لارڈز کرکٹ ٹیسٹ، بھارتی اور انگلستانی ٹیم کا موازنہ!

موضوعات کی کمی نہیں، اردگرد درجنوں مسائل ایسے ہیں جن کے حوالے سے اظہار خیال کیا جا سکتا ہے،تاہم میں نے انگلستان کی لارڈز گراؤنڈ میں انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ہونے والا ٹیسٹ میچ دیکھا کہ ناسازی طبع کے باعث گھر پر کام کرنے پر مجبور ہو گیا تھا بڑا ہی دلچسپ اور اعصاب شکن میچ ہوا، جس نے شائقین کی توجہ بھی مکمل طور پر مبذول رکھی، بالآخر اعصابی کشمکش انگلینڈ کے حق میں اختتام پذیر ہوئی اور یہ تیسرا ٹیسٹ میچ جیت کر انگلینڈ کو تین میچوں میں دو، ایک کی برتری حاصل ہو گئی اور ابھی دو ٹیسٹ باقی ہیں، میں نے عرض کیا کہ موضوعات بہت ہیں، تاہم کرکٹ طالب علمی کے دور ہی سے میری دلچسپی کا باعث رہی، اس لئے اس ٹیسٹ کے حوالے سے کچھ ذکر کرلوں تو بہتر ہوگا۔

ان دنوں دنیاء کرکٹ میں ٹیسٹ میچ سیریز کا سیلاب سا آیا ہوا ہے،جنوبی افریقہ زمبابوے کے دورے پر ہے، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز سے جیت چکی۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش اور سری لنکا کی سیریز ہو گئی تھی اور بھارت انگلینڈ میں ہے، یوں ہر طرف کرکٹ ہی کرکٹ ہے لیکن ہمارے ملک کی ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے کہیں نام نہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہماری تمام تر توجہ ٹی 20پر ہے، ون ڈے اور ٹیسٹ ہمارے لئے کرکٹ ہی نہیں، یوں بھی ہماری کرکٹ کا انتظام اب جن ہاتھوں میں ہے، وہ سب اوپر سے لے کر نیچے تک یا تو اپنی ماہانہ آمدنی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں یا پھر اس سازش میں مصروف ہیں کہ بابراعظم سے موسوم آٹھ کھلاڑیوں پر مشتمل پورے گروپ کو کم از کم پاکستان کرکٹ سے ضرور باہر کر دیا جائے۔ یہ کھلاڑی چاہیں تو لیگ کرکٹ کے این او سی کے لئے ترلے منتیں کرتے پائے جائیں یا پھر اپنا ٹھکانہ بدل لیں اور کسی دوسرے ملک کی پیشکش قبول کرلیں، میرے ملک میں مفادات کا کھیل ہر سو ہے تو کرکٹ کیسے مبرا ہو سکتی ہے، میں اپنے شوق اور قیام پاکستان سے اب تک کرکٹ دیکھنے اور حالات کا مشاہدہ کرنے کی بناء پر بڑے دکھ سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں، خود بورڈکے ذمہ دار اور کھلاڑی ہی اس کے لئے کافی ہیں کہ اب تک اعلان در اعلان کے بعد مجھے تو ایسی کوئی سکیم یا تیاری نظر نہیں آئی جسے عالمی کرکٹ کے مطابق کہا جائے۔ اس کے امور پر یا تو ناتجربہ کار قابض ہیں یا پھر مفاد پرست اجارہ دار، چنانچہ اس کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی۔

قارئین! معذرت کہ بات تو بھارت، انگلینڈ میچ اور سیریز پر شروع کی لیکن دل کے پھپھولے اپنے ملک کے حوالے سے پھوڑنا شروع کر دیئے ہیں اب اس پر بات مکمل کرلیتے ہیں تو ادھر بھی نظر ڈالیں گے۔ ہمارے بورڈ کے امور میں ثبات اک تغیر کو ہے، یہاں کرکٹ اکیڈیمی تو ضرور ہے لیکن اس سے کرکٹ کو کیا فائدہ ہوا اس کا کوئی علم نہیں البتہ اکیڈیمی ڈائریکٹر کا مشاہرہ اتنا ہے کہ ہر ایک کے منہ میں پانی آجاتا ہے، اب جو صاحب قابض ہوئے ان کا ایک ریکارڈ ہے وہ کھیل کا نہیں، لاہور قلندر کا ہے میرے یقین کے مطابق اصل تربیت گاہ یہ اکیڈیمی ہونا چاہیے بشرطیکہ اس کے باقاعدہ کورسز جدید آلات کے ذریعے کھیل کے میدان کی اچھائی، برائی اور دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کے انداز کھیل کی ویڈیوز کے ذریعے سمجھائے جائیں، آج کا دور جدید کرکٹ کا دور ہے جس میں ٹیسٹ میچ میں کم از کم چار رنز فی اوور کی اوسط سے سکور ہوتے ہیں۔ میں ٹی وی پر ماہرین کی گفتگو سن رہا تھا، ان حضرات نے بھارت، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے بات کی اور اعدادوشمار بتا کر ماہرانہ رائے دی کہ آج کے دور میں فاسٹ باؤلروں کا راج نظر آ رہا ہے۔اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی فاسٹ باؤلنگ پر توجہ دینا ہوگی۔ ان ماہرین نے بالکل درست کہا، میں نے بھی کئی بار سوچا کہ عرض کروں، اکیڈیمی کو فعال کیا جائے اور باؤلنگ،بیٹنگ، فیلڈنگ، ضابطہ اخلاق اور فٹنس کے حوالے سے کورسز تیار کرکے باقاعدہ تربیتی کلاسز شروع کی جائیں تاکہ ملکی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ ہمارے ملک میں بھی فاسٹ باؤلنگ کا بہت ٹیلنٹ ہے لیکن ان کی مناسب تربیت اور دیکھ بھال کا انتظام وہ نہیں جو عالمی معیار کے لئے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کرکٹ میں یکایک نوجوان فاسٹ باؤلر سامنے آتے اور چمک دکھا کر غائب ہو جاتے یا کر دیئے جاتے ہیں۔ ایسے درجنوں کھلاڑیوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جن کو سزا دی گئی اور ان کے کیرئیر تباہ کر دیئے گئے، اب حالت یہ ہے کہ ہماری ٹیم، افغانستان سے بھی گئی گزری نظر آتی ہے اور جس کے ہاتھ بٹیر آ جائے وہ خود کو مہاشکاری سمجھ لیتا ہے جیسے ہمارے ٹی 20 کے کپتان سلمان اکبرآٹھ کھلاڑیوں والے گروپ کے مخالفین کے ہتھے چڑھ کر بڑے بول بولنے لگے ہیں، ان کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں ہوتی ہیں۔ اچھا بُرا وقت سب پر آتا ہے،لیکن کھلاڑی اچھے وقت میں تکبر و نخوت یا پارٹی بازی کا شکار ہو جائے تو پھر بُرے وقت میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتاہے، اس یقین کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں کہ عقل و شعور سے کام لیا جائے گا۔

بات بھارت انگلینڈ کے میچ سے شروع کی تھی، یہ سیریز دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی ٹیم ایک مضبوط جزو کی صورت میں سامنے آئی۔شرما اور کوہلی کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ بیٹنگ میں کھلاڑی بالائی درمیانی اور نچلی سطح پر بھی کھیل لیتے ہیں، باؤلنگ میں ورائٹی ہے، بمرا اور سراج کے علاوہ بھی دوچار باؤلر اچھی پرفارمنس کے حامل ثابت ہوئے ہیں، شاید بھارتی کھلاڑیوں پر بھی مودی کے اثرات ہیں کہ زیادہ تر کے انداز تکبرانہ ہیں اور اسی بدولت سراج کو بدتمیزی کے عوض جرمانہ برداشت کرنا پڑا ہے، بھارت کے مقابلے میں انگلینڈ کی باؤلنگ بالکل درمیانہ درجہ کی نظر آتی ہے لیکن کھلاڑیوں کی فٹنس اور تحمل مزاجی اپنی جگہ ایک اہم عنصر ہے جس نے بھارتیوں کے منہ پر اخلاقی تھپڑ رسید کئے، جب سراج نے برطانوی کھلاڑی پر وحشیانہ انداز سے گرجا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا، اسی طرح جب یہ سراج،بشیر کی گیند پر آؤٹ ہو کر رونے لگا تو متعدد برطانوی کھلاڑیوں نے آکر اسے دلاسہ دیا، یوں گورے ان ”سورماؤں“ پر اخلاقی طور پر بھی حاوی رہے۔ جہاں تک انگلینڈ کا دو میچ جیت جانے کا تعلق ہے تو یہ ان کے حوصلے اور سنجیدہ رویے کے باعث ہے کہ ان کی طرف سے کسی بھی لمحے بوکھلاہٹ یا بددلی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، بلکہ زیادہ بلند حوصلے اور تحمل سے میچ جیتے۔ تیسرا ٹیسٹ تو جدیجہ کی حوصلہ مندی کے باعث ہاتھ سے بھی جا رہا تھا اس کے باوجود انگلینڈ کی ٹیم پر گھبراہٹ نہیں تھی اور کپتان نے ٹوٹی ہوئی انگلی والے باؤلر بشیر سے اوور کراکے یہ میچ جیتا، اسی لئے کہا جاتاہے کہ کرکٹ جنٹلمین (شریفانہ) کھیل ہے۔

بات ختم کرنے سے پہلے عرض کروں کہ بمرا اس وقت آئی سی سی رینکنگ میں نمبر1ہے۔ میں نے غور کیا کہ بھارت کی طرف سے اس کے لئے وکٹوں کا خصوصی اہتمام کیاجاتا ہے۔ ابتداء میں چار اوور کے بعد اسے ریسٹ دے کر موقع دیاجاتا ہے کہ وہ ٹیل اینڈرز کو یار کر اور بلاک والی گیندوں سے آؤٹ کرے، اسی لئے ریکارڈ میں آخری کھلاڑیوں کی وکٹیں ہی زیادہ ہیں، ٹاپ آرڈر میں ایک آدھ وکٹ ملتی یا نہیں ملتی۔ اتفاق سے کبھی دو تین حاصل ہوتی ہیں، باقی سب سٹاک ہیں۔ اس کے باؤلنگ ایکشن کی حرکت یہ ہے کہ گیند پھینکتے وقت تک بیٹر کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ بال آؤٹ سوئنگ کے لئے یا اِن سوئنگ کے لئے گھمائے گا کہ ایک ہی ایکشن میں دونوں طرف ہاتھ گھما کر گیند کرنے کی اہلیت ہے اسی باعث وہ کبھی کبھی زور سے بھی گیند پھینکتا ہے جس سے ”جرک“ کا اندازہ ہوتا ہے، ویڈیوز پر غور لازم ہے۔ قارئین! معذرت آج اسی طرف قلم گھوم گیا، باقی مسائل پر بھی بات ہوگی، انشا ء اللہ

اپنا تبصرہ لکھیں