیتے،خبر میں کوئی ترمیم نہیں ہوتی تھی اور جوں کی توں جاتی۔ ماسوا، ان تین چار سطور کے اضافے کے جو خود ظہیر بابر لکھ دیتے تھے۔یہ سطور ایسی ہوتیں کہ خبر پر اعتراض کا جواب دے دیا جاتا۔کافی عرصہ بعد جب ملک غلام مصطفےٰ کھر پھر سے پیپلزپارٹی میں واپس آ چکے تھے،مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اس انتخابی مہم کی خبروں پر بھی نظر رکھتے تھے اور وہ ناراض بھی تھے، سیدھی خبر کے باعث برہم ہوئے اور محترم ظہیر بابر تک یہ پیغام پہنچا کہ رپورٹ کرنے والے رپورٹر کو فارغ کر دیا جائے۔مرحوم بابر صاحب نے کان نہ دھرا، بلکہ میری ڈیوٹی تک تبدیلی نہ کی تاہم خبر خود دیکھ کر تین چار سطریں اضافہ کر دیتے تھے اور یوں یہ وقت گذر گیا۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس دور میں ہم جونیئر نوجوانوں کی تربیت بھی کی جاتی تھی اور خبر کے حوالے سے یہ ہدایت تھی کہ درست اور حقائق پر مبنی ہونا چاہئے اور جو تحریر کیا جائے اس کی صحت بھی جانچ لی جایا کرے، احتیاط اتنی کی جاتی کہ خبر کی تصحیح کے لئے ہمیں مارے مارے پھرنا پڑتا تھا اور اس کی ذمہ داری بھی لینا ہوتی تھی،چنانچہ اُس دور میں پرنٹ میڈیا کے رپورٹر بہت محتاط ہوتے اور خبر کی تصدیق کے لئے بھاگ دوڑ کرتے پھرتے تھے اور خبر کے تمام پہلوؤں کی تصدیق کر کے خبر فائل کی جاتی تھی،اب وہ دور نہیں اور نہ ہی ویسے ادارے ہیں اِس لئے خبر اور تردید ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔

بلوچستان میں مبینہ مرضی کی شادی اور مبینہ طور پر ناجائز تعلق کی بناء پر مرد اور عورت کے قتل میں بھی یہی پہلو ہیں۔ وڈیو وائرل ہونے کے ساتھ ہی متضاد سلسلے شروع ہو گئے تھے،اس وقت ضرورت تھی کہ بلوچستان سے اس سانحہ کے مختلف پہلوؤں کی تصدیق کی جاتی تو شاید موجودہ صورت حال پیش نہ آتی کہ عورت کی والدہ ایک بیانیے کے ساتھ میدان میں آ کر قتل کو جائز قرار دے رہی ہے اور توقع کے مطابق سردار کو بے گنارہ کہہ رہی ہے غور طلب بات ہے کہ خاتون کی والدہ یہ تو کہہ رہی ہے کہ سردار نے قتل کا حکم نہیں دیا، لیکن یہ تسلیم کرتی ہے کہ فیصلہ جرگہ نے کیا اور جرگہ کی سربراہی سردار نے کی۔میں نے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو دو باتوں کے بارے میں تجسس ہوا۔ایک تو یہ کہ ویڈیو میں صرف عورت کو قتل کرتے دکھایا گیا، مطلوبہ مرد کہیں نہیں تھا۔ دوسرا غور طلب نکتہ یہ تھا کہ خاتون یہ جان کر بھی کہ اُسے قتل کے لئے لایا گیا ہے بڑے حوصلے اور پردے میں چل کر ہدف تک گئی اُس کے پاؤں میں لرزش یا ڈگمگاہٹ نہیں تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاتون اپنے فعل پر صادق تھی اور موت سے خائف نہیں تھی۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جب احتجاج ہوا اور وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا تو پہلے ہی بیان میں جرم کی نوعیت میں نرمی پیدا کر دی گئی تھی،جو غالباً بلوچ روایات کا ہی تاثر تھا۔ وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ مرد و عورت پہلے سے شادی شدہ اور بچوں والے تھے، یوں انہوں نے کم از کم دو کو ناجائز تعلقات کا گناہ گار ٹھہرا دیا تھا اور اب مقتولہ کی والدہ سے بھی اس کی تصدیق کروا دی گئی ہے اب یہ پہلو غیرت کے نام پر قتل کو اُجاگر کر رہا ہے تمام تر احتجاج کے باوجود تفتیش و تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو گا وہ یہی کہ ملزموں نے جرگہ کے فیصلہ کے مطابق غیرت کے نام پر یہ قتل کئے اس طرح کئی عدالتی فیصلے سامنے آئیں گے جن کے مطابق ملزم بری ہوئے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا نے اپنا کردار نبھا دیا اور اب بلوچ روایات اور غیرت کا مسئلہ ہے اور اس طرح جو تحقیق ہو گی اور چالان پیش ہو گا اس کا ابھی سے اندازہ ہو چکا ہے اس لئے بہتر ہو گا کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کے سابقہ مقدمات اور فیصلوں کو مدنظر رکھ کر قانون میں اس پہلو کی تشریح کرائی جائے کہ اس طرح کے قتل بھی قتل عمد شمار ہوں،شاید اسی طرح ایسا عمل رُک جائے اور جو لوگ ”غیرت“ کو جگا کر جائیں، ان کے لئے پہلے سے موجود قانون کے مطابق ہی کارروائی ہو، کوئی خود قانون کو ہاتھ میں نہ لے۔

اپنا تبصرہ لکھیں