پیرس / بیروت(نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں)فرانس کی عدالت نے لبنانی عسکریت پسند جارج ابراہیم عبداللہ کی 41 برس بعد رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ ان کی رہائی کی خبر سے فلسطینی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ فرانس کے سب سے طویل عرصہ قید رہنے والے قیدی سمجھے جاتے ہیں۔
لبنانی مسلح انقلابی بریگیڈ (LARB) کے سابق سربراہ جارج ابراہیم عبداللہ کو 25 جولائی 2025 کو فرانسیسی جیل سے رہا کیا جائے گا۔ فرانسیسی عدالت نے ان کی مشروط رہائی کا فیصلہ سناتے ہوئے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کی ملک بدری کے انتظامات کرے تاکہ رہائی میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
عبداللہ کو 1984 میں فرانس کے شہر اسٹراسبرگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 1987 میں پیرس میں امریکی ملٹری اتاشی چارلس رے اور اسرائیلی سفارت کار یاکوف بارسیمانتوف کے قتل کے الزامات کے تحت انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان پر امریکی قونصل جنرل رابرٹ ہوم کے قتل کی کوشش کا بھی الزام تھا، جس میں بھی انہیں سزا دی گئی تھی۔
عبداللہ کی رہائی کے فیصلے پر فلسطینیوں اور لبنانی مزاحمتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بیروت میں حزب اللہ اور دیگر جماعتوں نے اس فیصلے کو انصاف کی دیرینہ فتح قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر عبداللہ کے حق میں ہزاروں پیغامات اور مبارکبادیں شیئر کی جا رہی ہیں۔
فرانسیسی وزارت انصاف نے عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے عمل کی نگرانی براہ راست وزارت داخلہ کر رہی ہے تاکہ مقررہ تاریخ پر ملک بدری ممکن ہو۔
جارج ابراہیم عبداللہ کی رہائی نہ صرف فرانس بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایک اہم سیاسی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس کے ممکنہ سفارتی اثرات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

