دوحہ(ایجنسیاں)قطر نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز راس لفان انڈسٹریل سٹی کو نمایاں نقصان پہنچا اور متعدد مقامات پر آگ کے واقعات پیش آئے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ حملہ ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔حکام نے بتایا کہ ابتدائی طور پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
قطر کی سرکاری انرجی کمپنی نے تصدیق کی کہ تمام ملازمین محفوظ ہیں، تاہم بعد ازاں دیگر ایل این جی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ اور نقصان ہوا۔
راس لفان کمپلیکس دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پیداواری مرکز ہے جو عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے اور یورپ و ایشیاء کی توانائی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
قطر نے ردِعمل میں ایرانی سفارت خانے کے فوجی اور سیکیورٹی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ ایران نے اسرائیلی حملے کے جواب میں خلیجی ممالک کی تیل و گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اور قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اہم توانائی کی تنصیبات کا نام لیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس ریاض میں متوقع ہے جہاں تنازع کم کرنے کے امکانات پر غور کیا جائیگا۔

