ایڈمنٹن( نمائندہ خصوصی) — البرٹا میں کینیڈا کے ساتھ رہنے یا علیحدگی کی جاری بحث نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں “فاریور کینیڈا” کے نام سے ایک نئی شہری پٹیشن باضابطہ طور پر شروع کر دی گئی ہے۔ اس پٹیشن کا مقصد صوبے کی وفاقِ کینیڈا سے وابستگی کو مضبوط بنانا اور علیحدگی کی بڑھتی ہوئی آوازوں کا جواب دینا ہے۔
پٹیشن کو سٹیزن انیشی ایٹو ایکٹ کے تحت سابق ڈپٹی پریمیئر تھامس لوکازوک نے جمع کرایا ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئےمنتظمین کو 28 اکتوبر 2025 تک کم از کم 2,94,000 دستخط درکار ہیں تاکہ اس معاملے کو باقاعدہ عوامی ریفرنڈم کی شکل دی جا سکے۔
ایڈمنٹن میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے دوران درجنوں رضاکار ہاتھوں میں کلپ بورڈز لیے سڑکوں پر نظر آئے۔ اس موقع پر تھامس لوکازوک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”اب یہ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے — اگر ہم متحد رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔”
پٹیشن کی حمایت کرنے والے شہریوں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کو معیشت، سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری قرار دیا۔ شہری ڈینی لارنٹ نے کہا”ہمیں کینیڈا میں ہی رہنا چاہیے، کیونکہ چیلنجز کا سامنا ہم بہتر طریقے سے اکٹھے ہو کر ہی کر سکتے ہیں۔”تقریب میں علیحدگی کے حامی مظاہرین بھی موجود تھے، جنہوں نے زور دیا کہ اصل ضرورت مکالمے کی ہے، نہ کہ صرف ہاں یا ناں پر مبنی فیصلوں کی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ علیحدگی کی حمایت میں ایک اور پٹیشن بھی پہلے ہی قانونی جانچ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اگر “فاریور کینیڈا” کی پٹیشن پہلے مطلوبہ معیار پر پوری اتر جاتی ہے، تو قانون کے مطابق دوسری پٹیشن (جو علیحدگی کے حق میں ہے) خودبخود مسترد ہو سکتی ہے۔
ماؤنٹ رائل یونیورسٹی کی سیاسیات کی پروفیسر لوری ولیمز نے صورتحال کو ایک “قانونی دوڑ” قرار دیتے ہوئے کہا”یہ ایک طرح کی دوڑ ہے، جس میں جو سوال پہلے منظور ہو جائے، وہی باقی تمام راستے بند کر سکتا ہے۔”اگر “فاریور کینیڈا” پٹیشن کو مطلوبہ دستخط حاصل ہو جاتے ہیں تو 2027 کے صوبائی انتخابات سے قبل ایک ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے، جس میں البرٹا کے عوام فیصلہ کریں گے کہ وہ کینیڈا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدہ ہونا۔
البرٹا حکومت نے اس عوامی اقدام پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم یہ واضح کیا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو گی۔یہ پٹیشن محض دستخطوں کی مہم نہیں بلکہ ایک جمہوری عمل ہے، جو البرٹا کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا — اور یہ طے کرے گا کہ کیا صوبہ کینیڈا کا حصہ “ہمیشہ کیلئے” بنا رہے گا یا ایک نئی راہ اختیار کرے گا۔

