قلات: مسافر کوچ پر دہشت گردوں کا حملہ، 3 جاں بحق، 7 زخمی

قلات+کوئٹہ(نمائندہ خصوصی)بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے نیمرغ میں نامعلوم مسلح افراد نے کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔ واقعے کی مذمت صدر، وزرائے اعلیٰ، اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ سطح پر کی گئی ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے علاقے میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قلات کے علاقے نیمرغ میں کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قلات منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کیلئےعلاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ فعل ہے، دہشت گرد ملک کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، مگر قوم کی حمایت سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ حملہ بزدلانہ فعل اور دہشت گردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے شناخت کی بنیاد پر حملے کیے جاتے تھے، اب دہشتگرد عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، یہ حملے ہر پاکستانی کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے کو “فتنہ الہندوستان” سے منسلک دہشت گردوں کی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں پر حملے بزدلی اور سفاکی کی انتہا ہیں، اور بھارتی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گرد تنظیموں کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک وحشیانہ عمل قرار دیا اور کہا کہ دہشت گرد پاکستان کی سرزمین کے لیے ناسور ہیں۔

10 جولائی کو بھی بلوچستان میں کوئٹہ سے پنجاب جانے والی 2 مسافر کوچز سے 9 مسافروں کو شناخت کے بعد اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ژوب اور لورالائی کے درمیان سورڈکئی کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں