کیلیفورنیا(نامہ نگار)قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، لاس اینجلس نے یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر لاس اینجلس قونصلر کور کے اراکین، امریکی محکمہ خارجہ کے نمائندگان، مقامی سرکاری عہدیداران، کاروباری شخصیات، تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد، تھنک ٹینکس، مسلم ایڈووکیسی تنظیموں، مختلف سرکاری اداروں کے نمائندے، شوبز انڈسٹری کی شخصیات، میئرز اور جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم ممتاز پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے اراکین نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین میں امریکی محکمہ خارجہ کے ریجنل ڈائریکٹر اور کاؤنٹی آف لاس اینجلس کے چیف آف پروٹوکول شامل تھے نے یومِ پاکستان کے موقع پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر قونصل جنرل آف پاکستان” لاس اینجلس”عاصم علی خان نے 23 مارچ 1940ء کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا، جب بانیانِ پاکستان نے لاہور قرارداد منظور کر کے ایک آزاد ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے تحریکِ آزادی کے شہداء اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قائدِاعظم محمد علی جناح کے نظریات سے تجدیدِ عہد کیا۔

قونصل جنرل نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات پر روشنی ڈالی اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ اقدار اور مفادات کو اجاگر کیا۔ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے پاکستان کی خواہش دہرائی کہ پاک-امریکہ تعلقات کو باہمی احترام، باہمی مفاد اور باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر مزید مستحکم کیا جائے۔
پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان جس کی خریداری کی قوت کے لحاظ سے معیشت تقریباً 2 ٹریلین ڈالر ہے اور جو دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ ہے، سرمایہ کاری اور تجارت کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جب کہ آئی ٹی کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
قونصل جنرل نے پاکستان کی حکومت کی مضبوط اقتصادی پالیسیوں، نوجوان اور متحرک افرادی قوت، ابھرتے ہوئے متوسط طبقے، مستحکم انفراسٹرکچر، بہتر ریگولیٹری نظام اور کاروبار دوست ماحول کو امریکہ کے سرمایہ کاروں کیلئے ایک پرکشش موقع قرار دیا۔ انہوں نے امریکی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں، خاص طور پر زرعی شعبے، کان کنی، آئی ٹی اور توانائی کے شعبے جو کہ SIFC فریم ورک کے تحت ترجیحی بنیادوں پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
قونصل جنرل نے شرکاء کو پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے، دلکش قدرتی مناظر اور مہمان نوازی کے تجربے سے لطف اندوز ہونے کیلئے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پاکستان کو تہذیبوں کے سنگم، کاروبار، سیاحت، ایڈونچر اور خطے کا ایک مضبوط رابطہ کار قرار دیا۔
تقریب کے موقع پر ایک مصوری کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ مصور صادقین کے فن پارے نمائش کیلئے پیش کیے گئے۔ صادقین فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سلمان احمد نے اس موقع پر صادقین کے فنِ خطاطی اور مصوری میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ مہمانوں نے پاکستان کے ثقافتی ورثے اور صادقین کے فن پاروں کو بے حد سراہا۔
کیلیفورنیا کی اسٹیٹ ٹریژرر، لاس اینجلس اور آرٹیشیا کے میئرز نے قونصل جنرل کو دو طرفہ دوستانہ تعلقات اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں ان کی کاوشوں پر تعریفی اسناد پیش کیں۔
اپنے اختتامی کلمات میں قونصل جنرل نے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے عزم اور دہشت گردی کے خاتمے کے عہد کو دہرایا۔ انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ترقی و جدیدیت کے راستے پر گامزن رہنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
تقریب میں پاکستان کی ثقافت، موسیقی اور روایتی کھانوں کی جھلک پیش کی گئی، جس سے مہمانوں کو پاکستان کے خوش رنگ اور متنوع ورثے کا بھرپور تعارف حاصل ہوا۔

