تین سال قبل بھی میرے اس ’عظیم ملک‘ میں بارشوں نے سیلابی کیفیت بنائی اور جانی و مالی نقصان کیا، ابھی تک اس کا ازالہ نہیں ہو پایا کہ اس بار پھر ساون رحمت کی بجائے زحمت بن گیا اور پورے ملک میں تیز بارشوں نے جہاں سیلابی کیفیت پیدا کی وہاں گلیاں، بازار اور سڑکیں بھی تالاب اور ندیاں بن گئیں، ہمارے ماہرین اور اشرافیہ والے بار بار ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں، مساجد میں آج بھی معمول کے مطابق خطبات میں گناہ و ثواب کا ذکر ہوگا اور واعظ مقتدیوں کو بتائیں گے کہ جنت کے کتنے دروازے ہیں اور ان سے گزر کر جانے کے لئے ثواب کی گنتی کرنا ہوگی او ر اس کے لئے کس کس کا احترام اور کون کون سی دعائیں پڑھنا ہوں گی۔ معذرت خواہ کہ اس اظہار پر مجبور ہوں کہ اتنے بڑے نقصان اور غیر فطری موسم کے باوجود ہم اپنے اعمال اور دین محمدیؐ کے اصولوں کی بات نہیں کرنا چاہتے، ہمارے قابل احترام بزرگ بھی ریاست مدینہ کے دور میں اس ریاست کی بنیاد رکھنے والے اللہ کے آخری نبیؐ کی ہدایات اور آگاہی کو نظر انداز کرتے ہیں، آج کے دور میں دنیا میں طوفانوں، سیلابوں اور زلزلوں کی صورت میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ تو انتباہ ہے، اس حوالے سے کم از کم میرے دین نے تو بہت کچھ بتا دیا ہوا ہے اور بعدازاں بزرگان دین نے ان نصائع کو قیامت کی نشانیوں میں شامل کیا ہے۔
اس حقیقت پر تو کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ اسلام دین اور آفاقی ہے۔ اللہ نے ابتدء آفرنیشن سے اب تک اگر خطہ زمین انسان، حیوان اور جانور پیدا کئے تو ان کے رہنے سہنے اور بسنے کے اصول و قواعد بھی مرتب کئے اور یہی بتانے کے لئے پیغمبر بھیجے جاتے، جو گمراہی سے بچانے کی تگ و دو کرتے تھے اور بالآخر اسی رب عظیم نے پھر اپنا دین مکمل کر دیا،اس کے لئے اللہ نے قرآن کریم کی صورت میں بتدریج اپنی کتاب اتاری اور حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی صورت میں آخری نبی بھیجے اور فرمایا دین مکمل ہو گیا۔
مطالعہ قرآن حکیم اور سیرۃ مصطفےٰؐ پر نگاہ ڈالنے اور غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اگر دین کی تکمیل کا کہا گیا تو یہ برحق ہے کہ جو بھی وحی کے نزول کی صورت میں رسول کریمؐ کے توسط سے بتایا گیا اسی میں فلاح ہے اور اس پر عمل ہی سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔ یہ کوئی تصوراتی بات نہیں، ذرا بھی غورکریں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسلام ہر دور اور ہر زمانے کی برائیوں کے خلاف ڈھال ہے اور صریحاً انسانیت کا درس ہے، ہمارے دین نے ہر برائی سے منع کیا، اس کی وضاحت اور پھر سزا بھی بتا دی، اسلام میں سب سے اولیت سچ کو دی گئی اور جھوٹ سے منع فرمایا گیا۔ اس کے بعد احکام در احکام کے ذریعے انسانی معاشرتی زندگی کے لئے راہیں متعین کر دی گئیں اور بتا دیا گیا کہ عمل سے فلاح ہے اور بے عملی کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔
حضورؐ کے فرامین اور ہدایات کی روشنی میں ہر شے واضح ہے، قیامت کی آمد کے بارے میں آگاہی دی گئی تو بتا دیا گیا تھا کہ مسلمان جیسے اعمال پر عمل پیر اہوں گے۔ نتیجہ بھی اس کے مطابق پائیں گے اور پھر یہ بھی بتایاگیا کہ ایک وقت آئے گا جب ریت سیال سونا اگلے گی، ریت میں آسمان کو چھوتی عمارتیں بنیں گی، مسلمان مالامال ہوں گے لیکن عمل سے عاری ہو جائیں گے جس کی بناء پر دشمن غالب آئیں گے، بنی اسرائیل کا ذکر قرآن مجید میں ہے تو ہمارے پیارے رسولؐ نے بھی بتا دیا تھا کہ ایک دور میں مسلمان مالدار توہوں گے لیکن عمل سے گریز کی وجہ سے پسپا ہوں گے اسی حوالے سے فلسطین، مسجد اقصیٰ، دجال کی آمد اور حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد حضرت مسیح کی رونمائی اور قیامت ہو گی، قارئین! اسی سلسلے میں جو نشانیاں بتائی گئیں انہی میں طوفان، سیلاب، زلزلوں اور سیلابوں کا حوالہ بھی موجود ہے اور یہ سب آج ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اور ہم نے آنکھیں بند اور کانوں میں روٹی ٹھونس لی۔
آج کا دور، دورِ جدید ہے سائنس و ٹیکنالوجی عروج پر ہے، عقل سے ماوراء ایجادات سامنے آ رہی ہیں اور انسان اسی رو میں بہہ رہا ہے اور مادیت پر بھروسہ کرتا چلا جا رہا ہے،بلاشبہ ہمارے دین سے علم سے اجتناب کے لئے کسی مقام پربھی کچھ نہیں کہا بلکہ انسان کے لئے نشانیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور انہی نشانیوں کو آج سائنس و ٹیکنالوجی کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے،ایسے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جسم تو موجود ہیں لیکن بے روح ہو چکے ہیں، اللہ اور اس کے انبیاء علیہ السلام کے بارے میں اشتباہ ہر دور میں پیدا کئے جاتے رہے اور اللہ کی قدرت سے ان کا رد ہوتا رہا، پھر تجدید دین کے لئے پیغمبر آتے رہے لیکن اب تو ایسا نہیں،خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دین مکمل کر دیا اور یہ تکمیل آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے ہو گئی اور قیامت تک یہی دین ہو گا اور اس کی پیروی ہو گی۔
معذرت خواہ ہوں، بعض حضرات کو یہ باتیں پسند نہیں آئیں گی،لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا بھر میں ان صفات سے محروم ہو گئے ہیں جو ریاست مدینہ کے دور میں تھیں۔ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو احساس اور اندازہ ہو جائے گا کہ حضورؐ نے جھوٹ سے جتنا منع فرمایا تھا ہم اتنا ہی جھوٹ بولتے ہیں،ہمیں خیانت سے روکا گیا، مگر ہم قبضہ گروپ بن گئے ہیں، ہمیں شفاف تجارت کے لئے کہا گیا اور منافع خوری، ذخیرہ اندوزی سے روکا گیا۔ہم وہی کچھ کر رہے ہیں۔ ہمیں ناجائز کاموں کے حوالے سے سزا کے بارے میں بتایا گیا ہم جائز کو ہی ناجائز بنا دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ باپ، بیٹے، ماں، بیٹی اور بھائی بھائی کو قتل کر دیتا ہے، امانت میں خیانت عام ہے، وہ کون سی برائی ہے جس سے منع فرمایا گیا اور وہ مسلمانوں کے معاشرے میں نہیں۔آج ہم خود پر آنے والی قدرتی آفتوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کے حوالے سے زیر غور اور بحث لا رہے ہیں،لیکن دین کی طرف رجوع نہیں کرتے،غور کریں تو اوزان کی تہ میں سوراخ، گرمی کی شدت، طوفان و سیلاب اور زلزلے ان سب سے آگاہی دی گئی۔ ہمیں اس کے پیش نظر اگر دنیاوی وسائل کو بروئے کار لانا ہے تو پھر توبہ بھی کرنا ہو گی اور وہ سب اعمال ترک کرنا ہوں گے جن سے سے منع فرمایا گیا، سائنس علم ہے اس سے کوئی تصادم نہیں بلکہ یہ تو ہدایت ہی کا راستہ ہے،لیکن اعمال کی درستگی لازم ہے۔ بات مکمل کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ ہم سب کو بلکہ پوری انسانیت کو تائب ہونا اور الٰہی حکام کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔

